پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر فعال ہیں: پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی
حملے کے باعث تہران کی فضائی حدود کو پاکستانی وقت ساڑھے گیارہ سے شام پانچ بجے تک بند رکھا جائے گا (فوٹو: اے پی)
پاکستان نے سنیچر کو کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہیں، جبکہ ایران نے اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد تہران کے فضائی علاقے کو عارضی طور پر سول ایوی ایشن کے لیے بند کر دیا ہے۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف بقول اُس کے ’پیشگی دفاعی‘ فضائی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں عسکری تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ایران کے مغرب کے ساتھ دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
ایرانی حکام نے فضائی حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تہران کی فضائی حدود میں سول پروازوں کی عارضی پابندی عائد کر دی۔ ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرلائنز کے لیے نوٹم جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تہران کی فضائی حدود کو پاکستانی وقت ساڑھے گیارہ سے شام پانچ بجے تک بند رکھا جائے گا، جس کے بعد ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان فضائی راستوں پر اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے۔
ایران کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بین الاقوامی ایئرلائنز متبادل روٹس کا جائزہ لینے پر مجبور ہو گئیں، جس سے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کی فضائی حدود سے گزرنے والی ٹریفک میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جاری بیان میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ ’پاکستان کا ایئر ٹریفک کنٹرول مکمل طور پر تیار ہے۔ تمام کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور فلائٹس میں کسی قسم کی تاخیر، پابندی یا سکیورٹی خدشات کی اطلاع نہیں ملی۔‘
اتھارٹی نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ایران نے فضائی پابندی کا دورانیہ شام پانچ بجے کے بعد تک بڑھایا تو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی اوور فلائٹ ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، خصوصاً رات کے وقت جب طویل فاصلے کی بین الاقوامی پروازیں اپنے روٹس ایڈجسٹ کرتی ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایرانی صورتِ حال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات بھی جاری کی ہیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کی اپیل کی ہے، جبکہ ایران میں موجود پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور پاکستانی سفارتی مشنز سے رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان نے اپنی فضائی حدود سے متعلق کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی۔
