اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک، عید کے بعد حکومت مخالف احتجاج کا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد تمام اپوزیشن جماعتیں پارلیمان کے اندر اور پارلیمان کے باہر حکومت کے خلاف احتجاج کا آغاز کریں گی۔ 
اتوار کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے عید کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کیا ہے جس میں حکومت کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ 
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی ایک فرد یا جماعت ان کا حل نہیں نکال سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ تفصیلی بات کرنے کا موقع ملا اور 
ملاقاتوں کا سلسلے جاری رکھا جائے گا۔ مل بیٹھ کر پاکستان کے عوام کے دکھ درد کے بارے میں بات کر کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔
مسلم لیگ نواز کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہو چکی ہے اور جولائی 2018 کے ’متنازعہ ترین‘ الیکشن کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ متنازعہ الیکشن ملک کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن کی جماعتیں مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں اے پی سی بلا کر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ 



اپوزیشن رہنماؤں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد اے پی سی بلا کر حکومت مخالف احتجاج کی سٹریٹیجی طے کریں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں نام نہاد احتساب کی بات نہیں ہوئی بلکہ ملک اور عوام کے مسائل پر گفت گو ہوئی۔  مولانا فضل الرحمن نے بھی اس موقع پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان ہے۔   
مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے میثاق جمہوریت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے ملکی تاریخ میں دو جمہوری حکومتوں نے اپنے ٹرمز پوری کیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو مسلم لیگ نے گرانے کی کوشش نہیں کی اور اس کے بعد جمہوری حکومت نے اگلی حکومت کو اقتدار سپرد کیا۔
میثاق جمہورت اب بھی پاکستان کے لیے اہم ہے اور ہم اس میں اضافہ بھی کریں گے۔

مریم نواز شریف نے صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ سول بالادستی کے بیان پر قائم ہیں۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ملکی معاملات کو آئین کے مطابق چلانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پر عملدرآمد کے بغیرریاست چل نہیں سکتی۔  داوڑ نے کہا کہ حقیقی جمہوری پاکستان کے لیے تمام جماعتیں اکھٹی ہیں۔  
 بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں دیے جانے والے افطار ڈنر میں مسلم لیگ نواز، جمعیت علماء اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، پی ٹی ایم اور قومی وطن پارٹی کے رہنما شریک ہوئے۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ اآفتاب شیرپاؤ، اے این پی کے رہنما افتخار حسین، بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر حاصل بزنجو اور دیگر نے بھی میڈیا سے گفت گو کی۔ 
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپوزیشن پارٹیوں کے اعزاز میں دیے جانے والے دعوت افطار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی سیاسی جانشین مریم نواز کا پارٹی کی نائب صدر مقرر ہونے کے بعد پہلی اہم سیاسی سرگرمی ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز شریف کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر گفت گو کے لیے ملاقات ہوئی ہے۔

مسلم لیگ نواز کا وفد شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں شرکت کی

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما، رکن قومی اسمبلی رومینا خورشید عالم نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا تھا کہ ’بلاول کی جانب سے مریم کو افطار کی دعوت اہم ہے کیونکہ مریم اور بلاول دونوں ملک کے اہم سیاسی جماعتوں کے لیڈرز ہیں۔‘
خیال رہے پاکستان مسلم لیگ کی قیادت بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے معاملے پر پیر کو مل رہی ہیں۔
گذشتہ جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز اور مسلم لیگ کے دوسرے رہنماؤں سے ملاقات ہوئی تھی جس کے دوران انہوں نے پارٹی لیڈران کو عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کی اجازت دے دی تھی۔

 بلاول بھٹؤ زرداری کی دعوت پرہونے والےافطار ڈنر میں حکومت کے خلاف بڑھتی مہنگائی اور معاشی بحران پر تحریک چلانے پر غور کیا گیا ۔ فوٹو: پی پی پی میڈیا سیل

مقامی میڈیا کے مطابق مجوزہ تحریک کا مرکزومحور معاشی بدحالی، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی ہو گا۔
بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پرہونے والےافطار ڈنر میں حکومت کے خلاف بڑھتی مہنگائی اور معاشی بحران پر تحریک چلانے پر غور کیا گیا۔ 
پارٹی کے اہم رہنما سینیٹر پرویز رشید نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا کہ مسلم لیگ نواز کا اجلاس پیر کو طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کا مقصد لوگوں کے مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔  انہوں نے کہا کہ پیر کی میٹنگ کے بعد وہ میڈیا کو آگاہ کریں گے کہ مسلم لیگ نواز کیا کرنے جارہی ہے۔
جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی حالیہ دنوں میں حکومت کے خلاف عید کے بعد تحریک چلانے کا عندیہ دے چکی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت کے خلاف معیشت کے معاملے پر تحریک چلانے کے لیے کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ نواز پر الزام لگایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دور حکومت میں معاشی ترقی کے سٹنٹ کیے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کا ’جنازہ‘ پڑھانے کے بعد وہ اب ملک کے عوام کا تیل نکالنا چاہتے ہیں۔

شیئر: