پاکستان میں موبائل فون صارفین کے لیے ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2033-2026 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا، ٹیکس نقصانات کو روکنا اور صارفین کو ممکنہ فراڈ اور سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
مزید پڑھیں
-
فولڈ ایبل آئی فون کی ممکنہ قیمت کیا ہو گی اور یہ کب لانچ ہو گا؟Node ID: 897682
اس پالیسی میں ملک میں ٹو جی ہینڈ سیٹس کی مینوفیکچرنگ اور موبائل کمپنیوں کے لیے امپورٹ لائسنسنگ کے حوالے سے پابندیاں عائد کرنے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔
مجوزہ پالیسی کی حتمی منظوری وفاقی حکومت دے گی، تاہم وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)نے اِسے تیار کر لیا ہے۔
حکومت کی مجوزہ پالیسی ہے کیا؟
پاکستان کی حکومت نے موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2033-2026 کے تحت مقررہ وقت میں لوکلائزیشن کا ہدف پورا نہ کرنے والی کمپنیوں پر جُرمانے اور پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان پابندیوں میں تمام رعایتی محصولات کی منسوخی، عام ٹیرف ریٹس، امپورٹ لائسنسنگ پر پابندیاں اور سالانہ درآمد کا ایک فیصد سرچارچ شامل ہے۔
پالیسی میں ٹو جی ہینڈ سیٹس کی مینوفیکچرنگ اور پانچ سال سے پرانے موبائل فونز کی رجسٹریشن اور استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے۔
پالیسی میں مرحلہ وار لوکلائزیشن، اہم پُرزہ جات جیسے مدربورڈ، پی سی بی، الیکٹرانک پارٹس اور ڈسپلے کمپونینٹس کی مقامی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف میکانزم شامل ہیں۔
چنانچہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت حکومت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی کیوں لگانا چاہتی ہے اور یہ فونز صارفین اور ملک کے لیے نقصان دہ کیسے ہیں؟
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر مظفر پراچہ نے حکومت کی اس مجوزہ پالیسی کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب صارفین بیرونِ ملک سے استعمال شدہ موبائل فون منگواتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف معیار کے لحاظ سے غیر یقینی ہوتے ہیں بلکہ استعمال شدہ موبائل فونز کے نام پر فراڈ کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
مظفر پراچہ نے اس دھوکہ دہی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک طرح کا فراڈ یہ ہے کہ اس کاروبار سے منسلک افراد استعمال شدہ موبائل فون منگوا کر انہیں نیا کہہ کر صارف کو فروخت کر دیتے ہیں۔‘
’دوسرا فراڈ اُس وقت ہوتا ہے جب استعمال شدہ موبائل فونز پر ڈیوٹیز ادا نہیں کی جاتیں اور ان کا آئی ایم ای آئی کسی دوسرے موبائل فون کے ساتھ جوڑ کر استعمال کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسی صورتِ حال میں نہ صرف حکومت کو ٹیکس کی مد میں نقصان ہوتا ہے بلکہ صارفین کو بھی مالی اور سکیورٹی خدشات کا سامنا رہتا ہے۔‘
اردو نیوز نے اُن سے پوچھا کہ کیا اس پالیسی کے بعد صارفین کے لیے بیرونِ ملک سے استعمال شدہ موبائل فون خریدنے کا آپشن ختم نہیں ہو جائے گا؟
اس پر مظفر پراچہ نے کہا کہ جب پاکستان میں 98 فیصد کے قریب موبائل فونز مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں اور ایپل کے علاوہ قریباً تمام بڑی کمپنیاں ملک میں موبائل فونز بناتی ہیں، تو اس پالیسی سے صارفین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
پاکستان میں کون سے استعمال شدہ موبائل فون درآمد ہوتے ہیں؟

مظفر پراچہ نے اس سوال کے جواب میں اردو نیوز کو بتایا کہ ’پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال شدہ آئی فونز درآمد ہوتے ہیں، اس کے بعد سام سنگ اور دیگر وہ برانڈز شامل ہیں جن کے فونز پہلے ہی پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد سے ملک کی مقامی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نئے اور مقامی طور پر تیارشدہ موبائل فونز کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔‘
استعمال شدہ موبائل فونز، سائبر اور سکیورٹی خدشات
سائبر سکیورٹی کے ماہرین استعمال شدہ موبائل فونز کو صارفین کے لیے ممکنہ سائبر خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمان نے وضاحت کی کہ کس طرح یہ فونز صارفین کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
اسد الرحمان کے مطابق استعمال شدہ موبائل فونز کے ذریعے سپلائی چین اٹیک کے تحت نہ صرف عام صارفین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہ فونز پاکستان لا کر کسی حساس عہدے پر فائز شخص تک بھی پہنچائے جا سکتے ہیں۔
’سپلائی چین اٹیک سے مراد یہ ہے کہ جس طرح عالمی سطح پر ماضی میں موبائل فونز کے ذریعے مخصوص مقامات یا افراد کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح ان فونز میں مخصوص ہارڈویئر یا سوفٹ ویئر مواد نصب کیا جا سکتا ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ان موبائل فونز میں اگر سوفٹ ویئر کے ذریعے مشکوک فائلیں یا پروگرام شامل کر دیے جائیں تو موبائل استعمال کرنے والے صارف کی نگرانی موبائل بیچنے والا یا فراہم کرنے والا کر سکتا ہے۔‘
یہ ایسے خدشات ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف عام صارف متاثر ہو سکتا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ قرار دیا جا سکتا ہے، اور اسی تناظر میں حکومت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔
اسد الرحمان نے اس کے علاوہ ایک اور پہلو کی نشان دہی کی کہ بعض اوقات استعمال شدہ موبائل فونز میں ٹیمپرڈ آئی ایم ای آئی نمبر استعمال کیا جاتا ہے، اور اگر اس موبائل فون کے ذریعے کوئی واردات یا جُرم ہو جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اصل موبائل یا ملزم تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ خدشات نہ صرف عام صارفین کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اور اسی وجہ سے حکومت استعمال شدہ موبائل فونز کی امپورٹ پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔‘












