’’تم کیسے چوہدرانی بن کر بیٹھو گی؟‘‘

فیمینزم ایک سوچ ہے جسے تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ فوٹو: اے ایف پی

صبح الارم بجنے پر آنکھ کھلی  تو فورا موبائل آن کیا اور ٹوئٹر پر پہنچ گئی۔ ایک  حضرت کی ٹویٹ دیکھی کہ  ’مسز خان کے ایک بیان نے فیمینزم کو تباہ کردیا‘  میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی کہ راتوں رات کیا طوفان آ گیا۔ سوچا کہ ان حضرت کو آڑے ہاتھوں لوں مگر پھر دل سے آواز آئی کہ پہلے مسز خان کی تو سن لو۔

من ہی من میں خود کوردعمل دینے کے لیے تیار کرکے میں نے یوٹیوب پر مسز خان کا ویڈیو کلپ ڈھونڈا۔ مسز خان نے ایک مارننگ شو میں ماں باپ کی علیحدگی سے بچوں پر مرتب ہونے والے اثرات پر بہترین تبصرہ کرتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کچھ یوں کیا ’’میں عورتوں سے کہتی ہوں کہ اپنی زبان کو زیادہ مت استعمال کرو۔ زبان کو کنڑول میں رکھو۔ یہ مسائل بڑھتے ہی تب ہیں جب لڑکی منہ زور ہوجاتی ہے۔‘‘

بچپن سے آج تک منہ زور گھوڑے کے بارے میں تو پڑھا تھا  آج منہ زور عورتیں بھی سن لیا۔ جلدی جلدی گوگل کرکے ریختہ سے مدد لی ،ساتھ ہی خود کو تسلی دی کہ دراصل مسز خان کے کہنے کا مطلب یہ تھا  کہ شوہر گالم گلوچ کرے، مار پیٹ کرے یا ہنسی مذاق میں تمہیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دے تو زیادہ زبان نہیں چلانی۔ یہاں ’لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے‘ والے محاورے پر عمل کرنا ہے۔


پاکستانی معاشرت میں خواتین کے کردار کا تعین رسوم و رواج کی روشنی میں کیا جاتا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

اس کے بعد مسز خان نے علم کے مزید موتی بکھیرتے ہوئے کہا کہ ’’شوہر آئے تو اس کے جوتے اور کپڑے طریقے سے رکھو، سالن بنا ہوا ہو اور چولہے پر توا چڑھا ہوا ہو تاکہ آپ گرما گرم روٹی بنا کر پیش کرسکیں‘‘ یہ بات سن کر تو میں گھبرا گئی۔ پھر خیال آیا کہ یہ ان شوہروں کے بارے میں ہے جنہیں عام طور پر گود لیا جاتا ہے۔ ایسے شوہروں کا ضرورت پڑنے پر منہ ہاتھ دھلوانا پڑے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، بس شرط یہ ہے کہ آپ ’ دھلائی کرنے‘ کے صحیح مفہوم سے واقف ہوں۔

 

اس کے بعد مسز خان نے انکشاف کیا کہ ’’اگر تم میں یہ تمیز اور طریقہ نہیں ہے تو تمہیں شادی نہیں کرنی چاہیے،اگر تم ایک ’پروپر‘ خاتون نہیں ہو تو شادی مت کرو۔ ‘‘یہ پروپر یعنی مکمل عورت کیا ہوتی ہے نہ کبھی دیکھی نا سنی۔

میری ماں کہتی ہیں کہ ایک بہترین عورت وہ ہوتی ہے جو باشعور ہو، اپنے حقوق و فرائض جانتی ہو، تعلیم یافتہ ہو اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔ اگر ایسا ہے تو مسز خان کا کہنے کا مطلب ہے کہ لڑکیو! نو عمری میں شادی نہ کرنا ! بلکہ اس وقت کرنا جب تم مکمل/ بہترین عورت بن جاؤ۔

اب سچ کہوں تومجھے  یہاں تک تو مسز خان کے بیان میں کوئی برائی نظر نہیں آئی ۔ پھر ویڈیو آگے چلی تو کانوں میں آواز پڑی کہ ’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ماں باپ کے گھر میں کون کھانا بناتا تھا، کون کما کر لاتا تھا وہی اصول آپ کے گھر میں بھی چلیں گے۔‘‘ اپنے گھر کا معمول یاد کیا جہاں صبح کا ناشتہ ابو بناتے تھے اور اماں سکول میں ملازمت کرتی تھیں۔ صفائی اماں کرتیں اور کپڑے ابا دھوتے تھے۔ سودا دونوں مل کرہی لاتے تھے۔  اگر مسز خان چاہتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی ایسا ہی ہوتو کیا غلط کہہ دیا انہوں نے؟

اچانک ماں باپ کی یاد آئی تو سوچا فون ملا کر گپ شپ کروں،  ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ پھر گرج دار آواز آئی۔’’تم کیسے چوہدرانی بن کر بیٹھو گی؟ کہو گی کہ میں صرف شوہر کا کام کروں گی سسرال کا نہیں کروں گی؟ ایسا ہے تو یو شوڈ گیٹ آؤٹ آف دی ہاؤس۔‘‘یہ سن کر  میرا سر چکرا گیا اور موبائل ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ سوچا شوہر سے کہوں کہ ایک گلاس پانی پلا دے ابھی آواز دینے کو منہ کھولا ہی تھا کہ مسز خان نے کہا’’ منہ بند کرکے بیٹھو۔ بہت منہ چلارہی ہو تم شوہر کے سامنے‘‘۔ یہ سن کر گلامزید خشک ہوگیا۔


پاکستانی خواتین اپنے لیے معاشرے میں رائج لگے بندھے کردار سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

دل میں آیا کہ مسز خان کا نمبر ڈھونڈوں اور انہیں فون کر کےبتاؤں کہ میں چوہدرانی نہیں ہوں ایک مڈل کلاس کی لڑکی ہوں تو کیا مجھے بولنے کا حق نہیں؟ ابھی یہ سوچا ہی تھا کہ جواب آیا ’’بہت منہ چلا رہی ہیں عورتیں۔ چاہے غریب گھر کی ہوں، امیر گھر کی ہوں یا مڈل کلاس کی ہوں‘‘اب سمجھ آیا کہ مسز خان تو کسی بھی عورت سے غیر مساوی سلوک کرنے کے خلاف ہیں اور ذات پات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سب لڑکیوں کو ایک لاٹھی سے ہانکنے پر یقین رکھتی ہیں۔ سبحان اللہ!!!

میں نے سوچا کیوں نا مسز خان جیسی عظیم ہستی کہ چرن تلاش کرکے ان سے آشیرباد لے لوں۔ ابھی بستر سے اٹھ کر اپنا جوتا تلاش کرہی رہی تھی کہ مسز خان نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا ’’یہ عورتیں ٹی وی دیکھ دیکھ کر اونچا اونچا منہ کھولتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہماری ماسی کیسے خانساماں کو باتیں سنا کر چلی جاتی ہے۔ شوہر بیچارا چپ کرکے سن رہا ہوتا ہے۔ وہ اتنی ’لو کلاس‘ کی عورت‘‘۔ یہ سننا تھا کہ ساری شیخی ہوا ہو گئی اور کچھ دیر کو مجھے خود پر سکتہ سا طاری ہوتا محسوس ہوا۔

تو کہانی یہ ہے مسز خان کی کہ انہیں ایک ماسی کا اپنے شوہر کے آگے بولنا اس لیے غلط لگتا ہے کہ وہ تو نچلی کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک یہ بات ہے کہ خانساماں اور ماسی رکھنے والی ایک خاتون عورتوں کو شوہر اور سسرال کے جوتے سیدھے کرنے اور گرم روٹی دینے کی نصیحت کررہی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اونچی اور گرجتی آواز میں تلخ لہجے کے ساتھ  نان سٹاپ گفتگو کرنے والی مسز خان کو عورتوں کا منہ کھولنا بہت ناگوار گزرتا ہے۔


’’کہو گی کہ میں صرف شوہر کا کام کروں گی سسرال کا نہیں کروں گی؟‘‘۔ فوٹو: اے ایف پی

عورتوں کو میرا ایک مشورہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر آپ کا کسی مسز خان سے واسطہ پڑے گا بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ کیونکہ یہی خواتین اپنے گھروں میں چوہدرانی بن کر رہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ آپ نوکرانی بن کر رہیں۔

یاد رکھیں کہ آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اپنے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کردیں تو آپ کے شوہر پر اس کا متبادل تلاش کرنا فرض قرار دیا گیا ہے، ایسے میں سسرالیوں کے جوتے سیدھے کرنے پر آپ کو کوئی کیسے مجبور کرسکتا ہے؟ شوہر کی خدمت دل سے کی جاتی ہے ڈنڈے کے زور پر نہیں۔

دوسری جانب مسز خان اور ان کے چاہنے والے مریدوں میرا مطلب ہے مردوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ فیمینزم کے خلاف دلائل سے بات نہیں کرسکتے تو برائے مہربانی ایسی آنٹیوں کا سہارا تو نہ لیں۔ فیمینزم ایک سوچ ہے جسے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور یہ جنگ آپ کے خلاف نہیں بلکہ پدر شاہی نام کی ایک استحصالی فطرت کے خلاف ہے۔ کچھ سمجھ میں بات آئی ہو تو ٹھیک ،ورنہ کبھی کوشش کریں کہ مسز خان کے مشوروں کی فہرست بیوی کے بجائے والدہ کے ہاتھ میں تھمائیں اور پھر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔

 

شیئر: