’ایچ آئی وی جان لیوا نہیں،متاثرہ شخص نارمل زندگی گزار سکتا ہے‘

ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے لیے ایک بچے کے خون کا نمونہ لیا گیا (فوٹو، اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر لاڑکانہ سے 30 کلومیٹر دور رَتوڈیرو اور اس سے ملحقہ دیہات میں ایڈز کا مرض وبائی صورت اختیار کر چکا ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے خاصی تشویش پائی ہے مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس جان لیوا نہیں اس کا علاج ممکن ہے اور متاثرہ شخص بھی دیگر افراد کی طرح معمول کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے۔
اس وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں اور گاؤں میں رہنے والوں کے لئے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایچ آئی وی یا ایڈز صرف جنسی تعلقات سے منتقل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے بیشتر افراد سکریننگ سے کتراتے ہیں کہ اگر ٹیسٹ مثبت آیا تو لوگ ان پر الزام لگائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ وائرس خون کی منتقلی یا متاثرہ سرنج کے دوبارہ استعمال سے بھی پھیلتا ہے۔

ایڈز کے حوالے سے دیہاتوں میں آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے
ایڈز کے حوالے سے دیہات میں آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔

 ڈاکٹر سکندر نے بتایا کہ ایڈز کی آگاہی مہم کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات لی جا رہی ہیں جو مختلف دیہات میں جا کر لوگوں کو اس بارے میں معلومات فراہم کر رہی ہیں کہ ساتھ بیٹھنے، بات چیت کرنے، ساتھ کھانا کھانے حتیٰ کہ متاثرہ شخص کے کپڑے استعمال کرنے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔
رَتوڈیرو میں جنرل فزیشن ڈاکٹر عمران اکبر نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی فرد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو تو اسے انفیکشن سے بچنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہئے کہ اسے کوئی کٹ یا زخم نہ لگے۔ بچوں میں اس وائرس کی موجودگی سے ان کی قوت مدافعت کم پڑ جاتی ہے لہذا ان کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انفیکشن اور ایڈز میں فرق ہوتا ہے اور صرف انفیکشن جان لیوا نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عمران کا کہنا تھا دوا اور احتیاط سے وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اس وائرس کا شکار فرد نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق دوا اور احتیاط سے وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
ڈاکٹرز کے مطابق دوا اور احتیاط سے وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے 

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام سے منسلک ڈاکٹر سید محمد شیخ نے بھی اس بات کی تائید کی اور کہا کہ اگر بر وقت تشخیص ہو جائے او ادویہ کا باقائدگی سے استعمال کیا جائے تو ایچ آئی وی سے بچاؤ ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خون کی منتقلی اورعلاج کے دوران احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے،کوشش کرنی چاہیے کہ مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی آپریشن اورعلاج کروایا جائے۔
لاڑکانہ میں چلڈرن ایڈز سنٹر کے ڈاکٹر اللہ بخش نے بتایا کہ 18 ماہ سے بڑے بچوں کے لئے اس وائرس کا علاج موجود ہے، اور ساتھ ہی ساتھ دیگر بیماریوں سے بچاؤ کا ٹریٹمنٹ بھی کیا جاتا ہے تا کہ قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے کوئی اور بیماری حملہ آور نہ ہوسکے۔

بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی سے ان کی قوت مدافعت کم پڑ جاتی ہے
بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی سے ان کی قوت مدافعت کم پڑ جاتی ہے 

نہ صرف یہ بلکہ اس وائرس سے متاثرہ حاملہ عورتوں کا بھی علاج ممکن ہے جس کے ذریعے نو مولود بچوں میں وائرس کی منتقلی کو روکا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے لاڑکانہ میں مرکز قائم ہے جہاں ڈاکٹر انیلہ سراج ایڈز کا شکار حاملہ عورتوں کا علاج کرتی ہیں۔
ڈاکٹر انیلہ سراج  کہتی ہیں کہ جنسی تعلق کی وجہ سے عورتوں میں وائرس کی منتقلی ہوتی ہے خصوصاً ان خواتین میں جن کے شوہر کام کاج کی غرض سے ملک سے باہر جاتے ہیں۔
ڈاکٹر انیلہ نے بتایا کہ وہ ہسپتال آنے والی ہر حاملہ عورت کو تجویز کرتی ہیں کہ وہ ایڈز کا ٹیسٹ کروا لے تاکہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کی بر وقت تشخیص کر کے مرض کی بچے میں منتقلی کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ وہ محفوظ جنسی تعلق کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کرتی ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کا علاج ممکن ہے
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کا علاج ممکن ہے

لاڑکانہ اور رَتوڈیرو میں ڈاکٹروں نے ایڈز سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے میڈیا کے کردار کو بھی سراہا،ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی وجہ سے لوگوں میں اس مرض سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بار سکریننگ کیمپس میں خواتین نہ صرف خود بلکہ بچوں کو بھی لے کر آ رہی ہیں۔

شیئر: