’اقلیتیوں کے وزیر اعظم اور صدر بننے پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ ‘

’آئین سے مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق سے متصادم شقوں کا خاتمہ کیا جائے‘ (فوٹو:اے ایف پی)
پاکستان میں اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کرنی تنظیم ’پاکستان منارٹیز الائنس‘ نے ملک میں اقلیتوں کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ’منارٹیز الائنس پاکستان‘ کے چیئرمین اکمل بھٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’آئے روز اقلیتی خواتین کے اغوا اور جبراً تبدیلی مذہب کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔‘
انہوں نے اقلیتیوں پر صدر اور وزیر اعظم بننے کی آئینی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک میں انتخابی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ 

’اقلیتوں میں احساس محرومی ختم کرنے کے لیے وفاقی سطح پر وزارت اقلیتی امور کو بحال کیا جائے‘

تنظیم کے چیئرمین اکمل بھٹی نے اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق ، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں میں اضافہ اور مخصوص نشستوں کی حلقہ بندیوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’موجودہ انتخابی طریقہ کار غیر جمہوری ہے۔ اس نظام کے تحت مصنوعی لیڈرشپ ہمارے سر پر بٹھا دی جاتی ہے جو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہان کی خوشنودی کے مطابق اقدامات کرتی ہے‘۔
تنظیم نے اقلیتی خواتین کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کے حوالے سے  حکومت سے ترجیحی بنیادوں پر قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ اقلیتوں میں احساس محرومی ختم کرنے کے لیے حکومت سے وفاقی سطح پر وزارت اقلیتی امور کو بحال کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

’اقلیتی خواتین کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات پر حکومت  قانون سازی کرے‘۔ (فوٹو:اے ایف پی)

اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے چئیرمین اکمل بھٹی نے کہا کہ ’ 11 اگست 1947 کو پہلی دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم محمد علی جناح کے خطاب کو آئین پاکستان کے اقتباس کا حصہ بنایا جائے، آئین  سے اقلیتوں کے بنیادی حقوق سے متصادم شقوں کا خاتمہ کیا جائے اور حساس مذہبی قوانین کے تحت جیلوں میں قید بے گناہ ملزمان کو رہا کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کی مردم شماری میں اقلیتوں کی درست اعداد و شمار ظاہر کیے جائیں۔ ملک میں 5 فیصد ملازمتی کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنانے اور تعلیمی اداروں میں 5 فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
’پاکستان منارٹیز الائنس ‘ کے چیئرمین  کا مزید کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 2014 میں سپریم کورٹ کی اقلیتوں کے حوالے سے مرتب کی جانے والی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے۔

شیئر: