سرکلر ریلوے:’بھاگ کر نکلے اور بچوں کو بھی سنبھالا‘

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے مئی کے شروع میں کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماہ میں فعال کرنے کا حکم دیا ہے۔ تصویر: روئیٹرز
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پر سرکلر ریلوے کی اراضی کو خالی کرنے کے لیے حسن سکوائر کے قریب غریب آباد کالونی، لیاقت آباد سٹیشن سے موسیٰ کالونی تک پکّے رہائشی مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر متاثرین کی  کچھ ویڈیوز گردش کررہی ہیں جن میں انہیں سخت پریشانی کے عالم میں دیکھا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے مئی کے شروع میں کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماہ میں فعال کرنے کا حکم د یتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شہر بھر سے ریلوے پٹریوں پر قائم مکانات فوری ہٹانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد شہر بھر میں غیر قانونی کہلائے جانے والے ان مکانات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کو فعال کرنے کے لیے ماضی میں بھی کارروائی کی جا چکی ہے۔ تصویر: روئیٹرز

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک میں موسیٰ کالونی کی رہائشی بزرگ خاتون کو رکشے میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا، 'وہاں سے گاڑیاں آئیں تھیں، سب توڑتی پھوڑتی اور پہلے سے کہہ دیا گیا تھا مکان خالی کر دو۔۔۔ ہم بھاگ کر نکلے اور اپنے بچوں کو بھی سنبھالا۔ اب میدان کے اندر تو ہم نہیں بیٹھ سکتے ہیں نا؟'
خاتون نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس مکان میں 50 سال سے رہ رہی تھیں۔
کراچی سرکلر ریلوے پراجیکٹ کے متاثرین کی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی خان بادشاہ نے 28 مئی کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی ہے۔ان کا کہنا ہے ’اگر گھر بچانا ہے تو گھر سے نکلنا ہوگا۔‘
سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے حکم پر لیے جانے والے ایکشن پر تنقید کی جارہی ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کی آڑ میں مکینوں کے سر سے چھت چھینی جارہی ہے۔ ان کو متبادل گھر کون دے گا، کیا یہ لوگ فٹ پاتھ پر رہیں گے۔

کراچی سرکلر ریلوے کراچی کی غیر فعال عوامی نقل و حمل کا سسٹم ہے، جس کو فعال کرنے کے لیے ماضی میں بھی کارروائی کی جا چکی ہے۔ تاہم وہ کارروائیاں علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کے نتیجے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

شیئر: