ڈھول کہاں اور کیسے تیار ہوتے ہیں؟

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی سب سے بڑی تحصیل دیپالپور سے نکل کر دریائے ستلج پر ہیڈ سلیمانکی کا رخ کریں تو راستے میں ذہین اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تخلیقی لوگوں کا شہر حویلی لکھا آتا ہے۔   
یہاں کے باسی اعلیٰ معیار کا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ حقہ سازی اور موھڑوں کی تیاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ حویلی لکھا سے ہیڈ سلیمانکی روڈ پر تھوڑا آگے بڑھیں تو تقریباً پانچ کلومیٹر کی دوری پر بلوچی سٹاپ کے قریب ایک چھوٹی سی دکان کے باہر مختلف سائزوں کے ڈھول پڑے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ وہی دکان ہے جہاں کے بنے ڈھولوں کی تھاپ پر پنجاب بھر کے نوجوان، بچے اور بوڑھے شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر موقعوں پر دیوانہ وار رقص کرتے ہیں۔
لیکن اس دکان میں گذشتہ تین دہائیوں سے ڈھول بنانے والے لیاقت علی کے نام سے ڈھولیوں کے سوا شاید کوئی بھی واقف نہیں۔

ڈھول بنانے کے لیے شیشم کی لکڑی کواندر سے کھوکھلا کیا جاتا ہے۔

لمبی داڑھی اور درمیانے قد کے مالک لیاقت علی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کام وراثت میں ملا ہے لیکن انتہائی محنت طلب ہونے کے باوجود اب اس میں زیادہ کشش باقی نہیں رہی۔
10 برس کی عمر سے اپنے والد محمد اجمل کے ساتھ ڈھول بنا کر گھر والوں کا پیٹ پالنے والے لیاقت علی کے مطابق اب ان کا کام پہلے جیسا نہیں رہا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ڈھول بنانے کے لیے شیشم کی لکڑی استعمال ہوتی ہے مگر درختوں کی بیماری کے باعث پنجاب میں اب شیشم ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اب لیاقت اور ان جیسے ڈھول بنانے والے دیگر ہنرمندوں کو مطلوبہ لکڑی حاصل کرنے کے لیے پورا پنجاب گھومنا پڑتا ہے۔
ایک ڈھول بنانے کے لیے موٹے سائز کی لکڑی کا ایک ٹکڑا 14 سے 15 ہزار روپے میں آتا ہے۔ اس کے بعد اسے تراشنے اور ڈھول بنانے میں کئی روز کی محنت اور مہارت درکار ہوتی ہے۔
ڈھول کی تیاری کے لیے سب سے پہلے مشین پر لکڑی کا ٹکڑا کاٹنے کے بعد اسے کلہاڑے کے ساتھ گول کیا جاتا ہے۔ پھر سوراخ کرنے والے اوزار ورمے اور آری کے ساتھ لکڑی کا اندر والا حصہ خالی کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گول کی ہوئی لکڑی کو خراد کی مشین پر لگا کر اس کی اندر اور باہر سے صفائی کی جاتی ہے تاکہ اس کی آواز زیادہ سے زیادہ نکلے۔
جب لکڑی اچھی طرح گول ہو جاتی ہے تو اسے پالش کرکے سوکھنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

لکڑی کو ڈھول کی شکل دینے کے لیے خراد پر چڑھایا جاتا ہے۔

ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد ڈھول کا وزن اور سائز چیک کیا جاتا ہے اور اگر وزن زیادہ ہو تو خراد کی مشین پر اسے مزید تراشا جاتا ہے۔
لیاقت بتاتے ہیں کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں مختلف سائزوں کے ڈھول استعمال ہوتے ہیں۔
’اوکاڑہ میں اڑھائی فٹ کا ڈھول تیار ہوتا ہے جس کا وزن عموماً آٹھ کلو ہوتا ہے جبکہ لاہوری، فیصل آبادی، ملتانی اور گجراتی ڈھولوں کی شکل، سائز اور وزن الگ الگ ہوتے ہیں۔‘
گول کیے گئے ڈھول کی لکڑی سوکھنے کے بعد آخر میں اس پر چمڑا چڑھاتے ہوئے اس کی آواز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈھول کے لیے استعمال ہونے والا چمڑا بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔
اس کے لیے بکرے کی کھال استعمال ہوتی ہے اور بکرا بھی ایسا جس کی عمر 10 ماہ سے زیادہ نہ ہو۔

ڈھول کی شکل میں ڈھالنے کے بعد انہیں پالش کیا جاتا ہے۔

’چھوٹے بکرے کی کھال چونکہ باریک ہوتی ہے اس لیے یہ زیادہ آواز نکالتی ہے، اگر بڑے بکرے کی کھال استعمال کریں گے تو ڈھول صحیح سے آواز نہیں دے گا۔‘
لیاقت کے مطابق ایک ڈھول کی تیاری کے لیے بیک وقت دو مزدور کام کرتے ہیں، اس کے باوجود یہ کم از کم چھ سے سات دن میں مکمل ہوتا ہے۔
’ہم ایک ڈھول 22 سے 25 ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں، اس طرح ہفتہ بھر کام کرنے کے بعد دو کاریگروں کے حصے میں آٹھ سے 10 ہزار روپے مزدوری آتی ہے جو کہ اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے۔‘
خادم حسین، جو پاکپتن کے علاقے ملکہ ہانس سے تقریبا 40 کلومیٹر کا سفر موٹر سائیکل پر طے کر کے لیاقت علی سے ڈھول خریدنے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کا خاندان شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر ڈھول بجانے کا کام کرتا ہے اور وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے اسی دکان سے ڈھول خرید رہے ہیں۔
’میں اپنے بیٹے کے لیے ڈھول خریدنے آیا ہوں، میں نے پورے پنجاب سے پتا کیا ہے مگر ڈھول بنانے میں لیاقت جیسی مہارت کسی کے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب بھر کے ڈھولی نئے ڈھول خریدنے اور پرانے ڈھولوں کی مرمت کے لیے یہیں آتے ہیں۔‘
اس کام سے وابستہ کاریگروں کے مطابق شیشم کی کم ہوتی ہوئی لکڑی کے باعث اب کچھ لوگوں نے ڈھول سازی کے لیے نیم کی لکڑی استعمال کرنا شروع کر دی ہے مگر اس لکڑی سے بنا ڈھول زیادہ دیر کارآمد نہیں رہتا۔

محنت زیادہ اور مزدوی کم ہونے کی وجہ سے کاریگر اس کام کو چھوڑ رہے ہیں۔

لیاقت علی کہتے ہیں کہ شیشیم کی لکڑی سے بنا ڈھول سو سے ڈیڑھ سو سال تک بھی کارآمد رہ سکتا ہے لیکن نیم کی لکڑی کا ڈھول چند سال نکالنے کے بعد ناکارہ ہو جاتا ہے۔
کچھ عرصے سے زیادہ تر ڈھولچی بکرے کی کھال کی بجائے ایکسرے شیٹ کا استعمال بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ اس پر محنت نہیں ہوتی اور یہ سستی بھی مل جاتی ہے۔
’ایکسرے شیٹ 120 جبکہ کھال 250 روپے میں ملتی ہے، کھال کو سُکھانے اور اس کے اوپر سے بال اُکھاڑنے میں تین سے چار دن لگتے ہیں مگر ایکسرے شیٹ میں یہ سب نہیں کرنا پڑتا اس لیے لوگ کھال کا استعمال کم کرتے جا رہے ہیں۔‘
لیکن لیاقت علی کہتے ہیں کہ کھال اور ایکسرے شیٹ کی آواز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

ڈھول کی بہتر تھاپ کے لیے بکرے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔

’کھال کی آواز بہتر اور زیادہ ہوتی ہے جبکہ ایکسرے شیٹ کی آواز قدرے کم اور مختلف ہوتی ہے مگر آج کل شہروں میں آواز کا فرق کون جانتا ہے؟‘
لیاقت سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں ڈھول سازی کی صنعت رو بہ زوال ہے۔ محنت زیادہ اور مزدوری کم ہونے کی وجہ سے کاریگر اس کام کو چھوڑ رہے ہیں۔ حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی ڈھول بجانے کی ثقافت اورڈھول سازی سے وابستہ ہنر مندوں کی ترویج کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، لیکن وہ پھر بھی اپنے شوق اور فن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
’مجھے ساری زندگی ہو گئی یہ کام کرتے ہوئے، اب میں اس فن کو چھوڑ کر کچھ اور کروں بھی تو کیا کروں؟‘

شیئر: