Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اب امن کے بارے میں نہیں سوچتا‘، ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کو نوبیل انعام سے جوڑ دیا

چند روز پیشتر ماریہ ماچاڈو نے اپنے پیس پرائز کا میڈل صدر ٹرمپ کو تحفے میں دیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی مہم کو انہیں نوبیل امن انعام نہ دیے جانے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اب وہ امن کے بارے میں نہیں سوچتے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جزیرے کے بارے میں امریکی صدر کے ارادوں سے تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے اور یورپ کے ساتھ تجارتی جنگ کے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔
این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوج استعمال کریں گے تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ عزم دوہرایا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو یورپی ممالک کو ٹیرف کا نشانہ بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ڈنمارک سے گرین لینڈ کا اختیار حاصل کرنے کے لیے دباؤ کے سلسلے کو مزید تیز کر دیا ہے جس کے بعد یورپی یونین بھی جوابی اقدام کے لیے تیاری پر مجبور ہو گیا ہے۔
اس تنازع سے نیٹو کے اتحاد کے لیے شدید خطرات پیدا ہوئے ہیں جو کئی دہائیوں سے مغربی ممالک کی سلامتی کو محفوظ بناتا آیا ہے اور جو پہلے ہی یوکرین کی جنگ کے باعث دباؤ کا شکار ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے بھی اس کی پریشانی بڑھائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے اتحادیوں کا جنگوں میں ساتھ تب تک نہیں دیا جائے گا جب وہ دفاعی اخراجات نہیں بڑھاتے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی سے یورپ کے صنعتی شعبے کو شدید جھٹکا لگا ہے اور اس کو معاشی منڈیوں میں مسائل کا سامنا ہے۔

صدر ٹرمپ کافی دنوں سے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کی مہم چلا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سرمایہ کاروں نے 2025 کے دوران ہونے والی امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والی تجارتی جنگ کی واپسی کے خدشات ظاہر کیے ہیں جو سال کے وسط میں تب کچھ پرسکون ہوئی تھی جب فریقین ٹیرف کے معاہدے تک پہنچے تھے۔
صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیراعظم یوناس گار ٹورو کے نام ایک ٹیکسٹ پیغام میں لکھا کہ ’آپ کے ملک نے آٹھ سے زیادہ جنگیں روکنے کے لیے مجھے نوبیل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا، اب میں امن کے بارے میں سوچنا میری ذمہ داری نہیں، اب میں صرف یہ سوچتا ہوں کہ امریکہ کے لیے کیا بہتر ہے۔‘
وناس گار ٹورو نے فِن لینڈ کے صدر الیگزینڈر ستوب کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں تناؤ میں کمی لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے آدھے گھنٹے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے جواب موصول ہوا۔
خیال رہے امریکی صدر نوبیل امن انعام کے لیے خود کو موزوں امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی مہم چلاتے رہے ہیں اور بار بار کہتے رہے کہ انہوں نے آٹھ سے زیادہ جنگیں رکوائیں تاہم نوبیل پرائز کی کمیٹی نے یہ انعام وینزویلا سے تعلق رکھنے والی سیاسی رہنما ماریہ ماچاڈو کو دے دیا تھا۔
تاہم پچھلے دنوں ماریہ ماچاڈو نے اپنے امن انعام کا میڈل صدر ٹرمپ کو دے دیا جس کو انہوں نے اپنے پاس رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
دوسری جانب نوبیل پرائز کمیٹی کا کہنا ہے کہ انعام جس کے نام جاری ہوتا ہے اسی کا رہتا ہے اس کی ملکیت تبدیل نہیں ہوتی۔

شیئر: