ٹرمپ سے ملاقات: ’تعلقات کو نئی زندگی دینے کی کوشش‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی زندگی دینے کی کوشش ہے۔‘
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اردو نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے امریکہ سے تعلقات میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی عزت اور ایک دوسرے کو سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔
انھوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں مزید کہا کہ ’دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ’صرف پاکستان کی اہمیت ہے یا صرف امریکہ کی اہمیت ہے۔ ہم بیس بائیس کروڑ لوگوں کا ملک اور ایک ایٹمی طاقت ہیں، ہماری ایک اہمیت ہے اور امریکہ کی اپنی اہمیت ہے۔ اس خطے میں پاکستان ایک انتہائی اہم ملک ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات رواں ماہ کی 22 تاریخ کو ہو گی، تصاویر: اے ایف پی

 خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کی 22 تاریخ کو دورہ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی ملاقات ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب امریکہ کے افغان طالبان کے ساتھ  مذاکرات جاری ہیں اور امریکہ کی جانب سے ان مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔
 افغان طالبان سے امریکہ کے مذاکرات میں پیش رفت اور وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ میں تعلق کے حوالے سے  دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کی سہولت کاری بھی اس دورے کی وجوہات میں شامل ہے لیکن یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کے لیے مخصوص ہے۔
 پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں رواں برس کے آغاز میں سخت کشیدہ ہو گئے تھے تاہم اب دونوں جانب سے سخت بیانات نہیں دے جا رہے اور پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ساتھ بات چیت کی خواہش کا بارہا اظہار بھی کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں اقدامات بھی لیے گئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل اسلام آباد میں ’اردو نیوز‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے

تو کیا ان اقدامات پر سویلین حکومت نے فوج اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیا تھا؟
اس پر ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ’سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تمام اقدامات پر اعتماد میں تھی۔ یہ زیادہ  پروپیگینڈا کی  ڈومین  میں ہے جو انڈینز زیادہ  کرتے ہیں۔ گفتگو سے ہندوستان پیچھے ہٹا ہے پاکستان تو نہیں ہٹا۔ تواتر سے ڈیڑھ سال کے واقعات ہیں، پاکستان نے کوشش کی ہے وہ کبھی ہاں کرتے ہیں کبھی ناں کر دیتے ہیں۔ پرامن ہمسائیگی کے لیے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا پڑے گا اور پھر آگے کام بڑھے گا۔‘
لیکن انڈیا متنازع کشمیر پر نہیں صرف دہشت گردی پر بات کرنے کی شرط عائد کرے تو کیا پاکستان کشمیر کے بغیر بات چیت کرے گا؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ’ قطعاً نہیں ہوسکتی، ہمیں ایسی کوئی بے تابی نہیں، ہماری نظر میں اگر آپ کا اختلاف ہے، مختلف رائے ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے بات چیت۔ اگر کسی اور کی سمجھ میں کوئی اور راستہ ہے تو بتا دے۔‘

ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے

اس پر مزید وضاحت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’’ کارنر سٹون ہماری خارجہ پالیسی کا جموں و کشمیر کا مسئلہ ہے۔ اس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا ہے۔ اس کے بغیر تو ہم آگے چل نہیں سکتے۔ دہشت گردی کا تو ہم خود بہت بڑا شکار ہیں۔ کمانڈر کلبھوشن جادیو ہمارے پاس پکڑا گیا ہے۔ حاضر سروس نیول افسر ہے۔ ہم تو دہشت گردی کے متاثرہ ہیں اور بات چیت ہر موضوع پر ہونی چاہیے۔ ان کی طرف سے ہچکچاہٹ ہے جبکہ ہم تیار ہیں۔‘‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرتار پور راہدری پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اسے مستقبل میں دو طرفہ جامع مذاکرات سے بھی جوڑا جا رہا تھا تو کیا رواں برس نومبر میں اس راہداری کے افتتاح کے موقعے پر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا؟
اس پر ترجمان دفتر خارجہ  نے کہا کہ ’’ کرتار پور راہداری میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی موجود ہے جو سات دہائیوں سے ہے، ہماری جنگیں ہوئی ہیں۔ مختلف واقعات ہیں، رواں برس 27 فروری کو ہم نے ان کے دو جہاز گرائے اور اس کے چند دن بعد ہم کرتارپور پر بات کر رہے ہیں، اس بد اعتمادی کو ختم کرنا پڑے گا، بات کرنا پڑے گی اگر تعلقات بہتر کرنے ہیں تو’’

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے

مستقبل قریب میں انڈیا کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مثبت جواب آتا ہے تو ایجنڈا کیا ہو سکتا ہے؟ تو اس پر ترجمان نے کہا کہ ’جو بڑا فیصلہ ہے وہ ہندوستان کو کرنا ہے، ہماری طرف سے تو بڑے کھلے دل سے یہ آفر موجود ہے کہ ہم گفتگو چاہتے ہیں اور تمام چیزوں پر کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردی پر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی مسئلہ ہے جموں و کشمیر، اس کو بھی، سیاچن اور سرکریک کو اور تمام چیزوں کو۔ ان کی طرف سے ہچکچاہٹ ہے جو بڑی واضح ہے تو ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اس ہچکچاہٹ کو اس الیکشن کے بعد ختم کر لیں گے اور ہم کوئی گفتگو کریں گے اور معاملات حل کر لیں گے۔‘
افغان مفاہمتی عمل، متوقع معاہدے، اس پر عملدرآمد اور اس سلسلے میں پاکستان سے افغان حکومت بالخصوص صدر اشرف غنی کی توقعات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ’ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کی ساتھ ہماری ہمسائیگی ہے۔ سینٹرل ایشیا کو راستہ جاتا ہے۔ ہمارے مفاد میں امن ہے اور یہ امن کیسے آنا ہے اس کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے۔‘

شیئر: