جادو ٹونے کے الزام میں انڈیا میں دو خواتین سیمت چار افراد قتل

سنہ 2000 سے 2012  تک انڈیا میں دو ہزار افراد جادو کرنے کے شبہے میں قتل کیے گئے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کی ریاست جارکھنڈ میں جادو  کرنے کے الزام میں گاؤں کے مشتعل افراد نے چار افراد کو ڈنڈوں سے تشدد کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ریاست کے قبائلی علاقے کے ایک گاؤں میں دو خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ہجوم نے ڈنڈے مار کر ہلاک کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک درجن سے زائد ڈنڈا بردار افراد نے سنیچر کو رات گئے مذکورہ خاندان پر حملہ کیا۔
ریاست جارکھنڈ کے گملا ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے اے ایف پی کو بتایا کہ واقعے کا تعلق جادو ٹونے سے ہے۔ ان کے مطابق ایک جادوگر نے گاؤں والوں کو بتایا کہ گاؤں میں وقوع پذیر ہونے والے منفی واقعات کا تعلق اس فیملی کی جانب سے مبینہ طور پر جادو کرنے سے ہیں۔
گملا ریاستی دارالحکومت رانچی سے 100 کلومیٹر دور قبائلی علاقہ ہے۔  ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعداضافی اہلکار سسکری گاؤں پہنچ گئے ہیں اور وہاں حالات کنٹرول میں ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن ہے لیکن کوئی بھی یہاں تک کہ متاثرہ خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد بھی اس واقعے کے بارے میں کچھ کہنے سے انکاری ہیں۔ ’شاید وہ لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہوں۔‘

 انڈیا میں ماضی میں خواتین کو چڑیل قرار دے کر قتل کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ضلع کے سب سے سینیئر پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے انڈیا کے دور دراز دیہاتی علاقوں خصوصاً قبائلی علاقوں میں جادو ٹونے پر یقین اور اس کے لیے عمل کرایا جانا عام ہیں۔
ماضی میں خواتین کو چڑیل اور ڈائن قرار دے کر گاؤں والوں کی جانب سے مار دینے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2000 سے 2012  کے درمیان انڈیا میں دو ہزار افراد جادو کرنے کے شبہے میں قتل کیے گئے۔
انڈیا میں جار کھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں لوگوں کو جادو ٹونے کے شبہے میں قتل ہونے سے بچانے کے لیے خصوصی قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

شیئر: