'بحرین اقتصادی کانفرنس کے لیے فلسطین سے مشاورت نہیں کی گئی‘

کانفرنس کا مقصد  صدر ٹرمپ کی مجوزہ مشرق وسطی امن منصوبے کی معاشی پہلوں کو اجاگر کرنا ہے۔
فلسطینی قیادت نے کہا ہے کہ ان سے امریکہ کے مجوزہ مشرقِ وسطی امن منصوبے کی حمایت میں اگلے مہینے بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس کے لیے مشاورت نہیں کی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاوس کی جانب سے اتوار کو اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ بحرین کے دارلحکومت میں جون 26-25 کو ہونے والی کانفرنس کی بحرین کے ساتھ مشترکہ  میزبانی کرے گا۔
اس کانفرنس کا مقصد  صدر ٹرمپ کی مجوزہ مشرق وسطی امن منصوبے کی معاشی پہلوں کو اجاگر کرنا ہے۔
تنظیم آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل صائب اراکات نے ایک بیان میں کہا، ’ہم سے کسی پارٹی نے بحرین کے شہر مناما میں ہونے والے اجلاس سے متعلق رابطہ نہیں کیا اور نا ہی ہم نے کسی پارٹی کواپنی جانب سے بات چیت کرنے کے لیے بھی مینڈیٹ  دیا ہیں۔‘
خیال رہے جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروشلم کو اسرائیل کادارلحکومت تسلیم کیا ہے تب سے فلسطینوں نے ٹرمپ انڈمنسٹریشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

ایک فلسطینی خاندان اپنے تباہ شدہ گھر کے قریب روزہ کھول رہی ہے۔ تصویر: اے ایف پی

فلسطینی یروشلم کو اپنے مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت مانتے ہیں اور امریکہ کے امن منصوبے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے مفاد میں ہو گا۔
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جون میں مجوزہ امن منصوبہ کو دنیا کے سامنے لائے گی۔
امریکہ اوربحرین کی جانب سے اتوارکو جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ اقتصادی کانفرنس خیالات کے تبادلے اور سرمایہ کاری پر بات چیت کے لیے اہم تقریب ہوگی۔
تاہم فلسطینیوں کی نظرمیں یہ کانفرنس اسرائیلی قبضے کوقبول کرنے کے بدلے کی پیشکش کی حیثیت رکھتی ہے۔
اراکات کا کہنا تھا کہ فلسطینی چاہتے ہیں کہ اسرائیلی کا قبضہ ختم ہو، نہ کہ قبضے میں رہتے ہوئے ہی فلسطینیوں کا طرز زندگی بہتر ہو۔
فلسطین کے ایک مقبول تاجر بشر المصری کا کہنا تھا انہوں نے کانفرنس کی دعوت مسترد کردی۔
’اقتصادی امن ایک پرانا خیال ہے جسے نئے ڈھنگ کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ ہمارے لوگوں نے اسے پہلے بھی مسترد کیا ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔‘

شیئر: