انگلینڈ 1992 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل میں

انگلینڈ کے کھلاڑی جیسن رائے میچ کے بعد دوستوں اور فیملی کے ساتھ بغل گیر ہو رہے ہیں۔ فوٹو روئٹرز
انگلینڈ 26 سال بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔ ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلیںڈ نے آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا 223 رنز بنائے جسے انگلش بیٹسمینوں نے با آسانی 33ویں اوور میں پورا کر لیا۔

انگلینڈ کی بیٹنگ

انگلینڈ نے بیٹنگ شروع کی تو دونوں اوپنرز نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 124 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔آسٹریلیا کو پہلی کامیابی 18ویں اوور میں ملی جب سٹارک نے 34 رنز پر بیرسٹو کو ایل بی ڈبلیو کیا۔دوسرے اوپنر جیسن روئے 85 رنز پر کیچ آؤٹ ہوئے، امپائر کے آؤٹ دینے کے فیصلے پر روئے نے حیرانگی کا اظہار کیا مگر پویلین روانہ ہو گئے۔اس کے بعد کپتان مورگن اور روٹ نے بھی اوپنرز کی طرح بہترین پارٹنر شپ بناتے ہوئے ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے کمنز اور سٹارک نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ

آسٹریلیا نے بیٹنگ شروع کی تو یکے بعد دیگر دو وکٹیں گرنے سے ٹیم پریشر میں آگئی سب سے پہلے آرچر نے کپتان ایرون فنچ کو صفر پر آؤٹ کیا۔انگلش بولر ووڈ نے اگلے ہی اوور میں خطرناک بلے باز ڈیوڈ وارنر کو پہلی سلپ میں کیچ آؤٹ کرا دیا۔دو وکٹیں گرنے سے آسٹریلین ٹیم پریشر میں آگئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ووکس نے ہینڈس کوب کو چار رنز پر بولڈ کر دیا۔اس کے بعد سمتھ اور کیری نے ٹیم کو سہارا دیتے ہوئے 103 رنز کی پارٹنر شپ جوڑی جسے راشد نے کیری کو 46 رنز پر آؤٹ کے کنارے لگایا۔نئے آنے والے بیٹسمین سٹونس کو راشد نے صفر پر ایل بی دبلیو کر دیا جس کے بعد آسٹریلین ٹیم پر ایک بار پھر انگلش بولرز کی دھاک بیٹھ گئی۔میکسویل 22 رنز بنا کر مورگن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔راشد نے کمنز کو صرف چھ رنز پر آؤٹ کر کے اپنی تیسری وکٹ حاصل کی۔سمتھ نے مشکل وقت میں ٹیم کا سنبھالا مگر 85 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔سٹارک 29 رنز پر ووکس کا شکار بنے۔برینڈروف کو ایک رن پر وڈ نے بولڈ کیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے راشد،ووکس نے تین، آرچر دو، جبکہ وڈ نے ایک وکٹ حاصل کی۔
آسٹریلیا کی ٹیم نے ورلڈ کپ کے اپنے نو میچز میں سے سات میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب انگلینڈ نے چھ میں کامیابی حاصل کی اور تین ہارے۔
ماضی کا ورلڈ کپ ریکارڈ دیکھا جائے تو آسٹریلیا کوانگلینڈ پر  برتری حاصل رہی ہے دونوں ٹیمیں اب تک آٹھ مرتبہ ورلڈ کپ میں مدمقابل ہوئیں چھ میں آسٹریلیا نے میدان مارا جبکہ صرف دو بار انگلینڈ کی ٹیم کینگروز کو زیر کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اس ورلڈ کپ کی بات کی جائے تو آسٹریلیا نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے مگر انگلینڈ کی ٹیم نے جس طرح تین میچز ہار کر کم بیک کیا ہے وہ کسی بھی ٹیم کے لیے خطرے کی علامت ہے یہی وجہ ہے کہ شائقین کرکٹ کی جانب سے انگلینڈ کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے مگر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے مچل سٹارک کے کیگروز ٹیم میں ہونے سے انگلینڈ کو محتاط انداز اپنانا پڑ سکتا ہے۔
ورلڈ کپ کے اب تک 11 ایڈیشنز کھیلے گئے مگر انگلینڈ کی ٹیم اب تک ایک بھی ورلڈ کپ اپنے نام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

شیئر: