فریضے کی ادائیگی کیلئے زمین بیچ دی، انڈین حاجی

ہندوستان کی ریاست پٹنہ  بہار سے آنے والے ایک حاجی عبدالرشید کا کہناتھاکہ  زندگی کے حالات اس قدر سخت تھے کہ صبح وشام روزی روٹی کی فکر میں ہی لگ رہے۔ ہمیشہ سے خواہش تھی کہ فریضہ حج ادا کروں مگر وہ جو کہتے ہیں کہ حج نصیب سے ہی ہوتا ہے اور جب مقدر میں اس سرزمین میں آنے لکھا ہو تو اسباب بھی خود ہی بن جاتے ہیں ۔ ارادہ تو برسوں سے تھا مگر وسیلہ ہی نہیں بن رہا تھا اخراجات اس قدر زیادہ تھے کہ بس سے باہر مگر حج کرنے کی خواہش بھی بہت تھی ۔
 
مشاعر مقدسہ میں اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معمر اور لاغر عبدالرشید کا جذبہ دیدنی تھا ،ویل چیئر پر بیٹھے معمر حاجی نے مزید کہا "  پہلے میرا نام عبدالرشید تھا ،اب اس میں ایک لفظ حاجی کا بھی اضافہ ہو گیا ہے جو میری برسوں کی خواہش تھی ، دعا ہے کہ رب تعالی میری اس کوشش کو شرف قبولیت عطا کرے اور مجھے صحیح معنوں میں باعمل حاجی بنائے " ۔

ہما رے معاشی حالات انتہائی خراب رہے ۔جب بھی حج کا ارادہ کرتے مگر تنگی دامن کاسامنا کرنا پڑتا

معمر عبدالرشید کی اہلیہ فائزہ بی بی نے بتایاکہ ہما رے معاشی حالات انتہائی خراب رہے ۔جب بھی حج کا ارادہ کرتے مگر تنگی دامن کاسامنا کرنا پڑتا ۔ ہر برس ہم یہی سوچتے تھے کہ اس سال تو درخواست جمع کروادیں مگر جب اخراجات کو دیکھتے تو خاموش ہو کر اپنی خواہش کو دبا لیتے ۔ 
امسال جب حج کی درخواستیں جمع کرانے کا اعلان کیا گیا تو میں نے اپنے گھروالے سے کہا کہ کب تک ہم اسی طرح انتظار کرتے رہیں گے عمر بڑھتی جاری ہے  اور صحت بھی جواب دے دینے لگی ہے ۔ 
فائزہ بی بی نے مزید کہا " میں نے اپنے گھر والے سے کہا کیوں نہ ہم زمین ہی بیچ دیں اور رقم سے فریضہ کی ادائیگی کیلئے چلیں ،ہم کافی سوچتے رہے  دل نے فیصلہ صادر کر دیا کہ زمین کا کیا ہے اب تو بچے اپنے گھروں کے ہو چکے ہیں وہ خود ہی اپنے لئے کما لیں گے ۔ یہ سوچ کرہم نے بالآخر نے زمین فروخت کر دی اور حج کیلئے پیسے جمع کرادیئے  " 
یہ کہتے ہوئے فائزہ بی بی کی آنکھوں میں آنسو آگئے، ڈوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور کہا  ـ"شاید رب کی یہی مرضی تھی، میرے 3 جواں سال بیٹے جن میں ایک حافظ قرآن بھی تھا ،اب اس دنیا میں نہیں رہے ، اب میرے 3 بچے ہیں ،دعا ہے کہ رب کریم انہیں طویل عمر عطا کرے " ۔ 
حاجی عبدالرشید کا کہنا تھا کہ حج کے لئے جب رقم جمع کرارہے تھے تو یہ اس وقت سے دل کی عجیب کیفت تھی ۔ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہمارا بلاوا آگیا ہے جب احرام باندھ کر " گیا " کے حج ٹرمنل پر پہنچے تو ایسا لگ رہاتھا کہ خوابوں کی وادی میں گھوم رہے ہیں ۔ 
 

شیئر: