’سکینڈل کا مقصد چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے‘

نیب کے مطابق چئیرمین کے خلاف چلنے والی خبر حقائق کے منافی اور من گھڑت ہے
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے گذشتہ روز ایک نجی چینل پر چیئرمین نیب کے حوالے سے نشر ہونے والی ایک ویڈیو ٹیپ کی سختی سے تردید کی ہے۔
نیب نے اپنی ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینل پر چیئرمین نیب کے خلاف چلنے والی خبر حقائق کے منافی، من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ ہے۔
نیب نے مزید کہا ہے کہ ’یہ ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے جس کا مقصد ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ تاہم نیب نے تمام دباؤ اور بلیک میلنگ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس گروہ کے دو افراد کو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ریفرنس کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔‘
نیب کے مطابق ’اس گروہ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں 42 ایف آئی آرزدرج ہیں جن میں بلیک میلنگ، اغوا برائے تاوان، عوام کو لوٹنے اور نیب اور ایف آئی کے جعلی افسر بن کر سرکاری اور پرائیویٹ افراد کو لوٹنے کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں۔‘

نیب کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز
نیب کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے یہ خبر بلیک میلنگ کر کے نیب ریفرنس سے فرار کا راستہ ہے۔
خیال رہے کہ نیب کی جانب سے یہ تردید گزشتہ روز ایک نجی چینل نیوز ون پر چلنے والی ایک ویڈیو کے بعد کی گئی ہے جس میں مبینہ طور پر چیئرمین نیب جاوید اقبال کو ایک خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
نیب کے مطابق نجی چینل نے اپنی خبر کی تردید اور اسے حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب سے دل آزاری پر معذرت کی ہے جو کے صحافت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال گذشتہ چند روز سے کالم نگار جاوید چوہدری کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد سے ناقدین کے نشانے پر ہیں۔
ان کے اس انٹرویو پر پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے دو روز قبل کہا تھا کہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
چئیرمین نیب کے بارے میں خبر نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔
صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ہمارا میڈیا کمزور کے مقابلے میں طاقتور اور بااختیار کا کیسے ساتھ دیتا ہے ؟ دیکھنا ہو تو ٹی وی چینلز کی چیئرمین نیب کے بارے میں متاثرہ خاتون کے الزامات اور اس پر نیب کے جواب کی کوریج دیکھ لیں۔ ہم ملزم کو ہیرو اور متاثرہ کو مجرم بیان کررہے ہیں۔‘
ایک ٹویٹر صارف طارق محمود ملک نے لکھا کہ ’یہ چئیرمین نیب کے متعلق ایک بڑا سکینڈل ہے، یہ پورے نظام کو ہلا کر رکھ دے گا۔‘
گل آفریدی نے ٹویٹ کیا کہ ’چئیرمین نیب مضبوط رہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ کرپٹ مافیا سے لڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اُمید ہے کہ آپ اسی جذبے، خلوص اور حوصلے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔‘

شیئر: