Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عروج، زوال اور پھر عروج: مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی کا ملیر سے گورنر ہاؤس سندھ تک کا سفر

نہال ہاشمی صوبہ سندھ میں وفاق کے نمائندے (گورنر) کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب میں انہوں نے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر صوبہ سندھ میں وفاق کے نمائندے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
گورنر ہاؤس کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد کردہ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی حلف برداری کی تقریب جمعے کو منعقد ہوئی جس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے نہال ہاشمی سے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف لیا۔
اس موقعے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر سعید غنی، سینیٹر وقار مہدی، ترجمان برائے وفاق راجہ انصاری، علی اکبر گجر سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ 
کراچی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی بھی ان سیاست دانوں میں شمار کیے جاتے ہیں جن کا سیاسی کیریئر کئی نشیب و فراز سے گزرتا ہوا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انہیں سندھ کا نیا گورنر مقرر کرنے کی سمری صدر پاکستان کو بھجوائے جانے کے بعد نہال ہاشمی ایک بار پھر ملکی سیاسی منظرنامے کے مرکز میں آئے۔

سنہ 2012 میں نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) کراچی کا صدر مقرر کیا گیا (فائل فوٹو: پی ایم ایل این)

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موجودہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا تعلق اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان سے ہے اور پارٹی کے ترجمان کے مطابق انہیں اس فیصلے کے بارے میں میڈیا کے ذریعے علم ہوا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اس معاملے پر جلد لائحہ عمل دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
کراچی سے سیاست کا آغاز
نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے، وہ گزشتہ کئی برس سے کراچی کے علاقے ملیر میں رہائش پذیر ہے، ایک ایسا شہر جہاں کی سیاست روایتی طور پر پیچیدہ اور کثیر الجماعتی رہی ہے۔ کراچی میں طویل عرصے تک شہری سیاست پر ایم کیو ایم کا غلبہ رہا جبکہ مسلم لیگ (ن) نسبتاً محدود سیاسی اثر رکھتی تھی۔
ایسے ماحول میں نہال ہاشمی ان چند رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے شہر میں پارٹی کی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
پارٹی کے اندر انہیں ایک سرگرم اور جارحانہ انداز کے مقرر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نہال ہاشمی کی سیاست کا بنیادی محور پارٹی قیادت سے وفاداری اور قانونی و آئینی معاملات پر جارحانہ موقف اختیار کرنا رہا ہے۔
نواز شریف کے دور میں اہم ذمہ داری
نہال ہاشمی کا سیاسی عروج اس وقت نمایاں ہوا جب وہ سنہ 1997 سے سنہ 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانون و انصاف رہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلم لیگ (ن) اپنی طاقت کے عروج پر تھی اور مرکز میں مضبوط حکومت قائم تھی۔
اس عرصے میں نہال ہاشمی پارٹی کے ان رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جو قانونی اور آئینی معاملات پر حکومتی موقف کی بھرپور حمایت کرتے تھے۔
سنہ1999  میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد ملکی سیاست کا منظرنامہ تبدیل ہو گیا اور مسلم لیگ (ن) کو بھی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں پارٹی کے کئی رہنما منظر سے اوجھل ہو گئے یا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئے، تاہم نہال ہاشمی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔
کراچی میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش
سنہ 2012 میں نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) کراچی کا صدر مقرر کیا گیا۔ اس وقت پارٹی کی کوشش تھی کہ وہ کراچی جیسے بڑے شہر میں اپنی سیاسی جگہ دوبارہ حاصل کرے۔

سنہ 1997 سے سنہ 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانون و انصاف رہے (فائل فوٹو: فیس بک، نہال ہاشمی)

نہال ہاشمی نے اس ذمہ داری کے دوران شہر میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اگست 2014 میں انہیں مسلم لیگ (ن) سندھ چیپٹر کا جنرل سیکرٹری بنایا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ میں مسلم لیگ (ن) کو ہمیشہ پیپلز پارٹی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کی مضبوط موجودگی کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کے لیے سیاسی بنیادیں مضبوط کرنا ایک مشکل کام سمجھا جاتا رہا ہے۔
سینیٹ تک رسائی
سنہ 2015  میں نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کے انتخابات میں پنجاب کی نشست پر امیدوار نامزد کیا اور وہ ایوانِ بالا کے رکن منتخب ہو گئے۔ یہ فیصلہ اس وقت کچھ حلقوں کے لیے حیران کن بھی تھا کیونکہ وہ سندھ سے تعلق رکھتے تھے تاہم پارٹی قیادت نے انہیں پنجاب سے سینیٹ کی نشست دی۔
سینیٹ میں نہال ہاشمی اپنے تند و تیز بیانات اور جارحانہ اندازِ گفتگو کے باعث نمایاں رہے۔ وہ اکثر سیاسی اور عدالتی معاملات پر پارٹی مؤقف کے حق میں سخت بیانات دیتے تھے۔
پاناما کیس اور متنازع تقریر
نہال ہاشمی کا سیاسی کیریئر سب سے بڑے بحران سے سنہ 2017 میں دوچار ہوا جب پاناما پیپرز کیس کے دوران ان کا ایک بیان سامنے آیا۔ ایک تقریر میں انہوں نے احتساب کے عمل اور بعض ریاستی اداروں کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس بیان کے بعد نہ صرف ان کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی انہیں پارٹی سے نکال دیا۔
عدالت نے بعد ازاں انہیں توہین عدالت کے مقدمے میں سزا بھی سنائی تھی۔

نہال ہاشمی کا سیاسی کیریئر سب سے بڑے بحران سے سنہ 2017 میں دوچار ہوا جب پاناما پیپرز کیس کے دوران ان کا ایک بیان سامنے آیا (فائل فوٹو: پی ایم ایل این)

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہال ہاشمی کے کیریئر کا ایک اہم موڑ تھا جس نے انہیں اچانک سیاسی منظرنامے سے تقریباً باہر کر دیا۔
سیاسی واپسی
تاہم پاکستانی سیاست میں واپسی کے دروازے اکثر مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔ سنہ 2021 میں مسلم لیگ (ن) نے نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت بحال کر دی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ پارٹی سرگرمیوں میں نظر آنے لگے اور مختلف سیاسی بیانات اور ٹی وی پروگراموں میں بھی شرکت کرتے رہے۔ پارٹی کے اندر ان کی واپسی کو بعض مبصرین نے مسلم لیگ (ن) کی روایتی سیاست کا حصہ قرار دیا جس میں پرانے اور وفادار رہنماؤں کو دوبارہ موقع دیا جاتا ہے۔
گورنر سندھ کی نامزدگی
اب نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنا دیا گیا ہے۔ گورنر سندھ کا عہدہ آئینی طور پر صوبے میں وفاق کی نمائندگی سمجھا جاتا ہے اور اس منصب پر تعیناتی اکثر سیاسی توازن اور اتحادی جماعتوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔

سینیٹ میں نہال ہاشمی اپنے تند و تیز بیانات اور جارحانہ اندازِ گفتگو کے باعث نمایاں رہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

اس سے قبل سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری تھے جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے۔ گورنر سندھ کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد رات گئے سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہو گئے جہاں وہ عمرہ ادائیگی کے بعد کچھ روز قیام کریں گے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ انہیں گورنر کی تبدیلی کے بارے میں میڈیا کے ذریعے علم ہوا ہے اور وفاقی حکومت نے انہیں اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا۔
پارٹی رہنما امین الحق کے مطابق اس معاملے پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے اور جلد باضابطہ موقف سامنے آئے گا۔

شیئر: