’دنیا کی اصل بادشاہت اسی کے پاس ہے‘

چند دہائیاں قبل لکھنے والوں کی تحریر و گفتگو میں موجود چاشنی اب نظر نہیں آتی۔ فوٹو: اے ایف پی
 اگر آپ اپنے 80 سالہ والد یا والدہ (یا اور اوپر چلے جائیں تودادا/دادی یا نانا/نانی) کی کوئی تحریر پڑھیں، بشرطیکہ انہوں نے کوئی تحریر چھوڑی بھی ہو، اور وہ کم از کم آٹھویں پاس ہوں، توآپ دیکھیں گے کہ یہ بزرگ عام تحریریں اور خطوط بھی حیرت انگیز طور پرعمدہ اور ادبی طرز کی لکھا کرتے تھے۔
ان کے قلم سے ادا شدہ تین چار جملے پڑھ کر ہی ہمیں اور آپ کو ادبی چاشنی کی جھلک محسوس ہو گی۔ وہ گنگا جمنی اردو بولتے لگیں گے، جیسے میر تقی میر شاعری کر رہے ہیں، جیسے عمدہ کتاب کا کوئی ورق پڑھ رہے ہوں۔
مثلا میرے والد کے ایک خط کی یہ سطور ملاحظہ ہوں۔ ”دن کی گرمی نے دماغ کی صلاحیتیں جلا کر ناکارہ کردی ہیں۔ بارے اس وقت آنکھ کھلی تو طبعیت کو موزوں پایا اور یہ چند سطور نوکِ قلم سے آپ کی سمع خراشی کے لئے ٹپک پڑیں“۔
واضح رہے کہ والد تقسیم ہند سے پہلے کے میٹرک پاس تھے، اگرچہ عمر اور تجربے کے باعث اہم ذمے داریوں پر فائز رہے۔ اس انداز کی تحریر ی صفت محض اس دور کے مردوں ہی میں نہیں، خواتین میں بھی پائی جاتی تھی۔ تحریریں کیا ہوتی تھیں، چاشنی میں رچی ہوتی تھیں اور معاملہ صرف تحریروں ہی کا نہیں، ان کی گفتگو کا بھی یہی تھا۔

 

بول چال سنیں تو لگے گا جیسے وہ بالکل شستہ اردو بول رہے (یا بو ل رہی) ہیں۔ جب کہ اِدھر ادھیڑ عمر تک کے لوگوں کی بول چال، تحریر سنیں یا پڑھیں، تو لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ اردو سے واقف ہیں، یا اردو ان کے گھر کی زبان ہے۔
سوسوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے مرحوم یا  بقیدِ حیات بزرگوں کی تحریروں میں ایسا جادوکیوں پایا جاتا تھا کہ باتیں یا تحریر سن اور پڑھ کر لوگ آج بھی بے ساختہ داد دینے پرمجبور ہوتے ہیں؟ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اس دور تک (جو ہندوپاک میں صدیوں تک چلتا رہاہے) تعلیم مشرقی انداز سے دی جاتی تھی۔ منشی وفاضل کا نصاب پڑھایا جاتا تھا، شیخ سعدی کی گلستان و بوستان مطالعے میں رکھی جاتی تھیں، زبان کی صفائی ستھرائی کواولیت دی جاتی تھی، برے اورگھٹیا الفاظ سے طلبہ کو دور رکھا جاتا تھا اور”اخلاق ِکریمہ و صفات جمیلہ“ پرہی تمام تر زوردیا جاتا تھا۔
فارسی اورعربی زبانوں کا چلن عام تھا کیونکہ انہی زبانوں میں ادب و شاعری کی روح بسی ہوئی نظر آتی تھی۔ نیز مافی الضمیر بیان کرنے کی وسعت بھی ان میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور وہ اردوزبان کی  ماں بھی گردانی جاتی ہیں۔
ظاہر ہے کہ جب تعلیم و ادب پر اس قدر توجہ دی جائے، ایمان، اخلاق اور زبان ترجیح ہوں توبولنے والوں کے لہجوں میں شیرینی کیوں نہ ہو اور گفتگو و تحریر میں اچھا رنگ کیوں نہ از خود جھلکنے لگے؟ وہ رنگ جسے سن اور دیکھ کر لوگ بے اختیار پکار اٹھیں کہ
”دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے جانا کہ گویا وہ بھی میرے دل میں ہے“

اچھا لکھنے کے لیے اچھا اور مستقل پڑھنا بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

جیسے لکھی ہوئی کوئی کتاب ہو، طبع شدہ کوئی غزل ہو جو دادا/دادی اورنانا/نانی کی زبان سے فرفر بیان ہورہی ہے۔ اگرچہ کہ وہ لوگ تب محض آٹھویں جماعت یا میٹرک پاس ہی ہوا کریں۔
زمانہ بدلا، ماحول بدلا، اخلاق و تہذیب کے چولے بدلے اور تعلیمی نصابات میں ترجیح کے معیارات تبدیل ہوئے تو بات یہاں تک پہنچی کہ خوبصورت وپرکشش جملوں کا تو سوال ہی کیا، کہنے والوں کا خود منہ بھی ٹیڑھا ہوا!
بقول شاعر ”خبرلیجے، دہن بگڑا“۔
عمدہ الفاظ تو منہ سے کیا ادا ہوں، سوال بلکہ یہ پیدا ہوگیا کہ ”آیاصاحب ِبیان“ کواردو بھی صحیح آتی ہے یا نہیں؟
پھر تو ’س‘ اور’ش‘ کا تلفظ بھی غلط ہوا اور ’مد‘ و’ہمزہ‘ کی ادائیگی بھی اجنبی ٹھہری!
چنانچہ ایسی صورت میں اب کوئی مضمون کیا لکھے؟ لکھے بھی توکیسے لکھے؟ اور زبان سے پھول بھی جھڑیں تو کیوں کر جھڑیں۔
بقول شاعر:                                                                                         
بنے کیوں کر کہ ہے سب کار الٹا
ہم الٹے، بات الٹی، یا ر الٹا
مضمون نگاری تو وہ فن ہے جس سے انسان کے درجے بڑھتے ہیں اورجو اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے! مگر خودیہ فن کیسے آئے؟ بھی ایک سوال ہے۔ سو بہت کچھ تواس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جرثومے بعض انسانوں میں قدرتی طور پرڈالے ہیں۔ اور کچھ اس وجہ سے کہ مشق در مشق کرنے سے مضمون نگار انہیں ذہن میں اُس انگریزی محاورے کے مطابق کہ    Practice makes a man perfect.  خود ہی جنم دے لیتا ہے۔ جو جتنی مشق کرے گا، سمندر کا وہ اتناہی شناور ہوگا۔ مگر مشق کے بھی کچھ خاص پہلو ہوتے ہیں، مطالعہ جن میں سر فہرست ہے۔
مطالعہ زبان وبیان میں حسن پید اکرتاہے، بولنے والے کی بات کو مدلل بناتا ہے، دنیا جہان کی گھر بیٹھے سیر کراتا ہے اور لوگوں کوخود پر داد دینے پرآمادہ کراتا ہے۔

اچھا مطالعہ لکھنے اور بولنے والوں کی تحریر اور گفتگو میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ایک مضمون نگارجو اپنا مافی الضمیرسات آٹھ سطرو ں میں پھیلا کربیان کرتا ہے، منجھا ہوامضمون نگار اسی بیان کو محض دو یا تین سطروں میں بحسن و خوبی سمودیتا ہے۔
حالی کا یہ جملہ کس قدر خوبصورت ہے کہ (غالب کے بیان و زبان کوسن کر بہت سے لوگ) ”بت بن جاتے تھے اور بت بننے والے سر ہلانے لگتے تھے۔‘‘
کسی صاحب طرز ادیب کا یہ قول فیصل کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ ”اگرمیں دو دن مطالعہ نہ کروں تو تیسرے دن میری گفتگو میں پھیکا پن آ جاتا ہے“۔ یہ ہے مطالعے کی وہ قوت جس پر ہم یہاں زور دینا چاہتے ہیں!
لیکن آج ہم جو کچھ یہاں دیکھ رہے ہیں وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں میں مطالعے کا رجحان افسوس ناک طور پر دم توڑتا جا رہا ہے۔ جب کہ اخلاق و تہذیب کا دامن ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
بدزبانی اور گالم گلوچ عام ہو رہی ہے اور پوری قوم بداخلاقی کے مجسمے میں ڈھلی نظر آتی ہے، اگرچہ کہ لوگ اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ ”عالم“ اور ”فاضل“  بن چکے ہیں۔ کل کی نسبت بھاری بھاری ڈگریاں آج ان کے ہاتھوں میں ہیں! گویا ”گھٹ گئے انساں اوربڑھ گئے  سائے“
مطالعہ کریں آپ قرآن مجید کا، مطالعہ کریں آپ شعرو شاعر ی کا۔ گیتوں اور آپ بیتیوں کا، سائنس و کائنات کا، اور بیرونی سفرناموں کا۔ جس قدر بھی آپ اپنے مطالعے کو بڑھائیں گے، اپنی تحریر کو اسی قدر ادبی رنگ، چاشنی اور دلائل سے مزیّن کریں گے۔
یہ سوال کہ مطالعہ کی یہ خصوصیت کیا محض نثر کے ساتھ وابستہ ہے؟ تو جواب یہ  ہے کہ ”نہیں، بلکہ شاعری کی راہ اختیار کرنے والے پر بھی اس کا اطلاق لازمی ہے۔                                                                                         
 اچھا شعر کیسے کہا جائے، پراثرغزل کیوں کر ادا کی جائے؟ اس کے لئے قدیم اساتذہ کے دیوانوں کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔
مضمون نگاری  کا ایک اور ناگزیرعنصر ادیبوں اورشاعروں کی صحبت بھی ہے۔ جو فرد جس صاحب طرز ادیب و شاعر کے ساتھ اپنی وابستگی طے کرے گا، اپنی تحریری صلاحیتوں کو وہ اسی قدر جِلا دے سکے گا۔ کیونکہ استاد اسے رہنمائی دے گا، اس کے عام الفاظ کوحسین الفاظ میں تبدیل کرے گا، اور اس کے عین غین کی ادائیگی کو ایک نیا رنگ دے گا۔
مضمون نگار اپنی تحریر سے معاشرے کی اصلاح کا کام لے سکتا ہے، لوگوں کو نئی جہتوں سے روشناس کرسکتا ہے، اخلاقی قدروں کی آبیاری کرسکتا ہے، حکمرانوں کو درستگی کی جانب متوجہ کرسکتا ہے۔ یا چاہے تو منفی کردار ادا کرکے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرسکتا ہے، بغاوت  کو جنم دے سکتا ہے اور لوگوں کوجہالت کے اندھیروں میں ڈبوسکتا ہے۔
مصنف پر بہت بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اس کا مذہب، اس کا اخلاق، اس کے وطن کی مٹی، اس سے بہت کچھ تقاضا کرتی ہے۔ سب کے سب اس سے اپنا حق مانگتے انصاف طلب کرتے ہیں۔
مصنف وہ خوش نصیب فرد ہے جس کے پاس قلم کی قوت ہے جس سے وہ مثبت ومفید کام لیتا ہے۔ بدنصیب ہے وہ شخص جو ان سب تقاضوں سے بغاوت کرتا اور باغیانہ خیالات کی ترویج کرتا ہے۔ قلم دراصل ہتھیار ہے جسے یا تو کوئی اندھا دھند استعمال کرلے یا اس پر مثبت طور پر قابو پا لے۔
فارسی کا معروف مصرعہ ہے کہ ”قلم گوید کہ من شاہِ جہانم“۔ قلم کا دعویٰ ہے کہ”دنیا کی اصل بادشاہت اسی کے پاس ہے“۔ ہر جگہ اسی کی روانی ہے اورہر جگہ اسی کی سلطنت ہے۔
کاغذ کے چھوٹے سے پرزے پر کسی کے قلم سے مختصر دستخط بھی کسی حکومت کوزیر و زبر اوراشخاص کو پست و بالا کرسکتے ہیں۔

 

شیئر: