بالی ووڈ: ’زائرہ وسیم کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے‘

بالی وڈ کی کئی معروف شخصیات نے بھی زائرہ وسیم کے فیصلے پر تبصرہ کیا ہے۔ فائل فوٹو
’دنگل گرل‘ اور ’سیکرٹ سپر سٹار‘ کا مذہب کے لیے بالی وڈ کو خیرباد کہنے پر تبصروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
جہاں سوشل میڈیا ان کے فیصلے پر منقسم ہے، وہیں بالی وڈ کی کئی معروف شخصیات نے بھی اس پر تبصرہ کیا ہے۔
کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ ’یہ ان کا فیصلہ نہیں‘ تو کوئی انھیں مذہب کی جانب راغب ہونے پر ’دقیانوسی‘ قرار دے رہا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ ان پر شدت پسندوں کی جانب سے دباؤ تھا تو کوئی موقف رکھتا ہے کہ یہ ’پبلیسٹی سٹنٹ‘ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’اگر اللہ کے لیے فلموں سے کنارہ کشی کی ہے تو اس کے لیے اعلان کی کیا ضرورت تھی‘ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے خدشات کو ختم کرتے ہوئے پیر کو ایک بار پھر زائرہ وسیم نے لکھا کہ وہ واقعی مذہبی بنیادوں پر بالی وڈ سے علیحدہ ہوئی ہیں۔ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک نہیں کیا گیا ہے اور وہ خود اسے ہینڈل کرتی ہیں اور ان کے لیے کوئی دوسرا کام نہیں کرتا وغیرہ۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اور ديگر بہت سے لوگوں نے جہاں ان کے فیصلے کی حمایت کی ہے وہیں اداکارہ روینہ ٹنڈن نے پہلے تو ان پر سخت تنقید کی لیکن بعد میں اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی جبکہ اداکار انوپم کھیر نے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے افسوس کا اظہار بھی کیا۔
روینہ ٹنڈن نے پیر کو ٹویٹ: ’دو تین فلمیں کرنے والے اگر اس انڈسٹری کے ناشکرے ہیں جس نے انھیں سب کچھ دیا ہے تو کوئی بات نہیں، بس اتنا چاہتی ہوں کہ وہ باوقار طریقے سے نکل جائیں اور اپنے رجعت پسندانہ خیالات اپنے ساتھ رکھیں‘
اداکار انوپم کھیر نے خبررساں ادارے اے این آئي کو بتایا ’میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ اگر اس نے مذہب کے نام پر یہ فیصلہ کیا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیاگیا ہو لیکن اگر وہ اپنی زندگي میں یہ فیصلہ کرتی ہیں تو ہم ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں انھیں چھوڑ دینا چاہیے‘
اداکارہ اور سابق ملکۂ حسن نفیسہ علی نے انسٹا گرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ کینسر کے موذی مرض کے بعد اپنی عمر کے لحاظ سے ایک اچھے کردار کی خواہش مند ہیں۔
انھوں نے کینسر کے مرض کے دوران والی اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔ انھوں نے زوم ٹی وی کو زائرہ کے حوالے سے بتایا: ’میں عمر کے اس پڑاؤ میں اپنے آپ کو یاد کر رہی تھی۔ جب میں نوجوان تھی اور فلم جنون بنائی گئي تھی جو کہ بہت ہٹ ہوئی تھی اور مجھے کئی آفرز ملی تھیں تو مجھے یاد ہے کہ مجھے گھر والوں سے کوئی تعاون نہیں ملا تھا میں بمبئی میں کام کی تلاش میں تنہا تھی۔ میں نے خود کو بیس سال کی عمر میں دیکھا اور زائرہ کو محسوس کیا۔ اگر آپ کو فیصلہ کرنا ہے تو آپ سوچیں اور درست فیصلہ کریں۔‘
 

مصنف اور صحافی عارفہ خانم شیروانی نے لکھا کہا کہ زائرہ وسیم کے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے فیصلے کو (اس کے ایمان کے لیے) سمجھنا اور اس کا اتنا ہی احترام کیا جانا چاہیے جتنا نصرت جہاں کے سندور بندی کو۔ نہ تو یہ نصرت کو بداخلاق بناتا ہے اور نہ ہی وہ زائرہ کو اعلیٰ اخلاق کی مالک، انتخاب کی آزادی سب سے اوپر ہے‘
خیال رہے کہ نصرت جہاں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی اداکارہ اور سیاست دان ہیں، انھوں نے نکھل جین نے ہندو رسومات کے مطابق شادی کی تھی اور وہ عموما بندی اور سندور لگاتی ہیں، جس پر کچھ حلقے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ 
اداکارہ اور عالیہ بھٹ کی والدہ سونی رازدان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا، ’میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ اتنی سمجھ دار ہو کہ یہ سمجھ سکے کہ جو آپ چاہتے ہیں اور کرتے ہیں وہی خدا آپ سے چاہتا ہے۔ لوگوں کو احساس دلانا، رلانا، ہنسانا، سوچنے پر مجبور کرنا اور ربط قائم کرانا اپنے آپ میں اچھا کام ہے‘
صحافی برکھا دت نے لکھا کہ ان کے نزدیک مذہبی قدامت پسندی کے لیے ایک خاتون کا کیریئر چھوڑنا ایسی چیز ہے جو ان کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔
مصنف اور صحافی صبا نقوی نے لکھا ’اس دنیا میں ہم کون ہوتے ہیں زائرہ وسیم کے فیصلہ کی جانچ کرنے والے، بعض لوگوں کے لیے روحانی سفر کام آتا ہے۔ امید کرتی ہوں کہ انھیں امن و امان ملے جو وہ اللہ سے چاہتی ہیں‘
اداکارہ نغمہ نے لکھا ’زائرہ وسیم باہمت لڑکی ہیں جنھوں نے سٹیریو ٹائپ کا مقابلہ کیا اور چمکیں، ہم ان کی ہمت اور ان کے موقف کی قدر کرتے ہیں۔ زائرہ وسیم ہماری سپورٹ آپ کے ساتھ ہے‘

 

شیئر: