'چیئرمین نیب نہ دباؤ میں ہیں اور نہ استعفی دے رہے ہیں'

مسلم لیگ نواز نے مبینہ ویڈیو کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا اعلان کیا ہے
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چئیرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے حوالے سے ایک مقامی ٹی وی چینل پر چلنے والی ویڈیو کے بعد ان پر اپوزیشن کی جانب سے دباو مزید بڑھ گیا ہے، مگر انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم نے کہا ’چئیرمین نہ کسی کے دباؤ میں ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب قیاس آرائیاں چل رہی ہیں‘
اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس ویڈیو کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس میں چیئرمین نیب کو مبینہ طور پر ایک خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔
نیب کے ترجمان نے کہا کہ ویڈیو سکینڈل کی مرکزی کردارطیبہ خاتون اور اس کے شوہر نے چارسو افراد کے ساتھ فراڈ کیا ہے، جنہوں نے جمعہ کو لاہور میں پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن نے معاملے کی پارلیمنٹ کی سطح پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے تو نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اورپارلیمنٹ کی کارروائی کے حوالےسے وہ تبصرہ نہیں کر سکتے۔

نیب نے ایک پریس ریلیز میں ویڈیو ٹیپ کی سختی سے تردید کی تھی۔ تصویر:اے ایف پی

اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ نواز کے سینئیر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے ویڈیو کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں سوموار کو ان کی پارٹی کے پارلیمانی رہنما خواجہ آصف ایک قرارداد پیش کریں گے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ پارلیمانی ضوابط کے سیکشن 246-B کے تحت ایک سپیشل کمیٹی تشکیل دیں جو اس معاملے کی تحقیق کرے۔
’یہ کمیٹی تحقیق کرے کہ ویڈیو کے معاملے میں جو کردار ملوث ہیں چاہے وہ وزیراعظم ہوں، سپیکر ہوں چئیرمین نیب ہوں یا ٹی وی چینل اور پیمرا ہوں ان کا قصورعوام کے سامنے لائےـ‘
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سب سے بڑا ایوان ہے جس کا حق ہے کہ وہ اس قومی نوعیت کے سنگین مسئلے پر فوری تحقیقات کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت احتساب سے بھاگنا نہیں چاہتی تو پھر وہ اس کمیٹی کے قیام کی مخالفت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف سب کا حق ہے اور جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو وہ معصوم ہے اور اگر چئیرمین نیب اس معاملے میں قصور وار ہوئے تو کمیٹی یہ بات عوام کے سامنے لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ معاملہ اہم ہے جس میں نیب کا ادارہ ملوث ہے وزیراعظم کا دفتر ملوث ہے اوران کے مشیر ملوث ہیں‘ 
دوسری طرف اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پارلیمانی سطح پر چئیرمین نیب کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے پارٹی رہنما اور سابق چئیرمین سینٹ نیئر بخاری نے کہا کہ چئیرمین نیب کا رویہ بھی متنازعہ رہا ہے اور کار کردگی بھی۔

 پیپلز پارٹی نے بھی پارلیمانی سطح پر چئیرمین نیب کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تصویر: اے ایف پی

 اس بارے میں انہوں نے کہا ’ہم نے اس ویڈیو سے پہلے بھی چئیرمین نیب سے استعفی کا مطالبہ کیا تھا کیوں کہ ان کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا تھا اور بیوروکریسی کام کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اس معاملے پر پیپلز پارٹی سمجھتی ہے پہلے معاملے کی تحقیق ضروری ہے’
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کو اب تک معاملے کا نوٹس لےکرتحقیقات کا آغازکردیناچاہیےتھا۔
نئیر بخاری کے مطابق تحقیقات کے بعد اگر چئیرمین نیب کا قصور ثابت ہو جاتا ہے تو ان کو استعفی دینا چاہیے ورنہ دوسری صورت میں ویڈیو چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔
گذشتہ روز بھی نیب نے ایک پریس ریلیز میں ویڈیو ٹیپ کی سختی سے تردید کی تھی۔ پریس ریلیز کے مطابق نجی ٹی وی چینل پر چیئرمین نیب کے خلاف چلنے والی خبر حقائق کے منافی، من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا ہے۔ نیب نے مزید کہا تھا کہ ’یہ ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے جس کا مقصد ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ تاہم نیب نے تمام دباؤ اور بلیک میلنگ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس گروہ کے دو افراد کو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ریفرینس کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔‘

اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے چیئرمین نیب کی ویڈیو کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تصویر: اے ایف پی

نیب کے مطابق اس گروہ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں 42 ایف آئی آرزدرج ہیں جن میں بلیک میلنگ، اغوا برائے تاوان، عوام کو لوٹنے اور نیب اور ایف آئی کے جعلی افسر بن کر سرکاری اور پرائیویٹ افراد کو لوٹنے کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے یہ خبر بلیک میلنگ کر کے نیب ریفرنس سے فرار کا راستہ ہے۔
نیب کے مطابق نجی چینل نے اپنی خبر کی تردید اور اسے حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب سے دل آزاری پر معذرت کی ہے جو کے صحافت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال چند روز سے کالم نگار جاوید چوہدری کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد سے ناقدین کے نشانے پر ہیں۔
ان کے اس انٹرویو پر پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے دو روز قبل کہا تھا کہ وہ چئیرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ '

شیئر: