’کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو روکا کیوں؟‘

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور کئی اپوزیشن لیڈروں کو انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر کے دورے سے روک دیا گیا۔ انہیں سری نگر ایئر پورٹ سے واپس بھیج دیا گیا ۔کانگریس سمیت8 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کا وفد ہفتے کی دوپہر سری نگر پہنچا لیکن چند گھنٹوں بعد ہی زبردستی نئی دہلی واپس روانہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسزنے وفد کے ہمراہ میڈیا ٹیم سے بدسلوکی کی اور ان پر تشدد کیا۔
اپوزیشن کے وفد میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ )کے سیتا رام یچوری، جنتا دل (یو) کے شرد یادو، نیشنل کا نگریس پارٹی کے مجید میمن اور دیگر شامل تھے۔

راہول کو سری نگر ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

 انڈین خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق راہول گاندھی کا کہنا تھاکہ کچھ دن پہلے مجھے گورنر اور حکومت نے جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔اب میں آیا ہوں تو کہہ رہے ہیں آپ نہیں آسکتے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ حالات معمول پر ہیں۔ اگر ہر چیز نارمل ہے تو پھر مجھے کیوں روکا گیا۔ اس پر حیرت ہے۔ ہمیں سری نگر ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہمارے ساتھ موجود میڈیا کے افراد سے بدسلوکی کی گئی ، مارا پیٹا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک نہیں۔
اپوزیشن کے وفد میں شامل کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے بتایا ’ہمیں سری نگر شہر جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن جموں و کشمیر کی صورتحال خوفناک ہے۔ دوران پرواز کشمیری مسافروں سے جو کہانیاں سنیں اس سے پتھر دل بھی رو پڑیں گے‘۔
 انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ 20 دن سے ہمیں صورت حال کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل رہی ۔ 
 دوسری طرف انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر کے گورنر ستیہ پال نے موقف اختیار کیا کہ انہیں خیر سگالی کے لیے دعوت دی تھی لیکن انہوں نے سیاست کرنا شروع کردی۔ سیاسی جماعتوں کو ان اس وقت قومی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ’ راہول گاندھی کے دورہ سری نگر کی اب ضرورت نہیں ہے۔ ان کی ضرورت اس وقت تھی جب ان کے ساتھی پارلیمنٹ میں تقریر کررہے تھے۔ اگر وہ صورت حال کو بگاڑنا اور وہ جھوٹ جو انہوںنے دہلی میں بولا اسے دہرانے کے لئے یہاں آنا چا ہتے ہیں تو یہ اچھا نہیں ہے‘۔
 دریں اثناءانڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر کے تمام10 اضلاع میں ہفتہ کو مسلسل 20 ویں د ن بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب تھی۔ کچھ نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے ۔سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔ بینکوں کی شاخیں بھی بند نظر آئیں۔

شیئر: