چھوٹے بچے نے مرغی کا انڈہ ڈھونڈنے کے لیے بھوسے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو وہ کسی ملائم چیز سے ٹکرایا اس نے بھوسا ہٹایا تو بچے کے پاؤں نظر آئے، وہ چیخ مار کر والدہ کے پاس گیا اور اس بارے میں بتایا مگر اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ گاؤں کے چاروں طرف پولیس موجود تھی، پھر تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی، جس پر ماں بیٹا سہم گئے۔
یہ مناظر قصور کے گاؤں خوشحال سنگھ کے ہیں جہاں 20 دسمبر کو پولیس گمشدہ پانچ سالہ بچے حنان کو تلاش کرتے ہوئے پہنچی تھی، رپورٹ کے بعد پانچ روز سے اسے ڈھونڈا جا رہا تھا۔
پانچ روز قبل اسی گاؤں سے بچہ اس وقت غائب ہو گیا تھا جب دادی کے ساتھ دکان سے کچھ خریدنے گیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
قصور میں بچوں سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موتNode ID: 448786
-
بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا لاہور کا 16 سالہ ’سیریل کلر‘Node ID: 793176
تھانہ راجہ جنگ قصور کے تفتیشی افسر علی اکبرنے اس واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ایک دو گھنٹے تک بچے کو ڈھونڈنے کے بعد جب والد قصور شہر سے واپس گھر پہنچا تو پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جس کے بعد تلاش شروع ہوئی، اس گاؤں میں 400 کے قریب گھر ہیں ایک ایک کی تلاشی لی گئی ۔اگلی صبح ہم نے مقامی کھوجیوں کو بھی ساتھ لیا اور سراغ رساں کتوں کی خدمات بھی حاصل کیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گاؤں کے رہائشی علاقے سے فراغ ہو کر کھیتوں کو کھنگالنا شروع کردیا۔ علاقے کے لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا کر بہت تلاش کیا گیا مگر بچہ نہ ملا۔‘
ان کے مطابق ’گاؤں میں واحد ایک ہی سی سی ٹی وی کیمرہ تھا مگر اس میں بھی کچھ نہ ملا۔‘ "
’ایک امید تھی جو پوری نہ ہوئی’
جس شام بچہ غائب ہوا، اسی شام ہی گاؤں کے قریب ایک اور واقعہ بھی ہوا تھا جس میں عمر نامی نوجوان سے ڈاکو موبائل اور بٹوا چھین کر فرار ہو گئے تھے تاہم اس نے رپورٹ درج نہیں کرائی تھی۔
تفتیشی افسر علی اکبر نے بتایا کہ تلاش کے دوران جب اس واقعے کا کئی بار ذکر سنا تو اس نوجوان کو بلا لیا اور اسے لے کر اس مقام پر گئے جہاں راہزنی ہوئی تھی۔
ان کے مطابق ’لڑکے کی باتیں مشکوک لگ رہی تھیں، ایک تو اس نے واردات کی پولیس کو اطلاع نہیں دی تھی اور دوسرا وہ قصور میں غائب ہونے والے بچے کے والد سے مل کر آ رہا تھا۔ ان کا موٹر سائیکلز کا شو روم ہے اور اس لڑکے نے وہیں سے بائیک خریدی تھی اور تقاضا کرنے گیا تھا کہ بائیک اس کے نام ٹرانسفر کی جائے جس پر کہا گیا کہ پہلے پورے پیسوں کی ادائیگی کرے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ شک کی بنا پر اس کو حراست میں لیا گیا، رات بھر تفتیش سے کچھ نہ نکلا، صبح غائب ہونے والے بچے کے والد نے آ کر ضمانت دی کہ ہمیں اس پر شک نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق ’یہ لڑکا اسی گاؤں میں کریانے کی دکان چلاتا ہے اور غائب ہونے والے بچے کے گھر سے دو سو میٹر کے فاصلے پر اس کی دکان ہے۔‘
جب اچانک قتل کا معمہ حل ہوا
واقعے کو پانچ روز گزر چکے تھے اور پولیس تمام کوشش کے باوجود بچے کو ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی تو معاملہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر تک پہنچ گیا۔
ڈی پی او قصور عیسٰی سکھیرا بتاتے ہیں کہ ’میں نے تفتیشی کو طلب کیا اور تفصیل بتائی جب مشتبہ لڑکے کا ذکر آیا تو اسے ہدایت کی کہ از سر نو تفتیش کی جائے، جس میں گھروں کے فرشوں کے علاوہ، چھتوں اور سامان کے اندر کی بھی تلاش لی جائے اور لڑکے کو بھی دوبارہ شامل تفتیش کیا جائے۔‘
اس پر پولیس نے حکمت عملی بدلی اس ہدایت کے مطابق تلاشی شروع کی۔ اس دوران سب انسپکٹر علی اکبر نے مشتبہ نوجوان عمر حسین کو ساتھ لیا اور ایک مرتبہ پھر اس کے ساتھ ہونے والی مبینہ ڈکیتی کے جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ دوسری طرف جب پولیس نے گھر گھر تلاشی کا نیا سخت راؤنڈ شروع کیا تو علاقے میں خوف و ہراس پھیلا۔













