’جنسی طور پر ہراساں کیا‘، نوعمر اتھلیٹ کی شکایت پر انڈیا کے شوٹنگ کوچ کے خلاف مقدمہ
جمعرات 8 جنوری 2026 11:32
پولیس کے مطابق واقعہ دہلی میں ہونے والے شوٹنگ ایونٹ کے بعد پیش 16 دسمبر کو پیش آیا تھا (فائل فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام)
انڈیا میں قومی شوٹنگ کوچ کے خلاف 17 سالہ خاتون شوٹر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قومی شوٹنگ کوچ انکش بھردواج پر قومی لیول کی 17 سالہ شوٹر نے فرید آباد میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا، جس کے بعد ہریانہ پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’یہ واقعہ 16 دسمبر 2025 کو اس وقت پیش آیا جب ساؤتھ دہلی میں واقع ڈاکٹر کرنی سنگھ شوٹنگ رینج میں ہونے والے مقابلے میں نیشنل لیول کی اتھلیٹ نے حصہ لیا تھا۔‘
رپورٹ کے مطابق ’شکایت کرنے والی اتھلیٹ کا کہنا ہے کہ انکش بھردواج نے ان کو سورج کند کے ہوٹل میں ملاقات کے لیے بلایا اور کہا تھا کہ ان کی کارکردگی کے حوالے سے بات کرنا ہے۔’
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کوچ نے نوعمر اتھلیٹ کو پہلے لابی میں ملنے کا کہا مگر بعد میں کمرے میں بلایا تاکہ آرام سے بات ہو سکے جہاں انہوں نے مبینہ حملہ کیا۔‘
شکایت کنندہ اتھلیٹ کا کہنا ہے کہ کوچ انکش بھردواج نے انہیں دھمکی دی کہ اگر واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو وہ ان کا شوٹنگ کیریئر تباہ کر دیں گے اور فیملی کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔
متاثرہ کھلاڑی کی والدہ کی جانب سے شکایت کے بعد فرید آباد کے ویمن پولیس سٹیشن نے ان کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکشوئل آفینسز (پوکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
فرید آباد پولیس کے افسر تعلقات عامہ یشپل یادو کا کہنا ہے کہ معاملے کی نزاکت کے باعث ہوٹل کی انتظامیہ کو سی سی ٹی وی فوٹیج مہیا کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ کئی افسران کو فرانزک اور الیکٹرانک شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔
ہوٹل انتظامیہ اور دوسرے گواہان کے بیان کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کوچ سے جلد ہی پوچھ گچھ کی جائے گی اور تمام متعلقہ شواہد کو محفوظ کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف انڈیا کے سیکریٹری جنرل پون کمار نے کہا ہے کہ فیڈریشن کو میڈیا رپورٹس کے بعد واقعے کا علم ہوا اور انکوائری مکمل ہونے تک کوچ کو عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔
