تیونس کا ’قومی مفاد‘، سرکاری اداروں میں نقاب پر پابندی

تیونس میں صدارتی حکم کے ذریعے سرکاری اداروں میں  چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تیونس کے وزیراعظم یوسف الشاھد کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والی دہشتگردی کی کارروائی کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کر تے ہوئے چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
 تیونسی ایف ایم ریڈیو ’موزاییک‘ کے مطابق تیونس کے صدر نے شہریوں کی جان و مال اور سرکاری املاک کی حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے احکامات صادر کئے ہیں جن پر عمل کرانا سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

گذشتہ برس بھی تمام تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی فوٹو اے ایف پی

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں وزارت تعلیم کی جانب سے تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا پر کافی بحث چلی۔
تیونس کے جنوبی ریاست میں متعدد خواتین اساتذہ نے ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکول میں نقاب لگا کر جانا شروع کیا۔ وزارت تعلیم کی جانب سے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ قومی مفاد ات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری احکامات کی پابندی کریں۔

بعض غیر سرکاری اداروں نے بھی حجاب پر پابندی کی حمایت کی تھی فوٹو اے ایف پی

قبل ازیں مارچ 2016 میں بھی عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے حوالے سے قانون سازی کی گئی تھی جس پر حکام کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چہرہ چھپانا ایسا ہے جیسے کوئی اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھ رہا ہے۔
بعض غیر سرکاری اداروں (این جی اووز) نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خلاف وزری کے مرتکب ہونےو الوں کو 15 دن قید کی سزا اور جرمانے کی سزا دیں، مزید خلاف ورزی پر قید کی مدت ایک برس اور جرمانے کی رقم 10 ہزار ڈالر تک بڑھائی جائے۔

شیئر: