کراچی کی کم عمر کاروباری شخصیت

کراچی کی آٹھ سالہ ایمان دانش نے کچھ عرصہ پہلے اپنے چھوٹے بھائی احمد دانش کے کھیلنے کے لیے گھر میں پڑی فالتو چیزوں کو توڑ مروڑ کر کھلونوں کی شکل دینا شروع کی۔
احمد دانش نے جب 6 ماہ کی عمر میں گھٹنوں کے بل چلنا شروع کیا تو اس کا سارا دھیان گھر کے استعمال کی چیزوں اور الیکٹرک بورڈز پر ہوتا تھا۔ ایسے میں ایمان نے لکڑی کے ایک بورڈ پہ استعمال شدہ الیکٹرک بٹن اور پردے کے پرانے ہُک لگائے اور اسے واکر کی شکل دی تاکہ احمد کو کھیل کے علاوہ چلنے میں بھی مدد ملے۔ اس وقت ایمان کی عمر محض ساڑھے 6 سال تھی اور وہ پہلی جماعت میں پڑھ رہی تھیں۔
 بھائی کو وہ کھلونے اچھے لگے لیکن یہ کھلونے بناتے بناتے ایمان کو بھی یہ کام بھلا لگنا شروع ہو گیا۔ اور انہوں نے یہ چیزیں زیادہ مقدار میں بنانا شروع کر دیں۔

ایمان کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات  صرف استعمال شدہ اور ماحول دوست اشیا سے ہی بنی ہوتی ہیں۔

ان کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے ان کی والدہ زنیرہ خان جو کہ ایک انٹیرئر ڈیزائنر ہیں، نے ان کی حوصلہ افزائی کی اوران کی پیشہ ورانہ بنیادوں پر تربیت شروع کر دی۔ اور ان کو فیس بک پیج بنا کر دیا جہاں پر ایمان کی بنائی ہوئی چیزوں کے گاہک آنا شروع ہو گئے۔ 
2017 میں انہوں نے ایک نمائش میں حصہ لیا، جس میں انہوں نے پرانی اشیا سے فریج میگنٹس بنا کر پیش کیے، جو انتہائی مقبول ہوئے۔
ایمان کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات  صرف استعمال شدہ اور ماحول دوست اشیا سے ہی بنی ہوتی ہیں۔ ’میرے کاروبار کا مرکزی خیال ماحول دوست اشیا بنانا اور استعمال شدہ اشیا کام میں لانا ہے۔‘
ایمان کی والدہ انہیں لکڑی کے ضائع شدہ ٹکرے لا دیتی ہیں جن کوایمان کام میں لاتی ہیں۔ ایمان کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر میں ایک کونا مختص کیا ہوا ہے، جہاں ایمان ہروقت کام میں مصروف رہتی ہیں۔
’’اس کونے کو ہم آرٹ کارنر کہتے ہیں جہاں ایمان کے استعمال کی تمام اشیاء، رنگ اور اوزار رکھے گئے ہیں۔ یہیں ایمان پینٹنگ بھی کرتی ہیں۔‘‘

ایمان کی والدہ کے مطابق ان کے کاروبار کا ماہانہ منافع 8 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

2018 میں ایمان نے نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانے والے  ’بزنس انکیوبیشن سینٹر‘ میں داخلہ لیا۔  وہاں سے ایک ماہ کے کورس میں انہوں نے کاروبار کو مزید نکھارنے اور اسے مستحکم بنانے کے گُر سیکھے۔
 انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ کسی ایک پراڈکٹ پہ توجہ دیں اور اسے بہتر بنا کر بیچیں، جس کہ بعد ایمان نے فریج میگنیٹس پہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔
زنیرہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایمان کے کاروبار کا ماہانہ منافع 8 ہزار کے لگ بھگ ہے اور کبھی 20-25 ہزار تک کی فروخت بھی ہوئی ہیں۔ ’یہ تمام منافع ماحول دوست سرگرمیوں میں صرف کیا جاتا ہے۔
ایمان نے گزشتہ برس نیسٹ آئی او کے علاوہ آئی بی اے سے بھی سمر کورس کیا تھا، اس وقت ایمان کی عمر 7 سال تھیں اور انہیں کم عمر ترین خاتون کاروباری شخصیت قرار دے دیا گیا تھا جنہوں نے اس چھوٹی سی عمر میں کاروبار کی تربیت اور گرانٹ حاصل کی۔
اگلے ماہ ایمان ایک بین الاقوامی کاروباری مقابلے میں حصہ لے گی جس میں 55 دیگر ممالک کے شرکا بھی اپنے اپنے کاروباری آئڈیاز پیش کریں گے۔ اس مقابلے میں ایمان ایک ماحول دوست پاکستانی گڑیا کا آئیڈیا پیش کرے گی جو کہ پرانی گڑیا کو ’ری سائیکل‘ کر کے بنائی جائے گی۔
اس وقت ایمان تیسری جماعت کی طالب علم ہیں۔ انہیں آرٹس کا شوق ہے، اس سلسلے میں وہ انڈس ویلی سکول آف آرکیٹیکچر سے کورس بھی کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ بڑے ہو کر بھی وہیں سے پڑھیں اور فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کریں۔

شیئر: