پاکستانی شہری آصف رضا مرچنٹ پر صدر ٹرمپ اور امریکی حکام کے قتل کی سازش کا جرم ثابت
آصف مرچنٹ نے کہا کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ کسی کے قتل ہونے سے قبل ہی وہ پکڑے جائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ میں وفاقی عدالت نے ایک پاکستانی شخص (جس کے مبینہ طور پر ایران سے روابط ہیں) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا دیگر امریکی حکام کو قتل کرنے کی سازش کا مجرم قرار دے دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استغاثہ کے مطابق جمعے کو اس شخص کو سازش کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
یہ سازش ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی امریکی فوجی حملے میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے تیار کی گئی تھی۔
بروکلین کی وفاقی عدالت میں ٹرائل کے دوران استغاثہ نے ثابت کیا کہ آصف رضا مرچنٹ نے مبینہ طور پر امریکہ میں کسی سیاست دان یا سرکاری اہلکار کو قتل کرنے کے لیے ایک کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
واضح رہے کہ ایران کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کے سربراہ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور ایرانی حکام نے بارہا ان کے قتل کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔
بدھ کو اپنے ٹرائل کے دوران آصف مرچنٹ نے گواہی دی کہ انہیں تہران میں موجود اپنے خاندان کو پاسدارانِ انقلاب سے بچانے کے لیے اس سازش میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ کسی کے قتل ہونے سے قبل ہی وہ پکڑے جائیں گے۔
آصف مرچنٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی بھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا تاہم ان کے ایرانی رابطہ کار نے اس سازش کے سلسلے میں تین افراد یعنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ کی سابق سفیر نکی ہیلی کے ناموں کا ذکر کیا تھا۔
استغاثہ کے ترجمان نے بتایا کہ آصف مرچنٹ کو بین الاقوامی دہشت گردی اور اجرت پر قتل کے دونوں الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے اور انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آصف مرچنٹ کا یہ ٹرائل ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام نے پہلے ہی کہا تھا کہ آصف مرچنٹ کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس کی مبینہ سازش ایرانی حکومت کے روایتی طریقہ کار کا حصہ ہے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ اس کا مقصد تہران کی جانب سے جوہری خطرات کو روکنا ہے لیکن اس نے ملک کی حکومت کو بھی ختم کر دیا ہے اور اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آصف رضا مرچنٹ کو 12 جولائی 2024 کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ملک سے نکلنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
