پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، کشیدگی فوری روکنے اور سفارت کاری کی بحالی کا مطالبہ
پاکستان نے ایران کے خلاف ہونے والے ’بلاجواز‘ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی محاذ آرائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف ’پیش بندی کے تحت حملہ‘ کیا ہے جس کے نتیجے میں خطے میں تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تہران کے مغرب کے ساتھ جاری جوہری تنازعے کے سفارتی حل کی امیدیں مزید مدھم ہوگئی ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حملوں کے بعد اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
دفترِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’اسحاق ڈار نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کی اور بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے فوری سفارت کاری کی بحالی کے ذریعے کشیدگی روکنے پر زور دیا۔‘
دونوں رہنماؤں نے ایران اور وسیع تر خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
دوسری جانب دفترِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ’وہ تحفظ اور سلامتی کے پیش نظر ایران کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔‘
ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے وہاں مقیم پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور اپنی سفری دستاویزات ہمہ وقت پاس رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ایران کی شہری ہوا بازی اتھارٹی کی جانب سے عائد پابندیوں کے تناظر میں سفر کا ارادہ رکھنے والوں کو پروازوں کے شیڈول اور سرحدی اوقات کار کا بغور جائزہ لینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
پاکستانی سفارت خانے نے تہران، زاہدان اور مشہد کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز بھی جاری کیے ہیں۔