مسئلہ کشمیر پر ثالثی’ انڈیا میں سیاسی طوفان تھما نہیں‘

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پرثالثی سے متعلق بیان پر انڈیا میں سیاسی طوفان تھما نہیں۔ اپوزیشن نے منگل کو بھی پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور’ مودی جواب دو ‘کے نعرے لگائے ۔
راجیہ سبھا میں کانگریس کے پارلیمانی رہنما غلام نبی آزاد نے کہا’ ہم اپنے وزیر اعظم پر اعتماد کرنے کو تیار ہیں‘ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں‘ لیکن ہمارا مطالبہ ہے ’وزیر اعظم ایو ان میں آئیں اور بتائیں سچ کیا ہے‘ ۔
اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ’ وزیر اعظم ایوان میں آ ئیں اور بیان دیں، اس کااپوزیشن فیصلہ نہیں کرے گی‘۔ 
 لوک سبھا میں بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے معاملے کو اٹھایا گیا کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کرنے لگے۔ 
وزیر خارجہ ایس جے شنکر بیان دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آکر بیان دینا چاہیے۔ بعدازاں اپوزیشن رہنما واک آوٹ کر گئے۔ 
 رائٹرکے مطابق پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے انڈین حکومت نے کہا کہ’ وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کےلئے کبھی نہیں کہا‘۔

 

وزیر خارجہ ایس جے شنکر جو جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کے دوران مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں انڈین وفد کا حصہ تھے لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاجی ارکان کو بتایا کہ’ وزیر اعظم مودی نے مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ سے کسی مدد کے متلاشی نہیں‘۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں ایوان کو یقین دلایا کہ وزیراعظم کی طرف سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی ۔’اپنی بات کو دہراتا ہوں ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی ‘۔
ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انڈیا کے تنازعات میں تھرڈ پارٹی ملوث نہیں ہو سکتی۔ وزیر خارجہ نے حکومتی موقف دہراتے ہوئے کہا کہ تمام حل طلب دیرینہ مسائل کو صرف دوطرفہ بنیادوں پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے ۔پاکستان کے ساتھ بات چیت سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط ہے ۔

شیئر: