ججوں کے خلاف ریفرنس: حکومت کا جواب جمع

سپریم کورٹ کے احاطے میں وکلا نے صدارتی ریفرنس کے خلاف دھرنا دیا ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں جسٹس قاضی فائزعیسٰی اور جسٹس کریم خان آغا کے خلاف بھیجے گئے صدارتی ریفرنس پر کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اٹارنی جنرل نے حکومت کا جواب جمع کرا دیا ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان نے نوٹس پر پیش ہو کر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں حصہ لیا اور حکومت کا تحریری جواب جمع کرایا۔
جمعہ کو صدارتی ریفرنسز پر بند کمرے میں ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے ان کیمرا اجلاس کی صدارت کونسل کے چیئرمین جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی۔
اجلاس میں کونسل کے دیگر ممبران جسٹس گلزار احمد جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس احمد علی شیخ شریک تھے۔
اس موقع پر سپریم کورٹ کے احاطے میں وکلا نے صدارتی ریفرنس کے خلاف احتجاج کے طور پر دھرنا دیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے کل سنیچر کو ملک بھر میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے۔
 

کیا وکلا کے احتجاج سے سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے خلاف ریفرنس واپس لے گی؟ فوٹو اے ایف پی

خیال رہے کہ دو جولائی کو ہونے والا اجلاس آدھ گھنٹہ جاری رہا تھا اور اس کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تاہم گذشتہ ہفتے آج کے اجلاس کے لیے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو نوٹس بھجوایا گیا تھا۔
اس سے قبل 14جون کو منعقدہ پہلے اجلاس کی کارروائی کے اختتام پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس کے کے آغا کو صدارتی ریفرنس اور اس کے ساتھ منسلک دستاویزات بھیج کر ان کا مؤقف مانگا گیا تھا۔
 دو جولائی کے اجلاس کے بعد وکیل حامد خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے قانون اور قواعد کے تحت ابتدائی اجلاس کے بعد جس جج کے خلاف ریفرنس ہو اس کا مؤقف سامنے آتا ہے اور اگر تحریری جواب کے بعد بھی ضرورت محسوس کی جائے تو مذکورہ جج کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنا جواب دینے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران عدالت کے احاطے میں وکلا تنظیموں کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ  پاکستان کے وکلا ملک کی بقا، عدلیہ کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہیں۔ امجد شاہ نے کہا کہ ہم ججز کے خلاف یہاں نہیں کھڑے، مطالبہ کیا تھا کہ تمام ریفرنسز کی سماعت کی جائے، ہمیں کچھ تحفظات ہیں۔

شیئر: