سمندری طوفانوں کو ایٹم بم سے اڑا دیا جائے، ٹرمپ کی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سمندری طوفانوں کو بم سے اڑانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طوفان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کو سمندر میں ایٹمی بموں سے اڑا دیا جائے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسِیُوس کے مطابق سمندری طوفانوں سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اجلاس میں پوچھا ’کہ کیا افریقی ساحل سے آنے والے سمندری طوفانوں کو ایٹمی بم سے روکنا ممکن ہے؟‘
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی نیوز ویب سائٹ نے کہا کہ اجلاس کے شرکا یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ صدر کی اس تجویز کا کیا کیا جائے۔
امریکی صدر نے سمندری طوفانوں کو اڑانے کی تجویز پہلی دفعہ پیش نہیں کی، انہوں نے 2017 میں بھی ایک اعلیٰ انتظامی افسر سے اس حوالے سے بات کی تھی۔

یہ سمندری طوفان ساحلی علاقوں تک پھیل جاتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز پر بات کرنے سے انکار کیا ہے تاہم امریکی نیوز ویب سائٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اس تجویز کے پیچھے مقصد برا نہیں ہے۔‘
سمندری طوفانوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز نئی نہیں ہے۔ یہ تجویز 1950 کی دہائی میں ایک حکومتی سائنسدان نے بھی پیش کی تھی۔
یہ تجویز اس کے بعد بھی سامنے آتی رہی لیکن سائنسدان اس بات پر متفق تھے کہ ایٹم بم گرا کر طوفانوں کو نہیں روکا جا سکتا۔

سمندری طوفان سے زیادہ تر ساحلی علاقے متاثر ہوتے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)

امریکی ادارے نیشنل اوشنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق سمندری طوفانوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے نمٹنے کی تجاویز ہمیشہ سامنے آتی رہی ہیں کہ ان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی جائے اور ان طوفانوں کو تباہ کیا جائے۔
’ایک بم سمندری طوفان کو بدل تو نہیں سکے گا لیکن اس کی ہواؤں سے ایٹمی تابکاری کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیلیں گے، سمندری طوفانوں کو اڑانے کی تجویز ایک اچھا آئیڈیا نہیں۔‘
امریکہ سمندری طوفانوں سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ 2017 میں ہاروے کے نام سے ایک طوفان آیا تھا جو گذشتہ 12 برسوں میں سب سے شدید سمندری طوفان تھا۔

شیئر: