یہ سنہ 1960 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے ابھی سینٹ جانز کے اینٹیگا ریکریشن گراؤنڈ کو بین الاقوامی سٹیڈیم کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی جب ایک کم سن لڑکا اپنی قد سے کچھ بڑا بیٹ لیے ایسے شاٹس کھیل رہا تھا جن کا ذکر کرکٹ کوچنگ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔
یہ لڑکا کوئی اور نہیں بلکہ ویوین رچرڈز تھا۔ اس سے پہلے کہ دنیا انہیں ’ماسٹر بلاسٹر‘ اور سر کے خطاب سے نوازتی انہیں اینٹیگا والے صرف ’ویون‘ کے نام سے جانتے تھے۔ ویون نے جب دنیائے کرکٹ میں قدم رکھا تو ان کی بے خوفی، باوقار انداز کو دیکھ کر دنیا نے سمجھا کہ وہ کوئی عام کھلاڑی نہیں بلکہ کرکٹ کی سلطنت کا بادشاہ ہے۔
ویوین رچرڈز سات مارچ سنہ 1952ء میں سینٹ جانز، اینٹیگا و بارباڈوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام آئزک ویوین الیگزینڈر رچرڈز تھا۔ نام میں جب الیگزینڈر ہو تو پھر شاہانہ انداز آ ہی جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
میانداد کےآنسواورووین رچرڈزکی مایوسیNode ID: 421641
-
سر ویون رچرڈز کی انڈین بیٹی کون ہیں؟Node ID: 685121
وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جہاں کرکٹ روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔ ان کے والد جیل میں ملازم تھے، جہاں سیاسی کارکنوں کو قید رکھا جاتا تھا اور کم عمر ویون نے مزاحمت اور خودداری کی کہانیاں سن سن کر پرورش پائی۔ یہی وقار اور بے خوفی بعد میں ان کی بیٹنگ کا وصف بنی۔
مقامی لوگ ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ نوعمری میں ایک بار ویون کے زوردار پل شاٹ سے پڑوسی کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ معذرت کرنے کے بجائے انہوں نے مسکرا کر کہا ’آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے، یہ گیند وہیں جانے کے لائق تھی۔‘ یہ تکبر نہیں بلکہ اعتماد تھا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ کرکٹ کی خراب گیند کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔
اینٹیگا گرامر سکول میں ان کی بیٹنگ کا یہ عالم تھا کہ ہر گیند باز ان کو گیند کرانے سے کتراتا تھا۔ وہ صرف بہتر کھلاڑی ہی نہیں تھے بلکہ بولروں پر خوف طاری کر دیتے تھے۔ لیکن کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ابھی وہ کرکٹ کے میدان میں اترنے والے ہی تھے کہ ان پر دو سال کی پابندی لگ گئی۔
کرکٹ کی مقبول ویب سائٹ کرکٹ انفو کے ایک مضمون کے مطابق ویون رچرڈز کو سنہ 1969 میں 17 سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنے سے دو سال کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
قصہ یوں ہے کہ سینٹ کٹس کے خلاف اینٹیگوا کی طرف سے کھیلتے ہوئے وہ پہلی ہی گیند پر آوٹ ہو گئے۔ جس سے نہ صرف وہ بیزار ہوئے بلکہ ان کو دیکھنے آنے والی ان کی چھ ہزار حامیوں کی بھیڑ بھی ناراض ہو گئی۔ ان کے کچھ حامیوں نے پچ پر دھاوا بول دیا اور کھیل کو دو گھنٹے تک روک دیا گیا۔
اس کے بعد منتظمین نے رچرڈز کے حامیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش میں رچرڈز کو بلے بازی کا دوسرا موقع دیا کیونکہ بھیڑ آپے سے باہر تھی۔ شومی قسمت کہ دوسری بار بھی وہ پہلی ہی گیند پر آوٹ ہو گئے۔

بعد میں رچرڈز نے اس واقعے کے بارے میں کہا کہ ’میں نے بہت برا برتاؤ کیا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ مجھے مشورہ دے رہے تھے، انہوں نے خود بھی کوئی قابل فخر کام نہیں کیا۔ مجھے کہا گيا کہ امن بحال کرنے کے لیےمجھے دوبارہ بیٹنگ کے لیے واپس جانا چاہیے۔ میں نہیں چاہتا تھا اور میں اس پر خوش بھی نہیں تھا۔ اگر میں اس وقت قدرے زیادہ تجربہ کار ہوتا تو مجھے لگتا ہے کہ میں انکار کر دیتا۔ لیکن مجھے دوبارہ بھیجا گيا اور مقامی کرکٹ حکام نے میرا مذاق بنا دیا۔‘
برطانیہ میں ابتدائی دھوم
ویون رچرڈز نے ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئی اچھی شروعات نہیں کی لیکن ان کی شہرت پھیلنے لگی۔ سنہ 1973 میں انگلش کاؤنٹی سمرسیٹ کے وائس چيئرمین لین کریڈ نے ویون کی صلاحیت کو پہچانا اور انھیں سمرسیٹ کے لیے منتخت کیا۔
ویون رچرڈز کی سوانح ’دی ڈفنیٹو بایوگرافی‘ میں وہ کہتے ہیں کہ اس سے ایک سال قبل انگلش کاؤنٹی سرے نے اپنے کیمپ میں رچرڈز اور اینڈی رابرٹس دونوں کو مسترد کر دیا تھا اور ان کے خیال میں ان دونوں کا کرکٹ میں کوئی مستقبل نہیں تھا۔‘
بہر حال جب وین رچرڈز نے 1970 کی دہائی کے وسط میں انگلینڈ جا کر سمرسیٹ کے لیے کھیلنا شروع کیا تو کاؤنٹی کرکٹ کے حلقوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ جلد ہی ان کا نام حیرت اور تحسین کا استعارہ بن گیا۔

کہا جاتا ہے کہ وہ صرف چوکے چھکے نہیں لگاتے تھے بلکہ ان کا اعلان کرتے تھے۔ وہ پچ پر بلا ٹھونک کر گیند باز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہوتے اور اگلی ہی گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا دیتے۔ ایک موقع پر انہوں نے ایان بوتھم سے کہا کہ ’اگر اس نے گیند فل کرائی تو وہ باؤنڈری کے باہر گئی۔‘ اور واقعی اگلے اوور میں تین گیندیں کور کے پار جا پہنچیں۔
1976 کا یادگار موسمِ گرما
سنہ 1976 کا انگلستان کا دورہ ان کے کیریئر کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ چار ٹیسٹ میچوں میں 829 رنز بنا کر انہوں نے خود کو عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اولڈ ٹریفورڈ میں 291 اور اوول میں 232 رنز کی اننگز آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔
انہوں نے بغیر ہیلمٹ کے بیٹنگ کی حالانکہ اس زمانے میں تیز گیند بازی نہایت خطرناک سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ہیلمٹ کیوں نہیں پہنتے تھے تو انہوں نے سادہ جواب دیا، ’میں چاہتا تھا کہ انہیں معلوم ہو کہ میں خوف زدہ نہیں ہوں۔‘
اندازِ حکمرانی
رچرڈز کا کریز پر آنا کسی بادشاہ کے دربار میں داخل ہونے کے مترادف ہوتا تھا۔ ان کی چال میں وقار تھا، جلدبازی کا نام نہ تھا۔ وہ دوڑتے بھی تو یوں محسوس ہوتا جیسے اختیار کے ساتھ قدم بڑھا رہے ہوں۔
آسٹریلیا میں ورلڈ سیریز کرکٹ کے دوران ڈینس للی نے اپنی تیز رفتاری سے انہیں آزمانا چاہا۔ رچرڈز نے اگلی ہی گیند مڈوکٹ کے اوپر سے باؤنڈری کے پار بھیج دی اور سکون سے اپنی ٹوپی درست کی۔ یہ ان کا انداز تھا، وہ اپنے بیٹ سے جواب دینا پسند کرتے تھے۔

حال ہی میں وسیم اکرم نے ویون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رچرڈز کے ساتھ بدتمیزی کی تو عمران خان نے بیچ میں پڑنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں رچرڈز بیٹ لے کر ان کے سامنے پہنچ گئے تو اکرم کے ہوش جاتے رہے اور پھر انہوں نے معافی مانگ لی۔
1984 کی تاریخی اننگز
سنہ 1984 میں اولڈ ٹریفورڈ ہی کے میدان میں ایک روزہ میچ میں انہوں نے 189 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی، مگر رچرڈز نے تنہا مقابلہ کیا۔ آخری وکٹیں محض تماشائی تھیں، اصل کھیل ان کے بلے سے ہو رہا تھا۔ اس اننگز نے ایک روزہ کرکٹ کے امکانات کو نئی جہت دی۔
قیادت اور ناقابلِ شکست عہد
جب انہوں نے ویسٹ انڈیز کی قیادت سنبھالی تو ٹیم پہلے ہی مضبوط تھی، مگر ان کی سربراہی میں وہ ناقابلِ شکست بن گئی۔ میلکم مارشل اور مائیکل ہولڈنگ جیسے تیز گیند باز ان کے اشاروں پر حملہ آور ہوتے اور وہ نہایت سکون سے فیلڈ سجایا کرتے۔

ایک نوجوان گیند باز نے ایک بار گھبرا کر پوچھا کہ کون سی فیلڈ رکھی جائے۔ رچرڈز نے جواب دیا کہ ’تمہیں کیا لگتا ہے وہ کیسے آؤٹ ہوگا؟‘ جب اس نے جارحانہ حکمتِ عملی تجویز کی تو رچرڈز نے کہا کہ ’تو پھر حملہ کرتے ہیں۔‘ یہی ان کا اندازِ قیادت تھا، کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا کرنا، مگر استقامت کے ساتھ۔
انہوں نے پچاس ٹیسٹ میچوں میں قیادت کی اور ایک بھی سیریز نہیں ہاری، جو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔
میدان سے باہر
رچرڈز صرف ایک عظیم کرکٹر ہی نہیں بلکہ وقار اور اصول پسندی کی علامت بھی تھے۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے دور میں جنوبی افریقہ میں کھیلنے کی پرکشش پیشکش مسترد کر دی۔ یہ فیصلہ ان کی اخلاقی جرأت کا مظہر تھا۔
نجی محفلوں میں وہ خوش مزاج اور موسیقی کے دلدادہ تھے۔ ساتھی کھلاڑی بتاتے ہیں کہ وہ ڈریسنگ روم میں کیلپسو دھنیں گنگناتے اور اگلے حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے۔












