اسرائیل: مسجد الخلیل فلسطینیوں کے لیے بند

مسجد ابراہیمی قابض اسرائیلی افواج کے مسلسل حصار میں
اسرائیلی افواج نے جمعرات کو یہودی تقریبات کے بہانے مسجد ابراہیم الخلیل اور اس کا احاطہ فلسطینیوں کے لیے بند کر دیا جو 24 گھنٹے تک بند رہے گا۔ اسرائیلی فوج نے الخلیل مسجد میں یہودی آباد کاروں کو کھلی چھوٹ دیدی۔ انہوں نے مسجد کے خارجی صحنو ںمیں خیمے نصب کردیئے۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق الخلیل اوقاف میں تعلقات عامہ کے انچارج رائد مسودہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیم الخلیل 24گھنٹے کے لئے بند کی ہے۔ اس دوران کوئی بھی فلسطینی وہاں نہیں جاسکتا۔ کسی کو بھی وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری جانب یہودی آباد کاروں کو اس میں من مانی کی مکمل آزادی دیدی گئی ہے۔ اسی لئے یہودی آباد کاروں نے مسجد کے خارجی صحنوں میں خیمے نصب کرلئے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو کسی بھی ہنگامہ آرائی یا مزاحمت سے روکنے کیلئے ابراہیم الخلیل شہر میں چھاپہ مہم بھی شروع کررکھی ہے۔ انہوں نے 5اہم فلسطینیوں کو گرفتار کیا جن میں (یطا) مقام پر


مسجد ابراہیم الخلیل

الفتح تحریک کے سیکریٹری نبیل ابو قبیطہ، علاءماہر ذیاب ابو قبیطہ، اور عمر عامر یوسف الھرینی شامل ہیں۔ انہیں یطا میں مکانات پر چھاپے مار کر پکڑا گیا جبکہ علاءبرادعیہ کو صوریف قصبے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ 
یاد رہے کہ مسجد ابراہیم الخلیل ”حرم ابراہیمی“ کے نام سے مشہور ہے۔یہ مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے یہاں قابل احترام ہے۔یہ فلسطینی شہر الخلیل میں واقع ہے۔ اس مسجد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ جگہ اپنی دفن کے لئے ایک شخص سے خریدی تھی۔
 اسرائیلی حکام نے اسے 2حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ایک حصہ مسلمانوں کی عبادت اور دوسرا حصہ یہودیوں کی عبادت کیلئے مختص ہے البتہ جب بھی یہودیوں کا کوئی خاص مذہبی تہوار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں پورا علاقہ خالی کرالیا جاتا ہے۔ اس دوران صرف یہودی ہی وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔

شیئر: