ذہنی امراض کا علاج کروا لیجیے

ہماری طبیعت بچپن سے ہی ذرا اداس واقع ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ ہمیں ہنسنے گانے کا بھی بہت شوق تھا، اداسی ہمیشہ ایک غالب جذبہ رہی۔ جیسے جیسے بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہماری طبیعت میں بے چینی بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ شاید یہ چیز امی نے ہمارے بچپن میں ہی محسوس کر لی تھی لیکن اس بات کو ہمیشہ جھٹک دیا جاتا تھا۔ اب بتاتی ہیں کہ ہم عام بچوں کے برعکس زیادہ روتے تھے۔ اس بات کا مدعا اکثر چبھنے والے کپڑوں یا پیٹ کے درد پر ہی ڈالا جاتا تھا۔
یہ بات سراسر لغو ہے کہ وقت کے ساتھ طبیعت بدل جاتی ہے۔ جو نفسیات عمر کے ابتدائی حصوں میں بن جائے وہی سچی یاری کی طرح تمام عمرساتھ نبھاتی ہے بلکہ شخصیت کے بہت سے پہلو عمر کے ساتھ مزید واضح ہونے لگتے ہیں۔ ہماری اداسی اور بے چینی بھی وقت کے ساتھ بڑھتی ہی گئی۔ شاید اسی کے اظہار میں ہم نے سکیچنگ اور لکھنے کا سہارا لیا۔ اکیلے رہنا اچھا لگتا تھا کیونکہ اس میں نسبتاً سکون ملتا تھا۔ نیند یا تو بہت آتی تھی یا بالکل نہیں آتی تھی۔ خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان تھا۔ ہر کسی کو لگتا تھا کہ ہماری طبیعت قنوطیت پسند ہے, ناشکری ہے وغیرہ وغیرہ۔
بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس اداسی اور ان دیکھے غم میں ہم اکیلے نہیں بلکہ ہمارے اردگرد کے بہت سے لوگ بھی اسی کا شکار ہیں۔ کوئی مذہب میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتا تو کوئی چیزیں دیواروں پر پٹخنے میں۔ ہر کسی کو سکون کی تلاش تھی جو مل کر ہی نہ دیتا تھا۔ ہمارا اضطراب تھا کہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ذہنی امراض کو اہمیت نہیں دیتے۔ فوٹو ان سپلیش

کچھ عرصے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری کیفیت کچھ یوں ہی نہ تھی۔ اس کا ایک خاص نام تھا: ڈپریشن اور اینگزائیٹی۔ علاج ممکن تھا لیکن کیسے ممکن تھا یہ بھی ایک پیچیدہ کتھا تھی۔ کسی کے سامنے اس بیماری کا ذکر کرنا شجر ممنوعہ تھا۔ کسی کو بھی یہ علم ہونے کی صورت میں ہمارے شادی بیاہ میں خلل آنا ممکن تھا۔ اس لئے راز کی بات کو راز میں ہی رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ ہم چھپ کر ڈاکٹر کے پاس بھی گئے لیکن یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ آج کہے دیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب سے مل کر احساس ہوا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔ ان کے یہاں بہت سے ایسے مریض تھے جن سے مل کر اندازہ ہوا کہ یہ مرائض ہمارے ارد گرد کس قدر بکھرے پڑے ہیں۔ ہم میں خوف کو نقصان پہنچانے کا رجحان تھا تو کئی مریضوں کو دوسرے کو نقصان پہنچا کر سکون ملتا تھا۔ ہر کسی کی نوعیت مختلف تھی۔
ابھی یہ وہ خوش قسمت لوگ تھے کہ جنہیں علاج کا موقع مل گیا۔ ورنہ کتنوں کو یا تو گھر والے چپ کرا دیتے ہیں یا وہ معاشرتی رویے کی وجہ سے خود ہی علاج سے کتراتے ہیں۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کے ذہنی مرائض خطرناک نہج پر ہیں لیکن وہ اس حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں معاشرہ انہیں 'پاگل' کہہ کر نکڑ سے نہ لگا دے۔ پیر فقیر کے پاس 'جن' نکلوانے جانا ڈاکٹر کے پاس مرض کے علاج سے زیادہ افضل سمجھا جاتا ہے۔
وطن عزیز سے دوری نے جہاں کئی روگ دل کو لگائے وہیں ایک نئی دنیا دیکھنے اور جاننے کا موقع بھی دیا۔ ہمیشہ سے سنا تھا کہ مغرب والوں کی زندگی میں بہت بے سکونی ہے۔ بہت ذہنی امراض ہیں۔ یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ یہاں ان معاملات کا ادراک ہے۔ یہاں ذہنی صحت کو وہی حیثیت دی جاتی ہے جو جسمانی صحت کو دی جاتی ہے۔ فرسٹ ایڈ میں صرف جسم کی ہی نہیں بلکہ روح کی چوٹوں کو بھی سیریس لیا جاتا ہے۔ نوکری پر رکھتے ہوئے جہاں ایک امیدوار کی پروفیشنل صلاحیتوں کو پرکھا جاتا ہے وہیں سائیکو میٹرک ٹیسٹ بھی لیے جاتے ہیں۔ نوکری کے انٹرویو میں زیادہ تر سوال انسانی رویوں اور زندگی کی مختلف سچویشنز سے متعلق ہوتے ہیں۔ 

کیا دوسروں پت تشدد کرنے والے افراد کو نارمل کہا جا سکتا ہے؟ فوٹو اےا یف پی

ہمارے ہاں ذہنی امراض اس وقت اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مریض اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ غصے میں مار پیٹ پر اتر آتے ہیں۔ عورتوں پر ذہنی اور جسمانی  تشدد بھی اسی ضمن کی کڑی ہے۔ پولیس کی حراست میں ملزمان پر ایسا تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سائلوں سے گالم گلوچ کی جاتی ہے۔ سکولوں میں بچوں کو اس بے دردی سے پیٹا جاتا ہے کہ وہ اگلا سانس لیے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ بہت سی باتیں جنہیں کھوکھلی مردانگی کا خاصہ سمجھا جاتا ہے بنیادی طور پر خطرناک ذہنی امراض ہیں جن کا ادراک سب کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
سچ سچ بتائیے گا۔ کیا آپ کو بھی یہی لگتا ہے کہ آپ کے جس کزن نے ذرا سی بات پر اپنی بیوی کے چہرے پر نیل ڈال دیے وہ نارمل ہے؟ جن لوگوں نے کراچی کے ریحان کو ایک پتھر مار کر ہلاک کر دیا کسی ذہنی مرض میں مبتلا نہیں؟ جس پولیس افسر نے صلاح الدین پر تشدد کی ویڈیو بنائی یا ابھی وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بزرگ خاتون  سے ان کی چھڑی چھین لی بالکل ٹھیک ہے؟ جس استاد نے ٹین ایجر بچے کو اس قدر پیٹا کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اس نوکری کے قابل ہے؟ 
سچ سچ بتائیے گا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا ہم سب کو کسی نہ کسی ذہنی مرض کے علاج کی ضرورت ہے؟ کیا تعلیم اور پولیس جیسے حساس شعبوں میں ایسے لوگوں کی گنجائش ہے جن کی ذہنی حالت کا کوئی ٹیسٹ نہ ہوا ہو؟ کیا وہ ڈاکٹر مسیحائی کے لائق ہے جس نے اپنے زیر علاج مریضہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیا؟
سچ سچ بتائیے گا۔ ہم سب کسی نہ کسی انداز میں 'پاگل' ہی ہیں۔ بس حقیقت کا سامنا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔  کسی بھی بیماری یا مرض کو شروع میں ہی سمجھ کر اس کا علاج کر لیا جائے تو معاملہ خطرناک حد تک نہیں پہنچتا۔ آگے آپ کی مرضی ہے۔ اسے مغربی تہذیب کے فتوے کا نام دینا یے تو بھی نو پرابلم۔ لگے رہیے۔ یوں ہی بچے کھچے لوگوں کی بلی چڑھاتے رہیے۔ ہمارا کیا ہے۔ آپ ان داتا ہیں۔

شیئر: