دیسی پولیس کی سوکھی چھترول

پاکستان میں پولیس کے تشدد کے واقعات کی خبریں اکثر سامنے آتی ہیں: فوٹو اے ایف پی
بقول جون ایلیا پولیس بھلے امریکہ کی ہو پر اپنی فطرت میں ہوتی پنجاب پولیس ہی ہے۔ بس طریقوں میں معمولی فرق ہے۔ وہ ملزم کی پھینٹی سے پہلے تشریف پر جیلی لگا دیتے ہیں اور دیسی پولیس سوکھی چھترول کرتی ہے۔ وہ اقبالِ جرم کے لیے نتھنوں میں ٹپکاتے ہیں اور ہماری پولیس الٹا لٹکا کر نتھنوں سے خون نکلوا دیتی ہے۔
وہ ملزم کا مغز پھاڑنے کے لیے کانوں پر ہیڈ فون لگا کے بھیانک آوازیں کھول دیتے ہیں اور ہماری پولیس یہی کام مغلظات کی پٹاری کھول کے کر دیتی ہے۔ اس کے سوا کیا فرق ہے۔
مجھے اکثر پولیس اصلاحات اور پولیس کا امیج کیسے بہتر کیا جائے ٹائپ کے سیمیناروں میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ خوشبودار ریٹائرڈ پولیس بیوروکریٹس، کلف لگی وردی پہنے خوش اخلاق حاضر سروس پولیس افسر، ان کی دردمند و پرسوز انگریزی اردو میں گھلی نرم نرم گفتگو۔ لگتا ہی نہیں کہ ایسی پولیس کسی کو تھپڑ بھی مار سکتی ہے بلکہ ملزم کے آگے دوسرا گال بھی پیش کر دیتی ہوگی کہ لے تو اپنی حسرت پوری کر لے اس کے بعد اقبال بھی کر لیجو۔
اور پھر جب بدتمیز ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں آتی ہیں کہ ’پلس مقابلے‘ کے ماہر عابد باکسر نے اداکارہ نرگس کا سر اور بھنویں مونڈھ دیں، عبدالستار کو فلانے وڈیرے کے کہنے پر چیرا لگا دیا، ساہیوال میں انسدادِ دہشت گردی کے پولیس یونٹ نے کار میں سوار ایک خاندان کو دہشت گردی کے شبہے میں بھون دیا، لاہور کے علاقے کرول جنگل میں تھانہ گجر پورہ کا ایک خفیہ عقوبت خانہ پکڑا گیا، دماغی توازن سے محروم صلاح الدین ایوبی کو اے ٹی ایم کارڈ چوری کرنے کے الزام میں جمعے کو پکڑا گیا اور اتنی مستعدی سے تفتیش کی گئی کہ وہ تاب نہ لا سکا اور اتوار کو دم توڑ گیا۔
اور پھر ایسی خبریں پڑھنے اور سننے کے بعد اگر پولیس ریکارڈ چھانا جائے تو معلوم یہ پڑتا ہے کہ کم از کم آزادی کے بعد سے آج تک پولیس کے ہاتھوں تھانے میں کسی کی موت کسی اور سبب بھلے ہوئی ہو تشدد سے تو نہیں ہوئی۔
پولیس روزنامچوں میں اگر موت کی وجوہات پڑھی جائیں تو بہت موٹی موٹی آسان اور زوہضم سی ہیں۔ مثلاً دورانِ تفتیش ملزم پر دل کا دورہ پڑ گیا، ملزم نے گھبرا کر دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔
ملزم  پنکھے سے رسی باندھ کر لٹک گیا۔ ملزم نے پولیس والے کی بندوق چھین کر خود کو گولی مار لی، ملزم اپنے سیل میں رات تک بھلا چنگا تھا مگر صبح سنتری نے دیکھا کہ مردہ ہے۔
اسی طرح روزنامچے اور عدالتی بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج تک پولیس نے جان بوجھ کر کوئی اینکاؤٹر نہیں کیا۔ ہوتا دراصل یوں ہے کہ عموماً جب پولیس کسی ملزم کو لاک اپ سے نکال کر ہوا کھلانے، کسی دوسرے تھانے میں منتقل کرنے، خفیہ جگہ پر موجود اسلحہ برآمد کروانے یا دیگر ساتھیوں کے ٹھکانوں پر ملزم کی ہی نشاندہی پر چھاپہ مارنے کے لیے لے کر جا رہی ہوتی ہے تو عین اس وقت ملزم کے ساتھیوں کو جانے کیسے مخبری ہو جاتی ہے اور وہ اسے چھڑوانے کے لیے پولیس پارٹی پر اچانک حملہ کر دیتے ہیں۔
فائرنگ کے تبادلے میں ملزم مارا جاتا ہے، ایک دو سپاہیوں کو اناڑی حملہ آوروں کی گولیاں عموماً ہتھیلی یا پیر میں لگتی ہیں اور پھر حملہ آور ’دن دیہاڑے رات کی تاریکی میں‘ فرار ہو جاتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ملزم  کو خامخواہ کیڑا کاٹ لیتا ہے اور وہ بیڑیوں اور ہتھکڑیوں سمیت چلتی گاڑی سے کود کر فرار ہونے کی کوشش میں مارا جاتا ہے۔
پولیس مرنے کے بعد بھی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں کھولے بغیر لاش ڈالے میں ڈال دیتی ہے تاکہ فرانزک شواہد کو آنچ نہ آ جائے۔ کئی پوسٹ مارٹم رپورٹوں میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ متوفی ملزم کو زیادہ تر گولیاں پشت پر لگیں۔

رواں برس کے شروع میں ساہیوال میں انسدادِ دہشت گردی کے پولیس یونٹ نے کار میں سوار ایک خاندان کو دہشت گردی کے شبہے میں فائرنگ کر کے مار ڈالا تھا: فوٹو اے ایف پی

اس کا مطلب یہ ہوا کہ پولیس تو اسے گولی نہیں مارتی لیکن جب وہ پشت اپنے ساتھیوں کی طرف کر کے الٹے قدموں فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ساتھیوں کی گولیاں اس کی پشت پر لگتی ہیں اور وہ مارا جاتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک ملزم پولیس کی جانب منہ کر کے الٹا فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے (یہ کرتب صرف پاکستانی اور انڈین ملزم ہی دکھا سکتے ہیں)۔
پولیس پر تنقید کتنی آسان ہے۔ آپ کو اب تک کی سطریں پڑھ کر بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا مگر ایک ایسی دنیا جس میں بعض ادارے بندے کو دن دیہاڑے اٹھا کر یوں غائب کر دیں کہ نہ جرم کا پتہ چلے نہ مجرم کا اور گولیوں سے چھلنی یا مسخ شدہ لاش برسوں بعد کسی سڑک کے کنارے یا نالے میں پائی جائے اور پھر بھی باضابطہ معلوم نہ ہو سکے کہ اسے کس نے کس جرم میں اٹھا کر نشانِ عبرت بنا دیا۔

پاکستان کے سب سے برے صوبے پنجاب میں پولیس کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے کچھ عرصہ قبل یونیفام بھی تبدیل کیا گیا تھا: فوٹو اے ایف پی

آج کے گئے گزرے دور میں بھی کم ازکم پولیس کی تحویل میں بندہ مرتا ہے تو یہ تو پتا چل ہی جاتا ہے کہ وہ زندہ نہیں ہے، ایف آئی آر اور میڈیکو لیگل رپورٹ مشکوک ہی سہی مگر ہے تو۔ یہ تو معلوم ہے کہ بندے کو کس تھانے والے اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد ضمانت کے لیے بھاگ دوڑ تو ہو سکتی ہے۔ کبھی نہ کبھی ملاقات کا تو آسرا رہتا ہی ہے۔ تھوڑے بہت پیسے کھلا کے بندے کو کھانا یا کچھ اضافی سہولتیں تو فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ویسے بھی ہمارے اردگرد شکرانے کے مواقع سکڑتے چلے جا رہے ہیں۔ نوبت جب یہ آن پہنچے کہ
آج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے (جون ایلیا)
جہاں لوٹنے والا یہ احسان کرے کہ سب زیور اور نقدی لے جائے مگر گھر کی خواتین کی توہین نہ کرے یا جاتے ہوئے کسی کو گولی نہ مارے وہاں پولیس اگر سلطنت کے اندر اپنی چھوٹی سی ملوکیت قائم  کر بھی لے تو  کیا یہ بہت تشویش کی بات سمجھی جائے، کیا یہ بہت مہنگا سودا ہے۔
کچھ درد بھی ہمارا ہوا دردِ لا دوا
کچھ زخم بھی شمار سے آگے نکل گئے (احمد نوید)

شیئر: