’انڈیا نے جارحیت کی تو جواب سخت ہوگا‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا ہے اگر انڈین فوج نے کسی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان 27 فروری سے بڑھ کر جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کی مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورت حال اور کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
واضح رہے کہ فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 14 فروری کو پلوامہ کے مقام پر انڈین سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ انڈیا نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا اور اس کے بعد انڈین فضائیہ نے 26 فروری کو پاکستانی حدود میں آ کر بمباری کی تھی۔
پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 27 فروری کو فضائیہ کے دو جنگی جہازوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک تازہ ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کئی دہائیوں سے کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں تعینات انڈین فوج بہادر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہی ہے اور فوج میں حالیہ اضافہ بھی بے سود ثابت ہوگا۔
میجر جنرل آصف غفور نے یہ ٹویٹ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کے کمانڈر چنار کور لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں کے بیان کے جواب میں کیا ہے۔
جنرل ڈھلوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کشمیر میں ہونے والے واقعات پر کھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ہم سب کو دیکھ لیں گے۔ اگر کسی نے امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی تو ہم اس کو ختم کردیں گے۔‘
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ انڈیا میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال پر میڈیا میں بلیک آوٹ ہے جب کہ آزاد کشمیر غیر ملکی میڈیا اور اقوام متحدہ کے مبصرین کے لیے کھلا ہے، وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا، تصویر: وزیراعظم آفس

واضح رہے کہ انڈیا کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے کے فیصلے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک بار پھر صورت حال سخت کشیدہ ہو گئی اور سرحدوں پر دونوں ممالک کی فوجوں کی نقل و حرکت بھی شروع ہو گئی۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا تھا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، انڈیا کے یک طرفہ اقدامات کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انڈیا کے ایسے اقدامات کشمیریوں کو بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ پاکستان انڈین حکومت کے فیصلے کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد ہوا، تصویر: اے ایف پی

سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ
کشیدگی پیدا ہونے کے بعد پاکستان نے بدھ کو انڈیا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈین ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں پانچ اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا جس میں سفارتی تعلقات کم کرنے، تجارتی تعلقات معطل کرنے کے علاوہ دوطرفہ معاملات پر نظر ثانی کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی، تصویر: پی آئی ڈی

انڈین ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم

قومی سلامتی کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کے تناظر میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات انڈین ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
بدھ کی شب دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انڈین حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر کو نئی دلی نہیں بھیجا جائے گا۔

شیئر: