لیاری گینگ وار، سیاست اور فکری سفر

آج کل لوگ لیاری کو جرائم، منشیات اور گینگ وار کی علامت سمجھتے ہیں لیکن یہ اصل لیاری نہیں ہے۔ لیاری کی اصل پہچان سیاسی و فکری شعور، روشن خیالی اور رواداری ہے جو نصف صدی پہلے تک واضح طور پر موجود تھی۔
تاریخی طور پر پسماندگی اور مزاحمت کی علامت کراچی کی یہ قدیم بستی غیرتعلیم یافتہ اور بیروزگاروں بلوچوں، کچھیوں، سندھیوں اور مارواڑیوں کی رہائش گاہ رہی۔ ثقافتی ونسلی کثیر رنگی اور رواداری اس کا حسن تھا۔
مختلف برادریاں مختلف علاقوں سے یہاں آ کر بسیں اوراپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس بستی کی بڑی شناخت کا حصہ بنیں۔ یہاں کے رہائشی مختلف پیشوں اور بندرگاہ مزدوری سے وابستہ رہے۔ اس بستی کا گدھا گاڑی کلچر بندرگاہ کی وجہ سے وجود میں آیا۔
70 اور 80 کے عشرے میں حالات بگڑنا شروع ہوئے۔ باکسنگ، فٹ بال، کرکٹ، ڈانس، گدھا گاڑی ریس سمیت مختلف کھیلوں کی وجہ سے مشہور لیاری گینگ وار گروپوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیاری دہشت کی علامت سمجھا جانے لگا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیاری کو دہشت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ فوٹو اے ایف پی

60 کے عشرے سے پہلے لیاری کی سیاست ہارون فیملی کے گرد گھومتی تھی۔ لال بخش رند، یوسف نسکندی اوراکبر بارکزئی ایک عرصہ سے لیاری کے نوجوانوں کو سیاسی تعلیم دے رہے تھے وہ بالآخر ہارون فیملی کی سیاسی گرفت سے نکل آئے۔
پہلا احتجاج
لیاری نے سیاسی شعور کا پہلا اظہارایوب خان کے دورحکومت میں کیا۔ جب یہاں کے رہائشی اپنے گھروں کے مالکانہ حقوق کے لیے احتجاج پر اترے۔ سالہا سال ان کے پاس یہ مالکانہ حقوق نہیں تھے۔
ہوا یوں کہ کراچی میں تجارتی و صنعتی ترقی ہوئی تو لیاری شہر کے پرانے کاروباری مرکز کے قریب ہوگیا۔ ایوب خان حکومت نے بڑے کمرشل مراکز اور بندرگاہ کے لیے گودام تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 63 تک لیاری نوٹی فائیڈ ایریا تھا، لوگوں کو پکے مکان بنانے کی اجازت نہیں تھی، لہٰذا حکومت نے لیاری کے رہائشیوں کو یہاں سے اٹھا کر ملیر کھوکھرا پار میں کے ڈی اے سکیم سترہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کے اس اقدام پر رہائشیوں میں سخت غم وغصہ کی لہر پیدا ہو گئی۔ 

لیاری کے رہائشی اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

قدیم رہائشیوں کی ناجائزمنتقلی  کے خلاف بھرپور احتجاج ہوا جس پر لاٹھی چارج کیا گیا، احتجاج میں نیشنل عوامی پارٹی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ککری گرائونڈ میں بڑا احتجاجی جلسہ ہوا جس سےعطااللہ مینگل، واجا اکبر بارکزئی، واجا یوسف نسکندی، لال بخش رند اور دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا۔ احتجاج نے حکومت کو اپنا منصوبہ ترک کرنے پرمجبور کردیا۔ لیاری میں اسی دورمیں نیشنل عوامی پارٹی اورعوامی لیگ مضبوط ہوئیں۔
بلوچ قوم پرستی کی جنم بھومی
لیاری کو بلوچ قوم پرستی کی جنم بھومی مانا جاتا ہے۔  ڈاکٹر فیروز احمد کے مطابق لیاری کا اثر بلوچستان پر پڑا اور بلوچستان کی قوم پرستی کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
ککری گراؤنڈ میں 1962 میں بلوچستان میں ناانصافیوں کے خلاف ایک بڑا اجتماع ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ لیاری کے لوگوں  نے بلوچ رہنماؤں خیر بخش مری، میرغوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل اور بلوچی شاعر گل خان نصیر کو دیکھا اور سنا۔
مکران  کے رہائشی عبدالباقی بلوچ عوامی لیگ کی ہدایت پر حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار محمود ہارون کے مقابلے میں لیاری سے الیکشن لڑے۔ یہ ایوب خان کا بنیادی جمہوریتوں کا دورتھا۔
میرغوث بخش بزنجو بھی یہاں رکن اسمبلی بنے۔ اسی دورمیں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچ طلبا نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی۔

میرغوث بخش بزنجو بھی یہاں سے رکن اسمبلی بنے۔ فوٹو فیس بک

سیاسی  خسارے  کا آغاز
 کیمونسٹ پارٹی میں ماسکو اور چین نوازگروہ بندی کا لیاری کے سیاسی اور فکری گراؤنڈ پرمنفی اثرپڑا۔ اس ایکٹوازم نے بھٹو کے لئے سٹیج تیار کیا۔ لیاری پر دو کتابیں لکھنےوالے رمضان بلوچ کہتے ہیں کہ چین نوازگروپ سے رحیم بخش آزاد، عثمان بلوچ و دیگر پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔
ملک کی مضبوط طلبا تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں اینٹی سردارگروپ کے نام سے تقسیم ہوئی۔ انہی دنوں بائیں بازو کے زیراثرلیاری نوجوان تحریک بنی۔ 
پیپلزپارٹی کو واک اوور
دوسرا نقصان 1970 کے انتخابات کے وقت ہوا جب بلوچ رہنماؤں نے لیاری کو سیاسی طور پر چھوڑدیا، یہاں کے بجائے اپنے آبائی علاقوں سے الیکشن لڑے اور سیاست کی۔ کراچی کی تاریخ، سیاست و سماجیت پرجامع کتاب لکھنے والے گل حسن کلمتی بتاتے ہیں کہ ان رہنماؤں کی عدم موجودگی میں پیپلزپارٹی کو لیاری میں سیاسی اور فکری حوالے سے واک اوورمل گیا۔
انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی حکومت میں آئی۔ اس نے لوگوں کو سیاسی طور پراپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے نوکریوں اور دیگرمراعات کے دروازے کھول دیے۔ اب نوجوان حالات کو تبدیل کرنے کی اجتماعی جدوجہد کے بجائے اپنے ذاتی حالات ٹھیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔ یوں لیاری کا سیاسی اور فکری اثاثہ کم ہوتا گیا۔ 
پرانے سیاسی کارکن اور دانشور رحیم بخش آزاد نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’لیاری کے تعلیم یافتہ نوجوان حقوق کی سیاست سے جڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا مضبوط ہاتھوں نے جرائم، منشیات اور گینگ کو متعارف کرایا جس نے کراچی کی بہت ہی زیادہ متحد، طاقتور برادریوں کو تقسیم کر دیا۔ یوں لیاری بلوچ قوم پرستی کے گہوارے سے تبدیل ہو کر ڈرگ اور گینگ مافیاز کی آماجگاہ بن گیا۔

بلوچ رہنماؤں کی عدم موجودگی میں پیپلزپارٹی کو لیاری میں سیاسی اور فکری حوالے سے واک اوورمل گیا۔ فوٹو فیس بک

سیاسی بیداری کی ابتدائی کہانی
لیاری سیاسی شعور اورحقوق کے لیے جدوجہد کی پرانی تاریخ رکھتا ہے۔ نورالدین ابتدائی سیاسی و سماجی کارکنوں میں سے ہیں۔ انہوں نے 1932 میں پندرہ روزہ اخبار ’البلوچ‘ جاری کیا۔ 1939 میں میر غوث بخش بزنجو نے نورالدین کو بلوچ لیگ کی نمائندگی کے لیے مستونگ میں ہونے والی قلات نیشنل پارٹی کی کانفرنس میں بھیجا۔ 1930 کے عشرے میں واجا غلام محمد نورالدین نے بلوچ لیگ کے نام سے سیاسی تنظیم قائم کی۔ مشہور بلوچ رہنما غوث بخش بزنجو نے اپنا سیاسی کیریئر اس تنظیم سے شروع کیا۔
ضیا دور
ضیا دورمیں لیاری نے ایم آرڈی تحریک میں بھی حصہ ڈالا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ رومانس جاری رکھا۔ سعید بلوچ کہتے ہیں کہ لیاری کا سیاسی کلچر ضیا دور میں بگڑا۔
 لیاری کے بلوچوں کو معاشی طور پر پیچھے دھکیلنے کا دودسرا مرحلہ ایم کیو ایم کا دورحکومت تھا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اداروں سے بلوچوں کو نکالا گیا۔ کچھیوں، سندھیوں اوربلوچوں کو آپس میں لڑایا گیا۔ دو ہزار نو میں نثار بلوچ کو قتل کیا گیا۔ ایک سال پہلے زاہد بلوچ کا قتل ہوا، وہ حقوق کے لیے لیاری کے لوگوں کو منظم کر رہے تھے۔
جب سٹڈی سرکل اورروزمرہ کی سیاست  سکھانے والے استاد ہی چلے گئے تو میدان فکری اور ذہنی لڑائی کے بجائے ہاتھوں اور ہتھیاروں کی لڑائی کی طرف چلا گیا۔
غربت اورمسائل تو تھے ہی اوپر سے لوگ سیاسی طورپر بھی لاوارث ہوگئے۔ گل حسن کلمتی کہتے ہیں کہ ’سیاسی جماعتوں نے لیاری کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا‘   
2013 میں لیاری نے پیپلزپارٹی سے ہلکی بغاوت کی۔ انہوں نے پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں پرانے جیالے شاھجہان کو کامیاب کیا۔  دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں بلاول بھٹو ہارگئے اور تحریک لبیک جیت گئی۔ گل حسن کلمتی کے مطابق یہ لیاری کو سیاسی طور پراستعمال کرنے کا ردعمل تھا۔
ادب اور ثقافت
لیاری کے رہائشیوں کی منتقلی کے خلاف تحریک چلانے والوں ماسٹر یارمحمد بلوچ، لال بخش رند، محمد یوسف بلوچ اور فقیرمحمد بلوچ نے انجمن بیداریہ بلوچاں کے نام سے تنظیم بنائی۔
پروفیسر خدابخش بلوچ سباد دشتیاری نے 60 کےعشرے میں سیاسی شعور اور ادب میں نمایاں کردارادا  کرنے والے سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام سے لائبریری قائم کی جو نایاب کتابوں کے لیے مشہور ہے۔

لیاری میں ایکٹوزم کے بانی لال بخش رند، یوسف نسکندی اور اکبر بارکزئی۔ فوٹو فیس بک

لیاری کی کمیونٹی کے حقوق اوراس میں سیاسی و فکری شعور پیدا کرنے میں صدیق بلوچ، عبدالرحیم بلوچ، عثمان بلوچ، عائشہ سومرو، لالا گل محمد ہوت، جی آر گلاب، خالق زردان، غلام اکبر بلوچ اور رمضان بلوچ کے کردار کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
ازسرنو ابھار کی کوششیں
گینگ وار کے کچھ ’لاڈلے‘ آپس کی لڑائیوں  میں مارے گئے۔ اس کے ساتھ  قانون نافذ کرنے والوں نے آپریشنز کیے، تب جا کریہ پُرامن علاقہ بنا۔ تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے لگیں۔
آج زندگی رواں دواں اور کاروباری سرگرمیاں پوری طرح بحال ہیں۔
گینگ وار کی وجہ سے سیاسی لوگ لیاری چھوڑ کر چلے گئے۔ عرصے تک ایسے لوگوں کی عدم موجودگی میں ترقی پسند فکر اورسوچ کا خلا پیدا ہوا تھا۔ اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ اہل فکر و دانش پلٹ رہے ہیں۔ ہر ہفتے ادبی، ثقافتی یا سیاسی بحث مباحثے کی نشست ہوتی ہے۔ لیاری پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ ادبی میلے ہو رہے ہیں۔ نوجوان مختلف شعبوں میں ابھر کر آ رہے ہیں۔ لیاری کے دانشوروں کو خدشہ ہے کہ  کہیں مضبوط ہاتھ یہ سفر روک نہ دیں۔
 

شیئر: