عراق میں مہنگی ترین شادی کے سوشل میڈیا پر چرچے

سوشل میڈیا پر مہنگی ترین شادی پر تنقید کی جا رہی ہے۔
عراق میں ملک کی تاریخ کی مہنگی ترین شادی کی خبر پر سوشل میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی۔
بغداد کے الکرخ علاقے میں عائلی امور کی عدالت نے ایک ایسے نکاح نامے کی دستاویز جاری کی ہے جس میں مہر کی رقم آٹھ ارب عراقی دینار( 80لاکھ ڈالر ) مقرر ہے۔
نکاح نامے کے مطابق دلہن مطلقہ اور دو بچوں کی ماں ہے۔ دولہا کی طرف سے یہ بھی اقرارنامہ جمع کرایا گیاہے کہ وہ مطلقہ دلہن کے دو بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا بھی ذمہ دار ہوگا۔
عراقی ویب سائٹ ’بعث نیوز‘ کے مطابق حق مہر کی آٹھ ارب دینار میں سے  تین ارب پیشگی ادا کردیے گئے جبکہ 5ارب دینار مہر موجل کے طور پر طے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دلہن جب بھی 5ارب دینار طلب کرے گی شوہر کو یہ رقم ادا کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ حق مہر دو قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ پہلی قسط نکاح کے وقت دینا ہوتی ہے جسے مہر معجل کہا جاتا ہے اور دوسری قسط فریقین میں جھگڑے اور طلاق تک نوبت پہنچ جانے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے جسے مہر موجل کہا جاتا ہے۔


حق مہر کی آٹھ ارب دینار میں سے  تین ارب پیشگی ادا کردیے گئے۔

 اس سے قبل عراقی خاتون رنا جمیل کو سب سے زیادہ مہر پانے والی خاتون شمار کیا جا رہا تھا۔ حق مہر 2 ارب عراقی دینار (1.7ملین ڈالر) طے ہوا تھا۔ شادی کا اندراج کربلا کمشنری کی عراقی عدالت میں ہوا تھا۔
 ادھر سوشل میڈیا پر مہنگی ترین شادی پر تنقید کی جا رہی ہے۔  آٹھ ارب دینار مہر کی خبر پر ہر کوئی حیران ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ مہر سے سماج میں مسائل پیدا ہوں گے۔ صارفین سوال کررہے ہیں کہ آخر اتنی بھاری مہر کی کیا ضرورت پڑ گئی۔
 ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنی زیادہ مہر کا رواج عراق میں معمر کنواریوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے گا۔ واضح رہے کہ عرب دنیا میں عراق معمر کنواریوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرے نمبرپر ہے۔

شیئر: