مکہ اعلامیے پر اعتراض: حقائق تبدیل کرنا قطر کی پرانی عادت ہے، الجبیر

سعودی وزیر خارجہ کے مطابق قطر کو اعتراض تھا تو اس نے اپنی بات کانفرنس میں کیوں نہیں کی
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے قطری وزیر خارجہ کی جانب سے خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ اجلاسوں کے اعلامیے پر اعتراض اٹھائے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ میں منعقدہ اجلاسوں کے حوالے سے اگر قطر کو اعتراض تھا تو اس نے اپنی بات کانفرنس میں کیوں نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کانفرنس ختم ہونے اور مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد قطری وزیر خارجہ کی جانب سے ایسا بیان مناسب نہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ 'قطر کی جانب سے ہمیشہ حقائق کو تبدیل کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو درحقیقت حیران کن اور نئی بات نہیں، وہ اس کے عادی ہیں اور ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔'
عادل الجبیر نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ اصولی طور پر کسی بھی کانفرنس کے شرکاء کو ایجنڈے اور کارروائی پر تحفظات ہونے کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کانفرنس کے انقعاد کے وقت ہی کرنا چاہیے۔ یہ مناسب نہیں لگتا کہ کانفرنس ختم ہونے کے بعد جب مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہو جائے تو اس کے خلاف کوئی بات کی جائے۔
خیال رہے کہ قطر نے مکہ میں ہونے والی خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ اجلاسوں کے اعلامیے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔  


قطر نے خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ اجلاسوں کے اعلامیے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا

العربیہ نیٹ کے مطابق قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'دوحہ کو مکہ اعلامیے پر اعتراض ہے کیونکہ اعلامیے کے بعض نکات قطری خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے اس لیے ہم انہیں قبول نہیں کرتے۔'
قطری وزیر خارجہ نے مزید کہا تھا کہ انہوں نے سرب سربراہ اجلاسوں کے اعلامیے کے حوالے سے اپنے موقف کے ساتھ مشترکہ بیان میں اصلاح کرنے کی کوشش کی تھی مگر قطر کے موقف کو کسی نے اہمیت نہیں دی۔
دوسری جانب بحرین کے وزیر خارجہ الشیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے ایک بیان میں کہا کہ قطر کو خلیج تعاون کونسل کی وحدت اور ایران کی مذمت کے جملوں پر اعتراض ہے۔
ادھر اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے اپنے ردعمل میں کہا کہ قطر، خلیجی اور عرب سربراہ اجلاسوں میں موجود تھا۔ اس کی موجودگی میں متفقہ طور پر اعلامیے جاری کیے گئے۔ اب اچانک قطر نے اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔

شیئر: