دنیا کے پہلے فولڈنگ سمارٹ فون کی لانچنگ

فولڈنگ سمارٹ فون کی لانچنگ رواں سال اپریل میں روک دی گئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
سمارٹ موبائل فونز بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی جنوبی کورین کمپنی سام سنگ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد بالآخر جمعے کو اپنا پہلا فولڈنگ سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سام سنگ کمپنی کو گلیکسی فولڈنگ سمارٹ فون بنانے میں لگ بھگ آٹھ برس لگے ہیں لیکن ابتدائی جائزوں کے دوران اس کی سکرین میں مسائل رپورٹ کیے جانے پر رواں سال اپریل میں اس کی لانچنگ روک دی گئی تھی۔
بلاشبہ اس سے کمپنی کو بڑا دھچکا لگا تھا کیوںکہ اس کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ وہ چین کی حریف کمپنیوں کی طرف سے سخت مقابلے اور گذشتہ مہینوں کے درمیان کم ہوتے ہوئے منافعے کے باوجود فولڈنگ فون کی دو ہزار ڈالرز میں فروخت سے اچھا منافع کما سکتی ہے۔
جنوبی کورین کمپنی کے مطابق فولڈنگ فون میں بہتری لانے کے لیے کئی ماہ کام کیا گیا ہے اور اب یہ فائیو جی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی چلانے کے بھی قابل ہو گیا ہے۔

فولڈنگ سمارٹ فون فائیو جی ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

جمعے کو ابتدائی طور پر اسے صرف جنوبی کوریا میں لانچ کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے بعد متحدہ عرب امارات، جرمنی اور فرانس میں بھی اس کی لانچنگ ہوگی۔
سام سنگ کی جانب سے اس سمارٹ فون کو دنیا کا پہلا فولڈنگ فون کہا جا رہا ہے تاہم سام سنگ کی کئی حریف کمپنیاں بشمول چین کی ہواوے کمپنی بھی مارکیٹ میں ایسا فون متعارف کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سام سنگ کو ماضی میں اپنے کئی موبائل فونز میں تکنیکی خرابیوں کے باعث شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خاص طور پر کمپنی کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان اس وقت پہنچا جب 2016 میں اس کے تیار کردہ ’گلیکسی نوٹ سیون‘ کی بیٹریاں پھٹنے کا معاملہ سامنے آیا اور اسے پوری دنیا سے یہ فون واپس منگوانا پڑے۔
اس کے علاوہ کمپنی کو جنوبی کوریا کی جاپان اور شمالی کوریا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کا بھی سامنا ہے۔
اس تجارتی جنگ کے نتیجے میں رواں سال جولائی کے آغاز میں جاپان نے سام سنگ سمیت موبائل اور بجلی کے آلات بنانے والی کئی بڑی جنوبی کورین کمپنیوں کے لیے خام مال کی برآمدات کو محدود کر دیا تھا۔

ہواوے کمپنی بھی فولڈنگ سمارٹ فون بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

جاپان نے برآمدات محدود کرنے کا فیصلہ جنوبی کوریا کے ایک عدالتی فیصلے کے بعد کیا تھا۔ اس فیصلے میں عدالت نے جنگ عظیم دوم کے دوران جبری مشقت کروانے والی جاپانی کمپنیوں کو کوریا کے متاثرہ شہریوں کو معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا۔
برآمدات محدود کرنے کے جاپانی فیصلے کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سپلائی چین پر اثرات اور مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی تھی۔
سام سنگ گلیکسی کا فولڈنگ فون بھی ان مصنوعات میں شامل ہے جو جاپان کے اس فیصلے سے متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ اس کا انحصار ان کیمیکل فلمز پر ہے جو سومیٹومو کیمیکل نامی جاپانی کمپنی تیار کرتی ہے۔

شیئر: