یورپی یونین: ’ایران فوری طور پر یورینیم کی افزودگی روک دے‘

یورپی طاقتوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ معاہدے کی پاسداری کرے۔ فوٹو اے ایف پی
یورپی طاقتوں نے ایران کو یورینیم کی افزودگی بڑھانے پر وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے فوری طور پر روک دے اور معاہدے کی پاسداری کرے۔
واضح رہے کہ 2015 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے میں تین یورپی ممالک نے بھی دستخط کیے تھے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایران کسی تاخیر کے بغیر معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی نیوکلئیر سرگرمیاں ترک کردے۔‘
 بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کے سدباب کے لیے مشترکہ اجلاس جلد بلایا جائے۔‘ 
ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی 3.67 سے بڑھا کر 4.5 کرنے پر یورپی یونین نے معاملے کو سلجھانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں اور فرانس کے صدر نے اپنا سفارتی مشیر تہران بھیجا ہے تاکہ 2015 میں ہوئے جوہری معاہدے کو بچایا جا سکے۔

ایران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی معیشت کو سہارا دے فوٹو اے ایف پی

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہوئے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا، معاشی فوائد دینا اورایران کی بین الاقوامی تنہائی کا خاتمہ کرنا تھا۔
ایران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وعدے کے مطابق  وہ ایرانی معیشت کو سہارا دے اور امریکی پابندیوں کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ایران کی مدد کرے۔
تاہم 2018 میں مئی کے مہینے میں امریکی صدر کی طرف سے معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے بعد اس معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی میں اضافہ نہ کرے۔

یورپی ممالک نے مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے فوٹو اے ایف پی

اے ایف پی کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ ایران بہت غلط کام کر رہا ہے، اور بہتر ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے۔‘
یاد رہے گذشتہ اتوار کو ایران نے اعلان کیا تھا وہ 2015 کے تاریخی معاہدے میں مقرر کی گئی حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی کرے گا اور وہ مقرر کردہ 3.67 کی حد سے زیادہ یورنیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔
گذشتہ سنیچر کو فرانسیسی صدر ایمنیول میکرون نے ایرانی صدر حسن سے جوہری معاہدے کے بارے میں تمام پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے بارے میں ایک گھنٹے کی طویل ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کے بعد پیر کو فرانسیسی صدر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  سے بھی ایران کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق بات چیت میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔
امریکہ ایران کشیدگی
ایران اور امریکہ کے درمیاں حالیہ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب گذشتہ سال ٹرمپ ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے۔
خیال رہے  ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ ہوئی تو ایران کا نام و نشان مٹ جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔
ٹرمپ نے یہ نھی کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہیں۔

ایران پر حملے کے حکم کو واپس لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کی طرف سے حتمی حملے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی امریکی طیارے ایران پر حملے کے لیے فضا میں تھے۔
واضح رہے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے۔
ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے صدر ٹرمپ نے آخری لمحے میں واپس لیا تھا۔
 

شیئر: