’انڈیا کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے‘

انڈیا کا پہلا خلائی مشن بھی ناکام ہوگیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
چاند پر پہنچنے کے لیے انڈیا کا خلائی مشن ’چندریان ٹو‘ بظاہر ناکام ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ چاند پر لینڈنگ سے چند منٹ قبل زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہونا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا کے خلائی مشن نے ہفتے کو چاند پر لینڈنگ کرنا تھی تاہم چاند سے صرف دو کلو میٹر کی دوری پر زمین کے ساتھ اس کا رابطہ ختم ہو گیا۔
انڈیا اس خلائی مشن کے ذریعے امریکہ، روس اور چین کے بعد چاند پر پہنچنے والا چوتھا ملک بننے کے لیے پُرامید تھا لیکن انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر حکام کی امیدوں پر پانی اس وقت پھرا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہا۔
مشن کی متوقع لینڈنگ سے چند منٹ قبل انڈیا کی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اسرو) میں تناؤ کا ماحول تھا مگر پھر اسرو کے چیئرمین ’کے سیون‘ نے اعلان کیا کہ لینڈنگ سے قبل مشن کے ساتھ رابطہ ختم گیا ہے جس کے ساتھ ہی ہر طرف مایوسی پھیل گئی۔

یہ خلائی مشن 20 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

توقع کی جا رہی تھی کہ انڈین وقت کے مطابق یہ خلائی مشن رات 1:30 بجے سے 2.30 بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کرے گا لیکن اسرو کے چئیرمین نے بتایا کہ چاند پر لینڈنگ سے 2.1 کلومیٹر کی دوری تک انڈیا کی خلائی گاڑی ’وکرم‘ بالکل معمول کے مطابق کام کر رہی تھی تاہم پھر اس کا زمینی رابطہ ختم ہوگیا۔
سیون نے یہ بھی بتایا کہ ’وکرم‘ کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کے حوالے سے اسرو میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس اعلان کے بعد مودی نے سیون سے کہا کہ ’آپ نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ بھی کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔‘
مشن کی ناکامی کے بعد مودی نے اسرو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے، آپ لوگ پتھر پر لکیر کرنے والے لوگ ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آپ جتنا قریب جا سکتے تھے گئے، ہماری امید ختم نہیں ہوئی ہے، آگے بڑھیں۔ سپیس پروگرام کا یہ مشن ضرور مکمل ہوگا۔ ہم سائنسدانوں کے خاندانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔‘ 
خیال رہے کہ انڈیا کا یہ مشن خلا میں چھوڑے جانے کے ایک ماہ بعد رواں سال 20 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔
اس سے قبل دنیا کا کوئی بھی ملک چاند کے اس حصے پر نہیں گیا۔ خلائی مشن کی لینڈنگ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسرو کے ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے۔

مشن کی متوقع لینڈنگ کے وقت مودی بھی اسرو میں موجود تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

واضح رہے کہ چاند پر لینڈنگ کی غرض سے 2008 میں خلا میں بھیجا گیا انڈیا کا پہلا خلائی مشن ’چندریان ون‘ بھی ناکام ہو گیا تھا تاہم اس کو اتنی کامیابی ضرور ملی تھی کہ اس نے ریڈار کی مدد سے چاند پر پانی کی موجودگی کی پہلی اور سب سے مفصل دریافت کی تھی۔

’سستا خلائی مشن‘

انڈیا نے چندریان ٹو کی تیاری پر 14 کروڑ ڈالر خرچ کیے اور اس مشن کو سب سے سستا قرار دیا جا رہا تھا۔
اگر اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو امریکہ کے 1960 اور 70 میں ’اپولو مشن‘ پر 25 ارب ڈالر کی لاگت آئی تھی جبکہ چین نے گذشتہ جنوری میں خلائی مشن چاند پر بھجوایا تھا اور 2017 میں اپنے تمام خلائی پروگراموں پر 8.4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔
روس نے 1996 میں چاند پر راکٹ بھجوانے پر 20 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔
چندریان ٹو کے ڈیزائن اور تیاری کا تمام عمل انڈیا میں ہی انجام دیا گیا تھا۔ خلائی مشن کا مقصد چاند پر پانی کے شواہد اور ابتدائی نظام شمسی کی باقیات تلاش کرنا تھا۔

’900 کروڑ ضائع کرنے پر مودی سے پوچھ گچھ کی جائے‘

ادھر اس خلائی مشن کی ناکامی پر پاکستان کے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے انڈین وزیر اعظم کی ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’مودی ایسے بھاشن دے رہے ہیں جیسے وہ سیاستدان نہیں بلکہ خلائی سائنسدان ہو، غریب عوام کے 900 سو کروڑ  روپے ضائع کرنے پر لوک سبھا کو ان سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔‘
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’انڈین مجھے ایسے دھمکا رہے ہیں جیسے ان کے خلائی مشن کو میں نے ناکام کیا ہے۔ بھائی کیا میں نے کہا تھا 900 کروڑ لگاؤ ان نالائقوں پر؟ اب صبر کرو اور سونے کی کوشش کرو۔‘
فواد چوہدری کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل جاوید نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے سے بڑے کام نہیں کیا کرتے، پہلے والا پائلٹ یاد نہیں؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تم نے مظلوموں کا رابطہ بند کیا، تمہارا اپنا رابطہ بند ہوگیا، اب ٹوائلٹ پر فوکس کرو اور اپنا گند صاف کرو۔‘

شیئر: