قومی اسمبلی: اراکین کے پروڈکشن آرڈر کی تاریخ

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری۔ فائل فوٹو اے ایف پی
حالیہ دنوں میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کچھ ممبران قومی اسمبلی مختلف الزامات میں گرفتار ہیں اور اپوزیشن کی جماعتیں سپیکر قومی اسمبلی پر زور دے رہی ہیں کہ وہ اسمبلی اجلاس میں ان ممبران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ان کا پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔
اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور پشتون تحفظ مومنٹ کے اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیرگرفتار ہیں۔
قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے پیرا 108 کے تحت سپیکر کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے کہ وہ اجلاس میں شرکت کے لیے کسی مقدمہ میں گرفتار رکن اسمبلی کا پروڈکشن آرڈر جاری کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چئیرمین  کے پاس بھی کمیٹی کے کسی گرفتار رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار موجود ہے۔

اپوزیشن کا سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ ہے کہ گرفتار اراکین قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے۔ فوٹو ریڈیو پاکستان

 پروڈکشن آرڈر سے گرفتار رکن اسمبلی کو قومی اسمبلی یا قائمہ کمیٹی اجلاس میں شرکت کی اجازت مل جاتی ہے۔ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد ملک کے کسی بھی جیل میں قید رکن اسمبلی کو اجلاس کے روز ’سرجنٹ اٹ آرمز‘ کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اجلاس کے اختتام پر رکن قومی اسمبلی کو دوبارہ سے حراست میں لے لیا جاتا ہے ۔

پروڈکشن آرڈر کے مقاصد کیا ہیں؟

پروڈکشن آرڈرز کے مقاصد کے حوالے سے پارلیمنٹ کی کارروائی کی کوریج کرنے والے سینئیر صحافی کہتے ہیں کہ پروڈکشن آرڈر کا مقصد ایوان میں عوام کے منتخب نمائندوں کی آواز پہنچانا ہے ۔ چونکہ رکن قومی اسمبلی عوامی نمائندے ہوتے ہیں اس لیے ان کو اپنے حلقے کے مسائل کو ایوان میں اٹھا نے اورعوم کی نمائندگی کے قابل بنانے کے لیے پروڈکشن آرڈر کا قانونی دروازہ رکھا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کی گزشتہ20 سالہ تاریخ میں کب اور کس کے پروڈکشن جاری ہوئے؟

 1990 میں آصف علی زرداری کو تاوان کے لیے پاکستانی نژاد برطانوی شہری کواغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔  بعد ازاں ان پر بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن حاصل کرنے سمیت کرپشن کے مختلف مقدمات درج کیے گئے۔ آصف علی زرداری جیل سے  1990 کے عام انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہوئے اور اس وقت کے سپیکر گوہر ایوب خان نے آصف علی زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا تھا۔

نوے کی دہائی میں اس وقت کے سپیکر یوسف رضا گیلانی نے شیخ رشید احمد کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا تھا۔ فائل فوٹو اے ایف پی

1995 میں سپیکر یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جو اس وقت بہاولپور جیل میں ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں قید تھے۔ یہ پروڈکشن آرڈر ایسے موقع پر جاری ہوا جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان انتہائی کشیدہ صورتحال تھی اور سپیکر یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شدید دباو کے باوجود شیخ رشید احمد کا پروڈیکشن آرڈر جاری کیا تھا ۔
 یوسف رضا گیلانی نے ملتان سے رکن اسمبلی شیخ طاہر رشید اور حاجی محمد بوٹا کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے ۔ دونوں ارکان ذاتی تنازع پر ملتان جیل میں زیر حراست تھے ۔
یوسف رضا گیلانی نے بطور سپیکر سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھائی عباس شریف کے پروڈکشن آرڈر بھی  جاری کیے جواس وقت اتفاق فاؤنڈری کیس میں اڈیالہ جیل میں زیر حراست تھے ۔
مارچ 1997 میں آصف علی زردای کراچی جیل سے سینیٹر منتخب ہوئے تو اس وقت کے چئیرمین سینیٹ وسیم سجاد نے دسمبر 1997 میں آصف علی زرداری کے پروڈیکشن آرڈر جاری کیے جس کے بعد انہوں نے بطور سینیٹر حلف اٹھایا ۔
جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 29 اکتوبر 2003 کو رکن قومی اسمبلی جاوید ہاشمی کو غداری کیس میں گرفتار کیا گیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے شدید احتجاج کیا لیکن اس وقت کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے جاوید ہاشمی پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کے باعث پروڈیکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔

ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن دارڑ سیکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام میں گرفتار ہیں۔ فائل فوٹو اے ایف پی

جون 2017 کو مظفر گڑھ سے منتخب رکن اسمبلی جمشید دستی کو ڈینگا کینال کھولنے اور کار سرکار میں مداخلت پر گرفتار کر کے سینٹرل جیل ملتان منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت کے سپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیا جبکہ دوسری بار درخواست کو مسترد کر دیا تھا ۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں سپیکر اسد قیصر نے اب تک مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی پر شدید دباو ہے لیکن سابق صدر کا پروڈیکشن آرڈر تاحال جاری نہیں کیا گیا ۔

شیئر: