زبیر سے جھارا پہلوان تک کا سفر

جھارا پہلوان کا نام آج ایک ضرب المثل بن چکا ہے (فوٹو اے ایف پی)
سال 1979 اور جون کی 16 تاریخ، انگلینڈ میں کرکٹ ورلڈ کپ کا دوسرا عالمی میلہ سجا ہوا تھا۔ 
اس روز جب پاکستان کی ٹیم لیڈز کے میدان پر میزبان انگلینڈ کے مدمقابل تھی،  لاہور کی سلگتی دوپہر میں قذافی سٹیڈیم میں ایک اور میلے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
انتظامیہ کی جانب سے عارضی ہسپتال اور ٹوائلٹس قائم کیے جا رہے تھے، کرسیوں کی ترتیب سیدھی کی جا رہی تھی، ایمبولینسوں اور فائربریگیڈ کے عملے کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔ 
لاہوریوں نے شاید یہ رات کھلی آنکھوں کے ساتھ گزاری تھی، شہر کی فضا بھی ان دنوں اتنی گرد آلود نہیں تھی، تارے گن گن کر صبح کی روشنی کا انتظار ہو رہا تھا۔
17 جون کی صبح اخبارات کے صفحہ اول سے پاکستان کی انگلینڈ کے ہاتھوں 14 رنز سے شکست کی خبر غائب تھی۔ اس روز سب سے بڑی خبر تھی: ’انوکی اور جھارا کی چیلنج کشتی آج رات قذافی سٹیڈیم میں ہوگی۔‘ 
یہ دور پہلوانی کا دور تھا اور محمد زبیر عرف جھارا پہلوان اس دور کا وہ نام تھا جس کی گونج اندرون شہر کے اکھاڑوں سے نکل کر کراچی، لاہور اور دیگر شہروں کے بڑے بڑے سٹیڈیمز تک پہنچ رہی تھی۔ 

جھارا پہلوان، گاما پہلوان کی طرح ناقابل شکست رہے

زبیر جھارا پہلوان کون تھا؟ 

’ایڈا توں جھارا پہلوان‘، ’شانہ بھی جھارا پہلوان جتنا چوڑا ہے‘، ’اب بندہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جیکٹ سکردو والا پہن لے تو پاگل بھی لگتا ہے اور جھارا پہلوان بھی‘ یا پھر ’خالی پہلوان نہیں بلکہ جھارا پہلوان‘۔۔۔ اور ایسے ہی کئی انگنت جملے ہیں جو روزمرہ زبان میں طنز، مذاق، تعریف یا محض جگت بازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ 
اس خطے میں گاما پہلوان کے بعد اگر کسی پہلوان کو اتنی شہرت ملی کہ یہ نام محاورے کی شکل اختیار کر گیا تو وہ شاید جھارا پہلوان کا نام ہی ہے۔ 
محمد زبیر عرف جھارا پہلوان نجیب الطرفین پہلوان تھے۔ یعنی والد اور والدہ دونوں کا تعلق پہلوان خاندان سے تھا، پہلوانوں کی زبان میں اسے ’اصیل بوٹی‘ کہا جاتا ہے۔ وہ 24 ستمبر 1960 کو لاہور میں محمد اسلم عرف اچھا پہلوان کے گھر پیدا ہوا۔ محمد اسلم عرف اچھا پہلوان کا تعلق پہلوانی کی تاریخ کے اس سنہری باب سے ہے جسے بھولو برادرز کہا جاتا ہے۔ محمد زبیرعرف جھارا کے تایا منظور حسین عرف بھولو پہلوان، چچا اعظم پہلوان، اکرم پہلوان، حسو پہلوان اور معظم عرف گوگا پہلوان جیسے نامور شہ زور رستم پاکستان جیسے خطابات حاصل کرچکے تھے۔ 
وہ گاما پہلوان کے بھائی امام بخش کے پوتے اور گاما کلو والا پہلوان کے نواسے بھی تھے۔ 
جھارا پہلوان نے پہلوانی کی تربیت لاہور میں موہنی روڈ پر اپنے آبائی اکھاڑے میں ہی حاصل کی، جس کی کڑی نگرانی بھولو پہلوان نے کی۔ تقریبا چھ فٹ قد کے مالک جھارا پہلوان نوعمری میں ہی توانا جسم کے مالک بنے اور جب لنگوٹ پہن کر کسرت کے لیے اترتے تو دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ ان کے والد اچھا پہلوان اور تایا بھولو پہلوان کو اپنے خاندان کا مستقبل جھارے میں دکھائی دینے لگا تھا۔
بھولو پہلوان سے ابتدائی تربیت کے بعد جھارا پہلوان کی ذمہ داری ارشد بجلی پہلوان کو سونپی گئی جنہوں نے ایک ماہر کاری گر کی طرح جھارے کے جسم کو تراشا۔ 

جھارا پہلوان کی سنہ 1978 میں بنائی گئی ایک یادگار تصویر

محمد زبیر جھارا پہلوان کیسے بنا؟ 

جھارا پہلوان کے بھائی عابد اسلم بھولو کے مطابق زبیر پرائمری کے امتحانات میں فیل ہوگئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی کیونکہ ’اب وہ پڑھائی کرنے کے بجائے پہلوان بن سکتے تھے۔‘
لہذا محمد زبیر جھارے کی تربیت سکول کے بجائے اکھاڑے میں شروع ہوئی۔
18 برس کی عمر میں وہ پہلی بار ملتان کے زوار پہلوان کا سامنا کرنے میدان میں اترے تھے۔ 
جھارے پہلوان کا یہ پہلا مقابلہ تھا اور بھولو پہلوان اسے محمد زبیر سے جھارا پہلوان بنتے دیکھتے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

جھارا پہلوان راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچے

محمد زبیر نے ان کے خواب کو تعبیر دینے میں دیر نہ لگائی اور چند ہی لمحوں میں زوار پہلوان کو چت کر کے ’جھارا پہلوان‘  کے منصب پر فائز ہوگئے۔
جھارے پہلوان کی کامیابی کی خبر پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ پہنچی تو وہاں کے اکھاڑوں میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ 
جھارے کے مقابلے کے لیے امیدواروں کی تیاریاں شروع ہونے لگیں تو رستم ہند رحیم سلطانی والا کے بیٹے معراج پہلوان نے اپنے شاگرد گوگا پہلوان کو لنگوٹ کسنے کا حکم دیا۔ 
گوگا پہلوان، گوگا گوجرانوالیہ کے نام سے معروف تھے اور  ان کا اصل نام محمد افضل تھا۔ ان کا تعلق بھی پہلوان خاندان سے تھا، ان کے والد اصغر حسین لون اور ماموں اپنے زمانے کے جانے مانے نام تھے۔
 یہ مقابلہ پہلوانوں کے دو عظیم ناموں گاما پہلوان اور رحیم بخش سلطانی والا کے مابین مقابلوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا جس سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ 
عقیل عباس جعفری کی مرتب کردہ تصنیف ’پاکستان کرونیکلز‘ کے مطابق جھارے پہلوان کا پہلا بڑا مقابلہ 27 جنوری 1978 کو گوگا پہلوان گوجرنوالیہ سے ہوا۔
قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہونے والے اس مقابلے میں شائقین کشتی یوں جمع تھے جیسے کرکٹ یا ہاکی ورلڈ کپ فائنل کا میچ ہو۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ یہ مقابلہ صرف 17 منٹ جاری رہ سکا کیونکہ محمد زبیر گوگا پہلوان کو چت کر کے اکھاڑے میں اپنی حکمرانی کی گھنٹی بجا چکے تھے اور اس طرح گاما پہلوان کے خاندان اور بھولو برادران کو پہلوانی میں جانشین مل گیا تھا۔ 
یہی وہ وقت تھا جب بھولو برداران کے ایک پروموٹر سلیم صادق نے جاپان کے انتونیو انوکی پہلوان سے جھارے پہلوان کا معاملہ اٹھایا۔ 
جھارے پہلوان کے چچا اکرم پہلوان دو سال قبل انوکی کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہو چکے تھے بلکہ انوکی نے ان کا کندھا بھی اتار دیا تھا۔  بھولو برادران اب حساب چکانے کا سوچنے لگے تھے۔ 

ڈان اخبار میں مقابلے دن شائع ہونے والی انوکی اور زبیر جھارا کی تصاویر

انتونی انوکی بمقابلہ جھارا پہلوان 

فری سٹائل کشتی کا یہ مقابلہ نہ صرف جھارا پہلوان بلکہ جاپانی پہلوان انتونیو انوکی کی زندگی کا بھی سب سے بڑا مقابلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
جون 1979 میں انوکی کی پاکستان آمد سے قبل ہی اخبارات میں جھارا پہلوان اور انوکی کے مقابلے کی خبریں شہ سرخیوں میں شائع ہوئیں، اشتہارات میں پہلے سے ٹکٹ بک کروانے کی ہدایات جاری ہونے لگیں۔ 
انوکی کی پاکستان آمد کے بعد صحافیوں سے آمنا سامنا ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تین سال قبل جب اکرم پہلوان سے مقابلے لیے آئے تھے اس وقت جھارے کو دیکھا تھا تب وہ پندرہ، سولہ سال کے نوجوان تھے اور ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔
اس وقت انوکی کی عمر 36 سال جبکہ جھارا پہلوان 19 برس کا نوجوان تھا۔ ماہرین کی نظر میں یہ ایک یک طرفہ مقابلہ ثابت ہو سکتا تھا، جھارے پہلوان کا یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا اور ان کی ناتجربہ کاری آڑے آ سکتی تھی۔ انوکی نے بھی اس کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے اس مقابلے لیے کوئی خاص تیاری نہیں صرف معمول کی پریکٹس کی ہے، شاید انہیں بھی گمان تھا یہ تو کل کا بچہ ہے۔ 

جنگ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر میں جھارا پہلوان نے انوکی کو دبوچ رکھا ہے

ان دنوں ’جنگ‘ اور ’ڈان‘ سمیت دیگر اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق جھارے پہلوان نے اس مقابلے کے لیے آٹھ ماہ کی سخت تیاری کی تھی کیونکہ یہاں چچا کی شکست کا بدلہ اور خاندان کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنا بھی مقصود تھا۔ 
بالآخر وہ دن آ گیا۔ 17 جون، شام چھ بجے، اتوار کے دن، لاہور کا قذافی سٹیڈیم 40 ہزار تماشائیوں سے بھرا پڑا تھا۔ مقابلے کے لیے میدان کے درمیان میں 24 فٹ چوڑا ایک خصوصی رنگ تیار کیا گیا تھا۔ 
مقابلہ آٹھ بجے شروع ہوا۔ پہلا راؤنڈ بغیر کسی سکور کے ختم ہوا، دوسرے میں بھی دونوں پہلوان ناقابل شکست رہے، تیسرا اور  پھر چوتھا بھی ایسے ہی گزرا کہ چھ فٹ چار انچ قامت کا دیو نما انوکی پہلوان اس 19 سالہ نوجوان پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ 
پانچویں راؤنڈ میں بھی ایسی ہی صورتحال رہی کہ کمنٹیٹرز نے مقررہ وقت کے ختم ہونے کا اعلان کیا۔ گھنٹی بجی تو انوکی جھارا پہلوان کے پاس آیا اور اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر فضا میں بلند کر دیا۔ ایسا کرنا تھا کہ عوام کے جذبات کا سمندر امڈ آیا۔ ان کا خیال تھا کہ انوکی نے شکست تسلیم کر لی۔ باضابطہ اعلان سے قبل ہی عوام نے جھارا پہلوان کو کندھوں پر اٹھا لیا اور نعرے بازی شروع ہوگئی۔ ایسی بھگدڑ مچی کے پولیس کی لاٹھی بھی قابو میں نہ رہی۔ 
جھارا پہلوان کے حامیوں نے فتح کا جشن منانا شروع کر دیا جبکہ انوکی کے مینجر کا اصرار تھا کہ یہ مقابلہ برابری پر ختم ہوا۔ 
ڈان اخبار میں اگلے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں ریفری کا بیان بھی شامل تھا جس میں پولش ریفری برنارڈ ووجوسکی کا کہنا تھا کہ تکنیکی طور پر جھارا پہلوان فاتح ہے لیکن جج صاحبان کو انہیں مطلع کرنا چاہیے تھا تاکہ وہ فتح یاب پہلوان کا اعلان کر سکتے۔ دوسری جانب ایک جج خواجہ اسلم کا کہنا تھا کہ جھارا فاتح ہے کیونکہ اس نے دو بار انوکی کے کندھے زمین سے لگائے تھے جبکہ انوکی کے مینجر شما کا موقف تھا کہ یہ مقابلہ برابری پر ختم ہوا ہے کیونکہ دونوں کے پوائٹس برابر تھے۔ 
انوکی کے وطن لوٹنے سے قبل ان سے پھر اس مقابلے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا جھارے پہلوان کا ہاتھ پکڑ کر فضا میں بلند کرنے کا مطلب اپنی شکست تسلیم کرنا نہیں بلکہ ان کو داد تحسین دینا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں کئی پہلوانوں کے کھیل کی تعریف اسی انداز میں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے جھارا پہلوان کی کشتی کے انداز اور تکنیک کی تعریف بھی کی۔ 

جھارا پہلوان اپنے والد اسلم عرف اچھا پہلوان اور نواز شریف کے ہمراہ

عروج سے زوال کی داستان!

جھارا پہلوان اور انوکی کے مقابلے سے جو نتیجہ نکلا، بھولو برادران اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے رہے۔ 
ان کے اکھاڑے میں تین سال قبل اکرم عرف اکی پہلوان کی شکست کا بدلہ چکانے کا نشہ ہی کچھ اور تھا۔ اسی دوران کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ بھولو برادران کے مخالفین اس مقابلے کو ’فکسڈ میچ‘ قرار دینے لگے، اگرچہ انوکی خود اس بات کی تردید کر چکے تھے کہ یہ مقابلہ فکسڈ نہیں تھا۔ 
اس داغ کو مٹانے کے لیے جھارا پہلوان نے مزید کشتیاں لڑیں اور ناقابل شکست رہے۔ 
لیکن دوسری جانب وہ پہلوانی کے وہ بنیادی سبق بھولنے لگے جو گاما اور امام بخش پہلوان کی روایت تھے۔ گاما پہلوان کا ماننا تھا کہ پہلوانی طاقت نہیں برداشت کا نام ہے لیکن جھارا پہلوان کامیابی کے نشے میں اتنا بہک گیا کہ اس کو راہ راست میں لانے کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی رہیں۔ 

جھارا پہلوان کے جنازے کا منظر 

شاہد نذیر چوہدری اپنے ایک طویل مضمون ’وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی‘ میں سنہ 1981 کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں: 
’ایک روز جھارا ٹیکسالی کے باہر ایک کباب فروش کے پاس کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں خمار سے بھری تھیں اور بدن میں اینٹھن بڑھی ہوئی تھی۔ نشہ کی انتہا کا اثر تھا کہ کبابوں کی اشتہا سے کباب فروش کے تمام کباب ہڑپ ہوگئے۔ جھارا سارے کباب کھا گیا۔ یکایک اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور قے کرنے لگا۔ اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے جب انکشاف کیا کہ جھارا کو ہیروئن کی لت پڑ گئی ہے تو ’بھولو برادران‘ کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔
جھارا پہلوان ابھی عروج کے نشے میں ہی تھا کہ وہ نشے کی دلدل میں پھنسنا شروع ہوگیا۔ اس پر داداگیری اور بھتہ لینے کے الزامات بھی عائد ہونا شروع گئے۔ 
بھولو پہلوان نے ان سے ناراضی کا اظہار بھی کیا لیکن دنیا گاما پہلوان  کے خاندان میں کشتی کے آفتاب کو غروب ہوتا دیکھ رہی تھی۔ 
اسی دوران جھارا پہلوان کی شادی گوگا پہلوان کی بیٹی سائرہ بانو سے کر دی گئی، جو سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی بھی کزن ہیں۔ 
خاندان کے بزرگوں کی جانب سے انہیں دوبارہ اکھاڑے میں لانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ سنہ 1984 میں انہوں نے اپنی آخری کشتی ملتان کے زوار پہلوان سے لڑی جن سے وہ اپنے ابتدائی دور میں نبرد آزما ہو چکے تھے۔ 
یہ مقابلہ برابری پر ختم ہوا۔ جھارا پہلوان ناقابل شکست رہے لیکن اس کے ساتھ ہی گاما پہلوان اور بھولو برادران کی پہلوانی کا آفتاب بھی غروب ہوگیا۔ 
جھارا پہلوان نے اکھاڑے کو بالکل خیرباد کہہ دیا۔ 

انوکی نے جھارے کے بھتیجے ہارون عابد کو اپنی شاگردی میں لیا

11 ستمبر 1991 کو صرف 31 برس کی عمر میں محمد زبیر عرف جھارا پہلوان چل بسے اور پہلوانی کی دنیا کا ایک ٹمٹماتا ستارہ بجھ گیا۔ 
وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اب  جھارا پہلوان کی موت کے 28 سال بعد ان کے بھتجے ہارون عابد کو اسی انتونیو انوکی پہلوان نے اپنی شاگردی میں لیا ہے اور بھولو برادران کا خاندان اس کی بدولت پہلوانی میں اپنی ایک نئی شمع روشن ہونے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ 

شیئر: