Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اختیارات کا ٹکراؤ: جب امریکی صدور نے جنگ چھیڑنے کے لیے کانگریس کو ’بائی پاس‘ کیا

سنہ 1787 میں دستخط شدہ امریکہ کی اس بنیادی دستاویز میں صدر کو فوج کا ’کمانڈر ان چیف‘ قرار دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے آغاز نے ایک بار پھر امریکی صدور اور کانگریس کے درمیان اس طویل اور تلخ کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے کہ غیر ملکی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ’بڑی جنگ‘ کے اعلان پر مبنی اپنے ویڈیو خطاب میں ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ سے کسی قسم کی اجازت یا مشاورت کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا۔
ایسا کر کے انہوں نے نہ صرف ڈیموکریٹس کو نظر انداز کیا جو جنگی اختیارات پر فوری ووٹنگ کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ اپنی ریپبلکن پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تاکہ ایک دبے ہوئے مقننہ پر اپنا غلبہ ثابت کر سکیں۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں، جنہیں ’گینگ آف ایٹ‘ کہا جاتا ہے، کو ایران پر حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے کے لیے کال کی تھی تاہم انہوں نے بتایا کہ ایک رہنما سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ مارکو روبیو نے منگل کے روز ایک گھنٹے طویل بریفنگ میں انہی رہنماؤں کو صورتحال سے آگاہ کیا اور مشاورت بھی کی تھی۔
امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے لیکن اس کے ساتھ ہی 1787 میں دستخط شدہ امریکہ کی اس بنیادی دستاویز میں صدر کو فوج کا ’کمانڈر ان چیف‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جسے حالیہ برسوں میں امریکی رہنماؤں نے بہت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔
کانگریس کی جانب سے جنگ کا آخری باضابطہ اعلان دوسری جنگ عظیم کے موقعے پر کیا گیا تھا۔ غیر مقبول ویتنام جنگ کے دوران ایسی کوئی قرارداد سامنے نہیں آئی تھی اور یہی وہ وقت تھا جب کانگریس نے اپنے اختیارات دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سنہ 1973 میں رچرڈ نکسن کے ویٹو کے باوجود ’وار پاورز ریزولوشن‘ منظور کیا گیا جو بیرون ملک صدر کی یکطرفہ فوجی کارروائی پر واحد دیرپا پابندی بن گیا۔
یہ قانون صدر کو امریکہ پر حملے سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں محدود فوجی مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔
سنیچر کو اپنے ویڈیو خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کے جواز کے لیے ’فوری خطرے‘ کا حوالہ دیا۔
ساٹھ دن کی مہلت
اس قانون کے تحت صدر کے لیے لازم ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو مطلع کرے۔
مزید برآں اگر صدر 60 دنوں سے زیادہ عرصے کے لیے امریکی افواج تعینات کرتا ہے تو اسے کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باقاعدہ اجازت لینا ہوتی ہے جو کہ جنگ کے باضابطہ اعلان سے کم درجے کی چیز ہے۔
امریکی کانگریس نے خاص طور پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد طاقت کے استعمال کی اجازت دی تھی۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی صدور نے اسے نہ صرف 2001 میں افغانستان پر حملے کے لیے استعمال کیا بلکہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے منسلک کئی ممالک میں آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا۔

امریکی کانگریس نے خاص طور پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد طاقت کے استعمال کی اجازت دی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے کانگریس کو بائی پاس کر کے فوجی آپریشن شروع کیے۔ ڈیموکریٹ بل کلنٹن نے 1999 میں قانون سازوں کی مخالفت کے باوجود نیٹو مہم کے حصے کے طور پر کوسوو پر فضائی حملے کیے تھے۔
بارک اوباما نے بھی سنہ 2011 میں لیبیا میں فضائی حملوں کے لیے یہی طریقہ اپنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں سنہ 2018 میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر شام پر فضائی حملے کر کے اسی مثال کی پیروی کی تھی۔
لیکن اقتدار میں واپسی کے بعد سے 79 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کو ان کی آخری حدوں تک دھکیلنے کی کوشش کی ہے جس میں فوجی شعبہ بھی شامل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے مشورہ کیے بغیر لاطینی امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث مبینہ کشتیوں پر حملوں کا حکم دیا اور جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی محاذ پر بھی اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

شاید ان کا سب سے متنازع اقدام تین جنوری کو ایک تیز رفتار فوجی چھاپے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کا حکم دینا تھا۔ تاہم ریپبلکنز ڈیموکریٹس کی اس کوشش کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے جس کے ذریعے وینزویلا آپریشنز پر ان کے اختیارات محدود کیے جا سکتے تھے۔
دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی محاذ پر بھی اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
ڈیموکریٹس نے ریپبلکن صدر کی جانب سے کئی امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر کڑی تنقید کی ہے جسے صدر جرائم اور امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیتے ہیں۔

شیئر: