ایک شلنگ میں دیکھا جانے والا میچ: 1877 سے 2019

نو جولائی 1877 میں برمنگھم میں پہلی بار چاروں اطراف میں بیٹھے لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔ سٹیڈیم میں بیٹھا ہر شخص اس وقت ایک شلنگ ( یورپ میں استعمال ہونے والی کرنسی) دے کر یہ تماشا دیکھنے آیا تھا اور حیران کن طور پر سب کے چہروں پر خوشی اور حیرت یکساں دکھائی دے رہی تھی اتنے میں دو افراد مچھلی پکڑنے کے جال جیسا کچھ ہاتھ میں پکڑے سٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ سفید پینٹ اور شرٹ میں ملبوس شخص نے سیٹی ماری اور دونوں افراد ہاتھ میں اس جال نما ڈنڈے سے ایک دوسری کی طرف گیند پھینکنے لگے۔ کچھ ہی دیر کے بعد سٹیڈیم میں  ’سپینسر سپینسر‘ کی آوازیں آنے لگیں ۔ اس شخص کا پورا نام سپینسر گوئر تھا جس نے دراصل دنیا کی مہنگی ترین گیموں میں سے ایک گیم ٹینس، ومبلڈن چمپئن شپ جیت لی تھی۔ یہ ٹینس کی دنیا میں پہلی رولز کے ساتھ ہونے والی ومبلڈن مینز سنگل چمپئن شپ تھی۔
ٹینس دنیا میں بہترین کھیل مانا جاتا ہے لفظ ٹینس اصل میں فرانسیسی لفظ  (ٹینز ) سے نکلا ہے جس کا  مطلب ہے روکنا- 1980 میں اسکا نام ٹینس سے ’لان ٹینس‘ رکھ دیا گیا۔ اس کھیل میں ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی سے مقابلہ کرتا ہے جبکہ دو کھلاڑیوں کی جوڑی بھی دوسری حریف جوڑی سے کھیلتی ہے۔ کھیل کی ٹرم میں اسکو جنس کی مناسبت سے سنگل اور ڈبل کہا جاتا ہے، جیسے کہ مینز سنگل ،ڈبل یا پھر ویمن سنگل یا ڈبل۔
عام طور پر یہ کھیل وائٹ کالر لوگ ہی کھیلتے ہیں اور دیکھنے والے بھی شوقین مزاج ہوتے ہیں کیونکہ ٹینس دیکھنے کا ٹکٹ بھہی مہنگا ہوتا ہے۔ ٹینس کا کھیل ایسے معذور افراد بھی  کھیل سکتے ہیں جو ریکٹ پکڑنے کے اہل ہوں عالمی سطح پر بھی ایسے معذور افراد کے لیے ایونٹس کروائے جاتے ہیں۔
پہلی بار ٹینس کا کھیل 12ویں صدی میں شروع ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تب  لوگ بغیر ریکٹ کے کھیلا کرتے تھے جو بعد میں 16ویں سینچری میں ریکٹ کے ساتھ کھیلا جانا شروع ہوا۔

1872 میں دو مقامی ڈاکٹروں نے انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں  ٹینس کا پہلا کلب لیمنگٹن سپا دریافت کیا جہاں اس گیم کو پہلی بار کلب انتظامیہ نے ’لان ٹینس‘ کا نام دیا ۔لوگوں میں آہستہ آہستہ کھیل متعارف ہونے لگا۔اندرون ملک کھیل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ایک برٹش آرمی آفیسر’والٹر کلوپٹون ونگ فیلڈ‘ نے اس کھیل کو بیرون ممالک متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ سپورٹس سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ٹینس کو دنیا بھر میں ونگ فیلڈ نے ہی مقبول کروایا۔ ونگ فیلڈ نے اپنے ایکسپرٹ دوستوں کی مدد سے ٹینس کے قوانین بنائے۔ 1873 میں ونگ فیلڈ نے نیٹ،پولز،ریکٹ اور بالز پر مشتمل ایک باکس بنایا جس میں ٹینس کھیلنے کا تمام سامان موجود تھا۔ اس باکس کے ہزاروں سیٹ ونگ فیلڈ نے دوست ممالک میں گفٹ کے طور پر بھیجے تاکہ اس کھیل کو اعلی سطح پر پزیرائی حاصل ہو۔ ان کی اس کاوش سے 1874 میں پہلی بار ٹینس ٹورنامنٹ کا آغاز لمنگٹن سپا کلب میں ہوا۔
اس کے بعد 1877 میں پہلی بار ومبلڈن چمپئن شپ کا آغاز ہوا۔ تاہم اس وقت ہر کلب کے اپنے قوانین ہوتے تھے اس بات کو دیکھتے ہوئے 1881 میں یونائیٹڈ سٹیسٹس ٹینس لان ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا، جس نے ٹینس کے قوانین وضح کر کے مختلف ممالک کے مابین ٹورنامنٹس کا انعقاد کروایا۔ اس فیڈریشن کا کام دنیا بھر میں ہونے والے ایونٹس کے قوانین اور شیڈول سیٹ کرنا بھی ہے، جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے آئے ہیں۔
1913 میں انٹرنیشنل لان ٹینس فیڈریشن بنائی گئی جس کو اب انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فیڈریشن کا مقصد دنیا کے تمام ٹاپ پلیرز کو چار بڑے ٹورنامنٹس کھلوانا ہے۔ ان ٹورنامنٹس کو گرینڈ سلیم ایونٹس کہا جاتا ہے۔ ان چار ایونٹس میں سال کی مناسبت سے بالترتیب آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن، ومبلڈن، اور یو ایس اوپن چمپئن شپ شامل ہیں۔
اس سال ومبلڈن چمپئن شپ کا 133 واں ایڈیشن یکم جولائی سے شروع ہو چکا ہے اور اس کا فائنل 14 جولائی کو ومبلڈن، انگلینڈ میں کھیلا جائے گا۔

انگلینڈ میں اکثر میچز بارش کی نذر ہو جاتے تھے اور شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر ٹینس فیڈریشن نے 2009 میں سٹیڈیم کا چھت بنا لیا جس کے بعد بارش کی صورت میں کورٹ کو مصنوعی چھت سے کور کر لیا جاتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ اصلی گھاس پر کھیلا جاتا ہے اور اس کی منتظم آل انگلینڈ کلب ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں مینز سنگل وڈبل کے ساتھ ساتھ ویمن سنگل اور ڈبل مقابلے کھیلے جائیں گے۔ پہلی مرتبہ اس ایونٹ میں وہیل چیئرز پر معزور افراد حصہ لے رہے ہیں۔ مینز سنگل کے دفاعی چمپئن نواک جوکوویچ اور ویمن میں انجلیک کوبر اپنے ٹائٹل کا دفاع کر رہے ہیں۔
کرکٹ کی طرح ٹینس میں بھی ریویو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، جسے ’ہاک آئی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ایک کھلاڑی لائن کال دے کر ان یا آؤٹ چیک کر سکتا ہے۔

شیئر: