’انڈیا مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے‘ او آئی سی

 اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے روکے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
 او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عیدالاضحی کے اہم موقع پر مکمل ملٹری لاک ڈاﺅن، عید کے اجتماعات کی اجازت سے انکار اور کشمیری مسلمانوں کو مذہبی رسومات پر عمل کرنے سے روکے جانے پر تشویش ہے۔ 
 بیان میں کہا گیاکہ مذہبی حقوق سے انکار انسانی حقوق کے عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی اوردنیا بھر کے مسلمانوں کی ہتک ہے ۔اوآئی سی نے انڈین حکام پر زور دیا کہ وہ کشمیر ی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ یقینی بنائے تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر ا نپے مذہبی حقوق استعمال کریں۔
اسلامی کانفرنس تنظیم نے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر جموں وکشمیر تنازع کے مذاکرات سے حل کے لئے کوشش تیز کریں۔
 اس سے قبل اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی ) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے ایک بیان میں انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اوآئی سی کا کہنا تھا کہ اضافی پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فورسز کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے ممنوعہ کلسٹر ایمونیشن کے استعمال کی رپورٹس پر بھی تشویش ہے۔

 

سیکریٹری جنرل نے لائن آف کنٹرول پر انڈین فورسز کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات پر دکھ کا اظہار اور انڈیا کے زیر کنٹرول جمو ں وکشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔
اوآئی سی نے انپے موقف کو دہرایا تھاکہ عالمی برادری جموں وکشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے۔

شیئر: