’فیول کے پیسے جمع کرائیں ورنہ پرواز روانہ نہیں ہو گی‘

فیول کے پیسے جمع کرانے کی بات پر طیارے میں سوار مسافر طیش میں آگئے۔ فوٹو اے ایف پی
خلیجی ممالک میں محنت مشقت کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرنے والے مزدوروں کو طیارے میں بیٹھتے وقت اس انداز سے بھاگتے دوڑتے اور نشستوں پر قبضہ کرتے ہوئے تو بارہا دیکھا ہو گا کہ گویا وہ کسی لوکل بس سے سفر کر رہے ہوں لیکن کسی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کھڑے طیارے پر سوار مسافروں سے ہوائی جہاز کے فیول کی قیمت چندے کے انداز میں جمع کرنے کی کہانی شاید کبھی سننے میں نہ آئی ہو۔
دنیا بھر میں مشہور تیونس کے انٹرنیشنل قرطاج ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے ایک عراقی شہری نے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپ ڈال کر عرب دنیا کے لوگوں کو اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب ویڈیو کلپ میں بتایا گیا کہ تیونس سے بغداد جانے والی پرواز کے پائلٹ نے مسافروں سے کہا ہے کہ پرواز کے فیول کی قیمت تین ہزار ڈالر ہے اور وہ  جلد از جلد جمع کرا دیں۔ اس کے بغیر پرواز روانہ نہیں ہو گی۔
روسی ٹی وی آر ٹی کے مطابق مسافروں نے جیسے ہی یہ اعلان سنا تو وہ طیش میں آگئے اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہوائی جہاز سے اتر کر ایئرپورٹ پر لیٹ گئے۔

پائلٹ نے مسافروں سے کہا ہے کہ پرواز کے فیول کی قیمت 3ہزار ڈالر ہے اور وہ  جلد از جلد جمع کرا دیں۔ فوٹو اے ایف پی

عراق کے محکمہ شہری ہوا بازی نے اس کی تصدیق یہ کہہ کر کی کہ تیونس کے سیکیورٹی حکام نے عراقی ایئر لائنز کے طیارے کو فیول کی رقم نہ دینے کی وجہ سے قرطاج ایئر پورٹ سے پرواز سے روک دیا ہے۔
مسافروں نے شکوہ کیا کہ وہ صبح سویرے سے ایئر پورٹ پہنچے ہوئے ہیں۔ فیول کی رقم نہ دینے کی وجہ سے پرواز میں تاخیر پر تاخیر ہوتی چلی گئی۔
آر ٹی کے مطابق تیونس میں عراقی سفارتخانے نے مداخلت کر کے مسئلہ حل کرایاا ور اعلامیہ جاری کیا۔  اعلامیے میں کہا گیا کہ پائلٹ جان بوجھ کر فیول کی قیمت ادا کرنے میں پس و پیش کر رہا تھا یہی پرواز میں تاخیر کی وجہ بنی۔ 
اعلامیے کے مطابق  تیونس کے حکام نے عراقی طیارے کو اپنی تحویل میں لے کر پرواز سے نہیں روکا تھا۔

شیئر: