'یہاں سے مت نکالیں کیونکہ مجھے اسی جگہ ہی مرنا ہے'

گھروں کی مسماری سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے کئی خاندان بے گھر ہوجائیں گے۔ (فوٹو:اے ایف پی)
اسرائیلی فورسز نے جنوبی یروشلم کے قریب ایک فلسطینی علاقے میں گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے، خدشہ ہے کہ اس سے کئی خاندان بے گھر ہوجائیں گے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ گھر غیر قانونی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے  18 جون کو اس گاؤں کے مکینوں کو گھر خالی کرنے کے لیے 30 دن کا نوٹس جاری کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فورسزکے اس اقدام نے بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی ہے۔
پیر کو علی الصبح درجنوں اسرائیلی پولیس اور فوجیوں نے صور باھر گاؤں کی کم از کم چار عمارتوں کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔
اس علاقے میں صحافیوں اور سماجی کارکنان کو جانے سے روک دیا گیا تھا اور مکینوں کو زبردستی نکالا گیا۔
اے ایف پی کے مطابق ایک شخص چیخ رہا تھا ’ مجھے یہاں سے نہ نکالیں میں یہاں مرنا چاہتا ہوں۔‘

اسرائیلی افواج کی جانب سے پہلے بھی فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کیا جاچکا ہیں۔ (فوٹو:اے ایف پی)

فلسطینیون کی یہ عمارتیں اس علاقے میں واقع ہیں جہاں فلسطین اور اسرائیلی ریاست ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتی ہیں۔ 
فلسطینی اسرائیل پر الزام لگاتے ہیں کہ سکیورٹی کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں کو اپنے علاقے سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر گھر اور عمارتیں فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں۔
صور باھر کے ایک رہائشی اسماعیل عبادیہ کہتے ہیں ’اسرائیل کے اس اقدام سے ہم بے گھر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا ’ ہم سڑکوں پر آجائیں گے۔‘
واضح رہے کہ یورپی یونین کے سفیروں نے حال ہی میں اس علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔
اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ گھروں کی مسماری کو روک دیا جائے۔

شیئر: