’دنیا کی مشہور ترین‘ بلی گرمپی چل بسی

گرمپی کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی
سوشل میڈیا پر اپنی گھُوریوں، غصے اور مخصوص اداؤں کی بدولت شہرت پانے والی بلی ’گرمپی‘ سات برس کی عمر میں چل بسی۔ گرمپی کا اصل نام ٹارڈر سوس تھا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرر کے مطابق ’گرمپی کیٹ‘ کی موت رواں ہفتے ہی ہوئی ہے جس کا اعلان جمعے کو کیا گیا۔ گرمپی کی موت کی وجہ یورین انفیکشن بتائی گئی ہے۔
گرمپی کو شہرت اس وقت ملی جب اس کی مالکن ٹباتھا بنڈیسن کے بھائی نے ستمبر 2012 میں سوشل میڈیا پر اس کی ایک تصویر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔ یہ تصویر صرف 48 گھںٹوں میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھی۔  

گرمپی کو شہرت اس وقت ملی جب اس کی مالکن ٹباتھا بنڈیسن کے بھائی نے ستمبر 2012 میں سوشل میڈیا پر اس کی ایک تصویر شیئر کی
گرمپی کو شہرت اس وقت ملی جب 2012 میں اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی

اس کے بعد گرمپی کو انٹرنیٹ سے اس قدر شہرت ملی کہ اس کی تصاویر میگزین کورز اور ٹی وی اشتہارات میں شائع ہونے لگیں، حتیٰ کہ 2014 میں اس بلی کو لے کر ایک فلم بھی بنی جس کا نام ’ گرمپی کیٹس ورسٹ کرسمس ایور‘ تھا۔ گرمپی اس فلم کی کاسٹ میں شامل تھی۔
گرمپی کی مالکن ٹباتھا بنڈیسن ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس کا کام کرتی تھیں لیکن جب گرمپی کو شہرت ملی تو انہوں نے ملازمت چھوڑ کر اپنا سارا وقت اسی کی دیکھ بھال کے لیے وقف کر دیا۔
2014 کو برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں ٹباتھا بنڈیسن کا کہنا تھا کہ گرمپی کے سوشل میڈیا پر شہرت ملنے کے چند روز بعد ہی انہیں اپنی ملازمت ترک کرنا پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سے ان کے فون کی گھنٹی بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی۔

گرمپی پر ایک فلم بھی بنائی جاچکی ہے
گرمپی پر ایک فلم بھی بنائی جاچکی ہے

بنڈیسن نے اپنی بلی کے نام پر ایک کمپنی ’گرمپی کیٹ لمیٹڈ‘ بھی قائم کی۔ اس کمپنی کے تحت ٹی شرٹس، سویٹرز، مگ، فون کیسز اور کیلنڈر تیار کیے جاتے جن پر بلی کی تصویر ہوتی تھی۔
بنڈیسن سے متعلق یہ افواہ بھی گرم تھی کہ گرمپی کی بدولت انہوں نے لاکھوں ڈالرز کمائے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 2014 میں ان کے پاس 99 ملین ڈالرز آ چکے تھے تاہم بنڈیسن نے ان رپورٹس کی تردید کی۔
گرمپی کی مالکن کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری اور اس کے مداح ہر جگہ موجود ہیں۔
گرمپی کی موت پر اس کے چاہنے والے بہت افسردہ ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار بھی کیا ہے۔
گرمپی کی یاد میں ٹویٹر پر ’گرمپی کیٹ‘ کے ہیش ٹیگ سے ایک ٹرینڈ بھی چلا جس میں انٹرنیٹ صارفین اور گرمپی کے مداحوں نے اس کی یاد میں ٹویٹس کیے۔
ریچل ہاکنز نامی ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ 'گرمپی کی موت پر میں اس کے اعزاز میں ایک دن گرمپیئر کی حیثیت سے گزاروں گی۔'
ایک طالبا آئیسر بیلا نے لکھا کہ 'میں آج گرمپی کی موت پر کلاس میں رونے لگی ہوں, تم آخرت میں سکون سے رہو۔'
ایک اور صارف لائنا نے لکھا کہ ’گرمپی تمہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔'
شٹی واٹر کلر نامی ٹویٹر ہینڈل نے لکھا کہ ’ گُوڈ بائی گرمپی کیٹ‘۔

شیئر: