پاکستان کا قطر پرمزدوروں کے حقوق یقینی بنانے پر زور

تعمیراتی کام سے منسلک مزدوروں کے حقوق کی پامالی کی شکایات عام ہے۔ تصویر: اے ایف پی
گیس کے وسائل سے مالا مال ملک قطر میں جہاں فٹ بال ورلڈکپ کے لیے ہر سڑک اور کنارے پر کام زورو شور سے جاری ہے وہیں اس پر کام کرنے والوں کے حقوق کی عدم فراہمی کی شکایات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ 
قطر میں انفراسٹرکچر پر کام کرنے والے متعدد مزدوروں کا تعلق پاکستان سے ہے، جن کے لیے ملک کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیں گے۔
واضح رہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز قطر میں 2022 میں ہوگا۔ 

شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان مزدوروں کے لیے طبی سہولیات پر بھی بات کرے گا۔ تصویر: اے ایر پی

شاہ محمود قریشی نے قطر کی جانب سے پاکستانیوں کو مزید ایک لاکھ نوکریاں دینے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ساتھ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ورلڈ کپ کے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مصروف مزدوروں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔
‘یقینی طور پر ہم اپنے سفارت خانے اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں سے بھی کہیں گے کہ بہتر شرائط پر کام دیا جائے۔’
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان ان مزدوروں کے لیے طبی سہولیات کے علاوہ مزید سہولیات پر بھی بات کرے گا۔ تعمیراتی کام سے منسلک مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تنقید کی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر مزدوروں کا استحصال کر رہا ہے۔ تصویر: اے ایف پی

رواں برس کے آغاز میں قطر کی جانب سے کی گئیں اصلاحات کے باوجود انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ’وقت کی کمی کے باعث قطر نے وسیع پیمانے پر ہزاروں مزدوروں کا استحصال کیا ہے، ان مزدوروں میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔
ورلڈ کپ انفراسٹرکچر کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کے بارے میں ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں جن میں مزدوروں کو اجرت نہ دینا، سربراہوں کی جانب سے پاسپورٹ ضبط کرنا اور بعض مواقع پرمزدوروں سے مسلسل 148 دن کام لینا شامل ہیں۔

ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ مزدور مقررہ وقت سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ تصویر: اے ایف پی

قطرکا اصرار ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ قطر کو فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی مل جانے کے بعد متعلقہ حکام نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 750 ریال یا 206 ڈالرز مہینہ متعارف کرائی ہے۔

شیئر: