لائن آف کنٹرول کے پار بہہ جانے والی پاکستانی بچے کی لاش لواحقین کے حوالے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے نو سالہ عابد شیخ کی پانی میں بہہ کر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پہنچنے والی لاش چار روز بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے بچہ نالے میں گر کر دم توڑ گیا جس کے بعد اس کی لاش پانی میں بہہ گئی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بچے کی لاش کب انڈیا کے زیرِ اتنظام کشمیر جا پہنچی۔ کنٹرول لائن کے پار مقامی افراد نے پانی میں ایک بچے کی بہتی لاش دیکھ کر اسے نکال لیا اور اس کے والدین کو تلاش کرتے رہے۔
تلاش میں مدد حاصل کرنے کے لیے معصوم عابد شیخ کی تصویر مقامی افراد نے فیس بک پر اپ لوڈ کی جس کے بعد کنٹرول لائن کے پار انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے اس کے بارے میں معلومات ملیں۔
بچے کے چچا بلال شیخ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عموماً عابد کو سکول سے ساڑھے گیارہ بجے چھٹی ہوتی تھی اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ  گھر آ جاتا تھا لیکن اس دن وہ گھر نہ پہنچا تو اہلِ خانہ سمجھے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دو بجے آ جائے گا لیکن ایسا بھی نہ ہوا۔
بلال شیخ کے مطابق جب کافی دیر ہو گئی تو انھوں نے مقامی پولیس چوکی اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سمیت تمام متعلقہ محکموں کو بچے کی گمشدگی کی اطلاع دی۔
انہوں نے بتایا کہ ’فیس بک پر بچے کی تصویر اپ لوڈ کر کے گمشدگی کے اعلانات کیے گئے تو اگلے دن ہمارے ایک سکول ٹیچر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے کال موصول ہوئی کہ جس بچے کی تصویر آپ نے اپ لوڈ کی اس کی لاش ہم نے دریا سے نکالی ہے۔
بچے کے چچا نے بتایا کہ انڈین آرمی نے کامری کے مقام پر لاش پاکستانی آرمی کے حوالے کی۔ پاکستانی فوجی حکام شناخت کے لیے عابد کے والد نذیر شیخ کو بھی ساتھ لے کر گئے۔ والد نے اپنے بچے کی لاش شناخت کی جس کے باضابطہ حوالگی عمل میں لائی گئی۔

جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو عبور کرنا منع ہے، فوٹو: اے ایف پی

بلال شیخ کے مطابق گزشتہ روز بھی لاش حوالگی کی ایک کوشش کی گئی تھی لیکن بوجوہ وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک تجویز یہ بھی دی گئی تھی کہ لاش کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ٹٹیال سیکٹر روانہ کر دیا جائے اور براستہ وادی نیلم ، مظفر آباد اور شاہراہ قراقرم استور اور پھر منی مرگ پہنچایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اس عمل میں دو سے تین روز لگ سکتے تھے اور لاش خراب ہونے کا بھی اندیشہ تھا اس لیے اہل خانہ نے اس اسے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے اس موقع پر لاش کی حوالگی میں کردار ادا کرنے والے دونوں ملکوں کے فوجی حکام اور بالخصوص ان مقامی افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے لخت جگر کی لاش تین روز تک سنبھال کر رکھی اور واپسی کے لیے کوشاں رہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو ڈپٹی کمشنر ضلع استور عظیم اللہ نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا  تھا کہ جس علاقے میں بچہ لاپتہ ہوا وہ فوجی علاقہ ہے اس لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوجی حکام نے بھی تلاش میں مدد کی۔

شیئر: